میٹھی جیل(10)
27 ستمبر 2018 2018-09-27

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کیساتھ ہی حکومت سازی مکمل ہو گئی ہے۔ نو منتخب حکومت کی ترجیحات اور حکمت عملی و طریقہ کار کا جائزہ لیے بغیر ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر رائے قائم کرنا اور لکھنا غیر مناسب ہے لہٰذا حکومت کے پہلے 100 دن امریکا یاترا اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی زندگی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج دسویں قسط پیش خدمت ہے۔

                                                                                              پاکستان پہنچنے کے بعد لوگوں کی طنزیہ نگاہیں ہر جگہ وحید کا پیچھا کرتیں کیونکہ سب کو امریکا کے ساتھ اس کے یکطرفہ معاشقے کا علم تھا اور سب کو پتہ تھا کہ ملائیشیا اور بنکاک کے چکر وہ انکل سام کے دیس میں جانے کے لئے کاٹ رہا ہے،کچھ دوستوں نے تو منہ سے کہہ بھی دیا کہ اب چھوڑو باہر جانے کی باتیں بہت دھکے کھا لئے اب یہیں جو کام ملتا ہے کرو اور اپنے گھر والوں کے پاس رہو۔تاہم وحید نے یہ سب باتیں اور طنزیہ نظریں برداشت کیں اور دوبئی کی تیاری کرنے لگا لیکن پھر اس کی ملاقات ایک ایجنٹ سے ہوئی جس نے اسے بذریعہ قطر،لندن ،امریکا جانے کے لئے جھوٹے سچے کاغذات تیار کرکے دینے کا وعدہ کیا۔ بس پھر کیا تھا محکمہ مال کے پٹواری سے مل کر جائیداد کے کاغذ بنوائے پھرایک بینک افسر کی مدد سے ایک بینک سٹیٹمینٹ بھی بنوائی ،ملائیشیا کے فوٹو سٹوڈیو کے کاغذات کی مدد سے اس نے ایک بزنس وزٹ ترتیب دیا جس کے تحت اس نے براستہ دوہا،لندن سے نیویارک جانا تھا ۔پچھلے تین سالوں کی دیگر ممالک میں خواری اس کے کام آئی او ر اسے ان تین جگہوں کے ویزے بھی مل گئے ،خوشی کے مارے اسے رات کو نیند نہیں آئی خلاف توقع تھوڑی بہت دقت کے بعد وہ نیویارک ائیرپورٹ سے قانونی طور پر امریکا میں چھ ماہ کے لئے داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ایک مرحلہ ختم ہوگیا تھا لیکن اس کی مشکلات ختم نہیں ہوئی تھیں۔یہ ضرور ہے کہ اس کے ایک رشتہ دار نے اسے ڈونٹ بنانے والی چین میںکام دلادیا تھا اور سر چھپانے کا آسرا بھی تھامگر اس کے پاس ویزا صرف چھ ماہ کا تھا جس کے بعد وہ امریکا رہ تو سکتا تھا لیکن وہ غیر قانونی تارکین وطن کی فہرست میں شامل ہوجاتا۔اس دوران اس کے رشتہ دار نے اپنی رہائش تبدیل کی اور اسے بتایا بھی نہیں اور اکیلے ایک نئی جگہ پر منتقل ہوگیا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ سڑک پر آگیا، وحید نے نیویارک کی سردیوں میں دسمبر ، جنوری کی راتیں ایک گلی میں کوڑے دان کی آڑ میں سڑک پر کارٹن بچھا کر دو جیکٹ پہن اور ایک اوپر ڈال کر بسر کیں ۔ یہ راتیں اسے ہمیشہ یاد رہیں،اب جبکہ وہ قسطوں پر ہی سہی ایک گھر کا مالک ہے اسے وہ دن آج بھی اسی طرح سے یاد ہیں جیسے یہ کل کی بات ہو،بڑی مشکل سے ایک اور دوست کے ساتھ مل کر ایک کمرے میں رہائش کا بندوبست ہوا لیکن اس دوران اس کا ویزا ختم ہوگیا ۔یہ ایک مسلہ تھا لیکن اتنا بڑا نہیں کیونکہ امریکا کی اکانومی انہی تارکین وطن کی بدولت چلتی ہے کہ وہاں افرادی قوت کی عدم موجودگی بھی ایک مشکل تھی کہ امریکی سفیدفام صرف دفتر کی نوکری کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ افریقن امریکن تو سرے سے کام کرنا ہی پسند نہیں کرتے ۔اب اتنی دفتری نوکریاں تو وہاں نہیں ہوتیں جبکہ کام نہ ملنے کا بتا کر آپ کو سوشل سکیورٹی کی طرف سے گذارہ الاونس ملتا ہو تو کام کرنے کی خواہش کیوں ہوگی؟

