تماشے کیا کیا……؟
27 اکتوبر 2020 (12:10) 2020-10-27

یوں تو وطن عزیز میں ہر دور میں تماشے لگتے چلے آرہے ہیں۔ کچھ برسر زمین اور عیاں اور کچھ زیر زمین اور نہاں۔ تاہم تحریک انصاف کے 26ماہی دور اقتدار کے دوران جو تماشے لگائے گئے ہیں یا لگائے جا رہے ہیں ان کا پاکستان کی 70سالہ ماضی کی تاریخ میں کوئی ثانی نظرنہیں آتا۔ اب چند دن قبل کراچی میں مسلم لیگ ن کے راہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے لیے جو تماشہ کیا گیا ہے کیا کوئی اور واقعہ اس کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ قطعاً نہیں یہ الگ بات ہے کہ 18اکتوبر کو PDMکے کراچی میں منعقدہ بڑے اور کامیاب جلسے کے اگلے روز کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو کراچی کے ایک ہوٹل کے کمرے سے جہاں وہ اپنی اہلیہ محترمہ مریم نواز شریف کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے کمرے کا دروازہ توڑ کر گرفتاری کا جو تماشہ لگایا گیا وہ فلاپ ہی نہیں ہوا بلکہ حکمران جماعت تحریک انصاف کی سُبکی کا باعث بھی بنا ہے۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ہوٹل کے کمرے کے دروازے توڑ کر گرفتار کرنا بلاشبہ ایک بڑی خبر تھی۔ لہٰذا اس کو میڈیا میں اتنی تشہیر ملی کہ اس واقعے یا تماشے کے تمام کردار خواہ عیاں تھے یا نہاں، پلے بیگ تھے یا ظاہر باہر پردہ سکرین پر موجود تھے، نمایاں ہوکر اسطرح سامنے آگئے کہ ان کا چھپنا چھپانا یا کسی اور کو اپنی جگہ سامنے کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ یہ واقعہ اس طرح منفرد گردانا جا سکتا ہے کہ جہاں پاکستان کی تاریخ میں پہلے سے اس جیسی کوئی مثال موجود نہیں وہاں یہ بھی غیر معمولی صورت حال ہے کہ آئی جی سندھ سمیت سندھ پولیس کے کم و بیش 40 اعلیٰ افسران اپنے عہدوں پر کام جاری رکھنے کے بجائے ایک ہی وقت اور تاریخ سے طویل رخصت پر جانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اس کی تفصیل الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا اور یوٹیوب چینلز پر اتنی وضاحت اور صراحت کے ساتھ آچکی ہے کہ اس کے کسی بھی پہلو کو چھپانا یا اس پر پردہ ڈالنا ممکن نہیں رہا۔ 

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کیوں گرفتار ہوئے؟ کیا ان کا جرم اتنا سنگین یا اتنا بڑا تھا کہ انہیں علی الصبح فائیو سٹار ہوٹل کی چودہویں منزل کے ایک کمرے کے دروازے توڑ کر جہاں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے، چادر اور چاردیواری کے تحفظ کو پامال کرتے ہوئے اس بھونڈے انداز میں گرفتار کیا جانا ضروری تھا؟ مان لیا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے اپنی اہلیہ محترم مریم نواز شریف کے ہمراہ قائد اعظم کے مزار پر حاضری کے دوران قائد کی قبر کے گرد لگے آہنی جنگلے پھلانگتے ہوئے قبر کے سرہانے پہنچ کربعض نعرے لگائے اور اس طرح مزار قائد کی حرمت اور تقدیس کو مجروح کرنے کے جرم کے مرتکب ٹھہرے۔ لیکن سوال پھر وہی کہ کیا کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف مقدمے کے اندراج اور گرفتاری کے لیے اس طرح کا تماشہ لگانا اور صوبے کی پولیس کے سربراہ کو ایک مستقل ریاستی ادارے کے اہل کاروں کی طرف سے شرمناک انداز میں دباؤ کا نشانہ بنایا جانا ضروری تھا؟۔اس افسوس ناک معاملے یا واقعے کی تمام گرہیں کھل چکی ہیں جن کی وجہ سے آئی جی پولیس سندھ مشتاق مہر چھٹی کی 

درخواست دینے پر مجبور ہوئے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے صوبے کی پولیس کے کم و بیش تین درجن اعلیٰ پولیس افسران نے بھی چھٹی کی درخواستیں دینا ضروری سمجھا۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار سمجھے جانے والے ایک وفاقی وزیر، گورنر سندھ اور کچھ دوسرے اعلیٰ عہدے داران نے اپنے طور پر یا اپنی جماعت کے سربراہ جو وزارت عظمیٰ کے بلند ترین منصب پر فائز ہیں کی ہدایات کے تحت کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے لیے یہ غیر مناسب، غیر مہذب اور ہر لحاظ سے قابل مذمت انداز اپنایا تو اس بارے میں بھی میڈیا میں یہ رپورٹیں آچکی ہیں کہ اس ساری کارروائی کی مانیٹرنگ اسلام آباد میں بیٹھے وفاقی وزیر کر رہے تھے اور ہر لمحہ جناب وزیراعظم کو باخبر رکھے ہوئے تھے۔ 

