فرانس کی ہمت سے اقتدار کے لالی پاپ تک
27 اکتوبر 2020 (12:05) 2020-10-27

خالد بن ولید، محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی ہمارے ہی ہیروز ہیں اور بلاشبہ  اس بات پر فخر ہمارا فرض ہے  کہ ہمارا تعلق ایک ایسی قوم سے ہے جس میں مجاہدین پیدا ہوئے اور جنہوں نے اپنی غضب سے کفر کے ایوانوں پر لرزہ طاری کیا۔ یہ بات ہمارے لئے تاحیات باعث فخر رہے گی کہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمانوں نے علم کے میدان میں ایسے ایسے کام کئے ہیں جن کو دیکھ کر مغرب تو کیا مشرق اور شمال و جنوب تک حیران ہیں۔  اس حقیقت سے کسی کے بھی ہزار اختلاف ہوسکتے ہیں لیکن ہے یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہمارے نبیؐ نے اس دنیا کو جو معاشرہ اور افراد دئیے انسانی تاریخ میں کوئی نہیں دے سکتا۔ 

آپ آج کل اگر کسی بھی محفل میں سینہ تان کر یہ کہیں گے کہ علم و عمل کے میدان میں یہ مسلمان ہی تھے جن کی وجہ سے دنیا نے آگے بڑھنے کے گْر سیکھے تو سامنے سے یہ اعتراض ضرور آئے گا کہ وقت بدل گیا ہے اب ایسا ممکن نہیں رہا۔

 آپ نبی مہربانؐ کی سیرت پر تحقیق کرکے دیکھ لیجئے آپ کو اندازہ ہوجائیگا کہ انسانی تاریخ میں وہ واحد انسان تھے جن کی وجہ سے انسانوں کو  حقیقت میں نجات مل گئی لیکن آج بھی کروڑوں انسان ایسے ہیں جو جانتے ہوئے بھی منکر ہیں۔ آپ کوئی بھی مثال لے اور دے سکتے ہیں۔ یہ مثال دیتے وقت آپ کے اردگرد بے شمار لوگ ایسے ہونگے جو آپ پر لعنت یہ کہہ کر بھیجیں گے کہ ہم میں اہلیت کا فقدان ہے۔ ہم آج تک سوئی ایجاد  نہیں کرسکے تو کیسے ہم اْن لوگوں کو کوس سکتے ہیں جن کے ہم پراڈکٹس استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ مثال دیتے وقت صابن سے لے کر کھانے کی چیزوں تک ہر چیز کا حساب تک لگائیں گے لیکن اس مایوسی سے کبھی نہیں نکلیں گے کہ ہم ادھر کے ہوسکتے ہیں نہ ادھر کے۔ 

یہ بات کہتے ہوئے ہمارے بے شمار مسلمان بھائی بھی فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم ترقی یافتہ ممالک پر کبھی بھی تنقید نہیں کرسکتے اور وجہ جس کی یہ ہے کہ ان کے پاس جدید ہتھیاروں سے لے کر روزمرہ استعمال کی وہ تمام چیزیں موجود ہیں جن کے حصول کے لئے ہم ان کے مختاج ہیں۔  میرا سوال یہ ہے کہ بالفرض ہم اپنی کم ظرفی، ذہنی پستی اور علم سے دوری کی وجہ سے ان کے مختاج ہیں بھی تو کیا نبی پاکؐ کی توہین پر خاموشی اختیار کرلینا بھی جائز ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے ہم ایک حقیر سیاسی رہنما کی بے عزتی پر زمین و آسمان ایک کردیتے ہیں لیکن جن کی وجہ سے کائنات کی تخلیق کی گئی ہے ان کی توہین پر ہم ٹس سے مس نہیں ہوپاتے۔ 

میں حیران ہوں کہ ترقی کا یہ پیمانہ کس نے، کیسے اور کیوں طے کیا کہ جس میں مذہب کو دھیرے دھیرے مرکزی دائرے سے نکالا جارہا ہے۔ آپ نے اکثر یہ بھی سنا ہوگا کہ مغرب نے ترقی اس لئے کی کہ وہاں شدت پسند سوچ  کا خاتمہ ہوا اور عام 

لوگوں نے اپنی زندگی میں اعتدال  شامل کیا۔ اعتدال کی تعریف یوں بیان کی گئی کہ وہاں لوگ ذاتی توہین سے لے کر اجتماعی بے عزتی تک کچھ بھی دل پر نہیں لیتے اور ہمارے نام نہاد اکابر یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ قرآن پاک اس زمانے میں ایڈجسٹ ہی نہیں ہوسکتا۔ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ اسلام قدیم زمانے کا وہ دین ہے جو صحراؤں کی ویرانیوں اور فلک بوس پہاڑوں میں نکلتے سبزو وگل کے لئے ہے لیکن جہاں انسان بستے ہوں وہاں اسلام کا کیا لینا دینا۔ شدید حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے پچاس سے زیادہ اسلامی ممالک بھی اپنی بھرپور کوشش میں لگے ہیں۔ 