لہذا گیس اسٹیشن (پٹرول پمپ)،سیون الیون، کار واش اور دیگر مشکلات کے لئے غیرقانونی تارکین وطن ہی کام کیا کرتے تھے، ایشیائی اور لاطینی ،سپینش کی وہاں پر وہی حیثیت ہے جو کسی زمانے میں مشکل اور جسمانی محنت سے متعلق کام کے حوالے سے پنجاب اور سندھ میں پختونوں کی ہوا کرتی تھی۔ٹرمپ کی آمد سے پہلے امریکا میں غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑے جانے کا خوف نہیں تھا صرف یہ تھا کہ وہ بینک اکاونٹ ، ڈرائیونگ لائسینس اور سوشل سکیورٹی کارڈ وغیرہ حاصل نہیں کر سکتے تھے اور ان کے مالکان انہیں ریاستی قانون کے مقررہ کردہ فی گھنٹہ اجرت سے کم نقد ادا کرتے جس سے دونوں کے گلشن کا کاروبار چلتا رہتا ،ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیروزگاری کم کرنے کے لئے جہاں دیگر اقدام کیے گئے وہاں ان غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے بھی سختی کی گئی مگر اب شاید حالات معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔بات 2001کی ہورہی ہے کہ وحید کا ویزا ختم ہوچکا تھا اور وہ غیر قانونی طور پر وہاں رہ رہا تھا،نائن الیون کا واقعہ ہوا جس نے امریکی طرز معاشرت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ، آج بھی وہاں کی دیسی کمیونٹی اس واقعہ کو گیارہویں شریف کا نام دیتی ہے ۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سانحے نے پکڑ دھکڑ اور خوف وہراس کی فضاپیدا کردی تھی، باریش مسلمان بطور خاص مشکل کا شکار تھے کئی مسلمانوں نے سکھوں کے علاقوں میں رہائش اختیار کی کہ محض داڑھی کی وجہ سے نہ پکڑے جائیں ۔وحید کے لئے زندگی کے مشکل ترین دن تھے گو اس سے پہلے بھی اس نے مشکلات دیکھی تھیں ، لیکن یہ وہ وقت تھا جب کوئی کسی کا آسرا بننے کو ہاتھ پکڑنے کوتیار نہ تھا بہت سارے دیسی بالخصوص پاکستانی اور مسلمان ادھر ادھر ہوگئے۔ وحید نے بھی نیویارک چھوڑنے کافیصلہ کیا اور کسی نہ کسی طرح بارڈر پار کرکے کینیڈا چلا گیا اورسوچا کہ شاید وہ یہاں پر کسی طرح اپنا نظام چلانے میں کامیاب ہوجائے گا ،لیکن نیویارک کی بارونق زندگی دیکھنے کے بعد کینیڈا میں اجاڑ ،سنسان دور دراز آبادیاں اس کے دل کو نہ بھا ئیں ادھر کام کاج بھی کوئی خاص نہیں ملا تو واپسی کا سوچا۔ واپسی اتنی آسان نہیں تھی جتنا آسان کینیڈا آنا تھا کہ آتے ہوئے تو اس نے پناہ لینے کی درخواست کا فارم لیا تھا اور اس کی بنیاد پر اسے داخلہ مل گیا کہ اس وقت بارڈر پار کرنے والوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں ،اور اس وقت کسی ویزا کی ضرورت نہ تھی مگر امریکا میں واپس داخل ہونے کے لئے امریکی حکام ویزے کے بغیر کیونکر کسی کو داخلہ دیتے ۔ اس نے وینکور اور ٹورنٹو کے درمیان انسانی سمگلروں سے رابطے کیے بالاخر ایک سکھ نے ہامی بھر ی کہ وہ پچیس سو ڈالر ز کے عوض اسے تین باربارڈر پار کرانے کی کوشش کرے گا اور اگر وہ کامیاب نہ ہوسکا تو وہ اسے پیسے واپس کردے گا۔ پہلی کوشش کے طور پر اسے بارڈر کے قریب ایک علاقے میں لیجایا گیا جہاں سے ٹرین کینیڈا سے امریکا جاتی تھی اور اس پوائنٹ پر اس کی رفتار بہت کم ہوجاتی تھی اسے یہ بتایا گیا کہ سرحد پار کرنے سے پہلے ٹرین سست ہوگی تو اسے بھاگ کر اس میں چڑھنا تھا جبکہ سرحد پار کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اس کی رفتار کم ہوگی تو اتر جانا،یہ سب کام اسے ٹرین اور سرحدی محافظوں کی نظروں سے بچ کرکرنا تھا،دوسری جانب اسے کسی ٹیکسی ڈرائیور نے پک کرکے سیاٹل تک پہنچانا تھا۔وہ مسلسل تین دن تک وہاں جاتارہا لیکن قسمت دیکھئے کہ ان دنوں ٹرین کی رفتار کم نہیں ہوئی اور اسے واپس لوٹنا پڑا۔ دوسری کوشش میں اسے ایک گاﺅں کے پاس کار سے اتارا گیا کہ وہ کھیتوں کو پار کرکے باڑ سے چھلانگ لگائے گا اور پھر ایک کچی اور پھر پکی سڑک پار کرکے تیسری پکی اور بڑی سڑک پر ٹیکسی کا انتظار کرےگا۔ رات کے اندھیرے میں وہ اندھا دھند بھاگتا چلاگیا لیکن اسے راستے کی مشکلات کا اندازہ نہ تھا ، پتہ اس وقت چلا جب کسانوں کے کتے اس کے سر پر تھے ،کتوں کے بھونکنے اور دوڑنے کی آوازیں اس کے بھاگنے کی رفتار بڑھا رہی تھیں ۔ (جاری ہے)


ای پیپر