آخر عمران خان کی حکومت کے لیے مسئلہ کیا تھاکہ وہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکی مبینہ طور پر ایک قابل ضمانت معمولی جرم میں گرفتاری کے لیے اس انتہا پر جانے کے لیے تیار ہوئے۔ اصل میں حکمران جماعت کے قائدین کی یہ انتہائی کوشش ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد PDMمیں شامل جماعتوں کو باہمی اختلافات میں اس طرح اُلجھایا جائے کہ اتحاد کا وجود بے معنی ہو کر رہ جائے۔ PDMکے گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں کے کامیاب ترین انعقاد کے بعد حکمران جماعت کی فکر مندی اور گھبراہٹ میں اضافہ ہونا لازمی امر تھا۔ اسے سندھ میں جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے وہاں کے دارالحکومت کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کی صورت میں اچھا موقع دکھائی دیا کہ اس کی ذمہ داری سندھ کی پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت میں ڈال کر PDMکی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کے بیج بوئے جا سکتے ہیں۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اس بھونڈے انداز میں گرفتاری کا معاملہ اس طرح میڈیا کا انتہائی زیر بحث موضوع بنا ہے کہ اتنے دن گزرنے کے باوجود اس کا ہر طرف تذکرہ ہو رہا ہے۔ بلاشبہ جب ہم کسی بھی معاملے کو بد نیتی کے ساتھ آگے لیکر چلنے یا Tackle کرنے کے کوشش کرتے ہیں تو پھر وہ معاملہ ایک سنجیدہ مسئلے یا معاملے کی صورت میں سامنے آنے کے بجائے ایک تماشے کی شکل میں سامنے آتا ہے اور اس کے بارے کہا جا سکتا ہے "کہ تماشہ دکھا کر مداری گیا"

سچی بات ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دور جسے قائم ہوئے 26ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے، کئی ایسے معاملات وقو ع پذیر ہوئے ہیں جنھیں وزیر اعظم جناب عمران خان سمیت حکومتی اکابرین ایک کھیل تماشہ سمجھ کر ان کا سامنا کرتے رہے ہیں یا کر رہے ہیں اور اس کا نتیجہ انہیں ہمیشہ منہ کی کھانے کی صور ت میں بھگتنا پڑا ہے یا پڑرہا ہے۔ یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا معاملہ ہے کہ اسے آسانی کے ساتھ بھلایا جا سکے کہ اس کے اثرات اور نتائج اتنے وسیع اور بھیانک ہیں کہ ان کو بھلانا ممکن ہی نہیں۔ میرا اشارہ چینی کی خود ساختہ قلت اور اس کے نرخوں میں سال، ڈیڑھ سال کے دوران کم از کم 120%اضافے کی طرف ہے۔ اس ہوش ربا اضافے کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے ان سے چینی مافیا نے جہاں اربوں روپے بٹورے ہیں وہاں حکومت میں اثر و رسوخ رکھنے والے شوگر ملز مالکان جن میں عمران خان کے ایک زمانے کے رفیق خاص اور محسن جناب جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کا خانوادہ بطور خاص نمایاں ہیں انہوں نے جہاں چینی کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران کم و بیش 100%اضافہ کرکے اربوں روپے کا منافع کمایا وہاں انہوں نے موجودہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اوراس وقت کے وزیر خزانہ جناب اسد عمر کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کے فیصلے کے تحت پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں سے اربوں روپے کی سبسڈی بھی لی۔ اسے عوام کے ساتھ رچایا گیا ناٹک یا تماشا ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ چینی کی برآمد کی اجازت دیکر ملز مالکان کو سبسڈی تو دلوا دی گئی لیکن ساتھ لگائی گئی اس شرط کہ چینی کی رسد میں کمی نہیں آنے دی جائے گی پر عمل درآمد کرانے کے لیے کوئی تسلی بخش انتظامات یا موثر مانیٹرنگ کا بندوبست نہ کیا گیا۔جس کی وجہ سے چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے شوگر مافیا کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی۔ دو تین دن قبل مسابقتی کمیشن کی رپورٹ بھی آچکی ہے جس میں شوگر ملز کے گٹھ جوڑ کو چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عوام کی جیبوں سے صرف چینی کی مدمیں 70ارب روپے کی رقم بڑی کامیابی سے اُڑائی گئی ہے۔ (جاری ہے……)


ای پیپر