آپ کسی دن اسلام پر بحث شروع کیجئے آپ کو ارد گرد ہر دوسرا انسان عالم ملے گا۔ دلیل کی غیر موجودگی میں زمین و آسمان کے قلابے ملاکر اسی پر اکتفا کرے گا کہ اسلام بس انفرادی عمل کا ایک نام ہے اس کو دوسروں پر نافذ کرنا انتہائی غیر ضروری عمل ہے۔ ہماری محفلوں اور ہمارے فورمز میں جب بھی کسی مجاہد اسلام کا تذکرہ ہوتا ہے تو وہاں موجود لوگ مسکراہٹ چہرے پر سجاکر یہی تاثر دیتے ہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے اب ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے اسلام کی ایڈجسٹمنٹ ہوہی نہیں سکتی۔ یہ سوچ آئی کہاں سے اور اسی سوچ کو پروان کون چڑھا رہاہے۔ ایسے تاویلات اور ایسی باتیں ہونگی تو کبھی قرآن پاک کو جلایا جائے گا اور کبھی نبی پاکؐ کے خاکے شائع ہونگے۔

اس پر بحث کرنے کے لئے ایک بات کو سمجھنا ازحد ضروری ہے کہ یہ لڑائی وسائل کی کم اور نظریات کی زیادہ ہے۔ مغرب اگر ہمارے نبیؐ کے خاکے شائع کرتا ہے تو یہ انتہاء ہے اور اس انتہاء کے آگے ہماری شدید بے بسی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سوشل میڈیا فورمز پر مسلمان نوجوان کیا کر رہے ہیں کسی نے آج تک اس پر سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی ہے۔ ذاتی دوستیوں سے لے کر اجتماعی فحاشی تک کون سا ایسا گھناؤنا کھیل ہے کہ جس میں مسلمان نوجوان موجود نہیں۔  میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم ابھی علم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں اور اسی وجہ سے ہماری نسلیں بھی صرف وقت ضائع کرنے پر اکتفاء کررہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوسکتا کہ نبیؐ کی توہین پر خاموشی اختیار کی جائے۔ کاروبار کی دنیا میں ہم سے بے شک کوئی لین دین نہیں کررہا ' ہم مقروض ہیں ' بھوکے ہیں ' پیاسے ہیں ' ہم غربت کی انتہاؤں پر ہیں اور ستم بالائے ستم ہمارے ملک کے اندر سات عشروں سے حالات خراب ہیں لیکن  ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے جو اگر نبیؐ کی توہین پر حرکت میں آگئی تو اسی دن سے دنیا کی کایا پلٹ جائے گی۔ 

بھوک اور پیاس کی صعوبتوں کی وجہ سے اتنی شدید گستاخی پر چپ رہنا تاریخ کی سب سے بڑی بے ایمانی ہے۔ ہم خاموش اس لئے رہ جاتے ہیں کہ ہمیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ لالی پاپ دیا گیا ہے جس کے ساتھ ہم اتنے مصروف ہوچکے ہیں کہ ہم نے خود ہی اپنی زندگی سے دین کو نکال دیا ہے۔ یہ لالی پاپ جس کی وجہ سے سیاسی صف بندیاں، سیاسی نظریات اور سیاسی اکابرین ہی سارا دن ہمارے فوکس میں ہوتے ہیں زندگی بھر ہمارے پاس رہے گا۔ اسی لالی پاپ کی وجہ سے آج ہمارے نبیؐ کی شان میں گستاخی ہورہی ہے لیکن ہم چپ ہیں۔ اقتدار کا یہ لالی پاپ پوری مسلمان دنیا میں دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پچاس سے زیادہ اسلامی ممالک ہیں لیکن جس تیز حرکت کی ضرورت ہے وہ کسی میں بھی نہیں۔ 

آپ آج تحقیق کیجئے اقتدار کے اسی لالی پاپ کے لئے دنیا میں شدید لڑائیاں مسلمان ممالک میں آپ کو نظر آئیں گی اور کہیں کہیں تو اقتدار کا کھیل بھی مغرب سے کنٹرول ہوتا ہوا نظر آئے گا۔ ایسے میں ہم کیسے نبیؐ سے محبت کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں پراڈکٹس کے بائیکاٹ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ مصلحتوں کے اس گرداب سے اب نکلنا چاہئے۔ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں جو مسلسل گستاخی ہورہی ہے اس کے بدلے ہمیں بھی کھل کر سامنے آنا ہو گا۔ فی الحال اگر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے تو یہ تاریخ کے ساتھ ہمارا سب سے بڑا انصاف ہوگا۔


ای پیپر