ضد آئین بن گئی
27 اکتوبر 2020 (12:02) 2020-10-27

فرانسیسی صدر پر لعنت کے بعد: قائدکے مزار پر نعرے بازی، آئی جی کا مبینہ اغواء،سندھ پولیس کے 50سے اوپر اعلیٰ حکام کی احتجاجی چھٹی کی درخواست، بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس، آرمی چیف کا بلاول بھٹو کو فون، مداخلت اور تحقیقات کی یقین دہانی،سندھ حکومت اور کور کمانڈر کراچی کی سنگین معاملہ پر تحقیقات، اس کے نتیجے کا انتظار اور اس پورے وقوعہ میں ”وزیراعظم“ کہیں مثبت کردار ادا کرتے دکھائی نہیں دیئے۔ آرمی چیف آگ بجھانے جبکہ وزراء کا ٹولہ جلتی پر تیل ڈالنے میں مصروف ہے۔ سی سی پی او لاہور سمیت ساری حکومتی مشینری بھارتی فلم کے کردار جے کانت شنکرے دکھائی دینے لگی۔ 

یاد رہے کہ جناب بھٹو کے دور میں پولیس کی ہڑتال، تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر تھی نہ کہ آئی جی کے اغوا اور تذلیل پر۔ اگر آج تنخواہوں کے مطالبے پر ہڑتال ہو تو ساری سرکاری مشینری ہڑتال پر چلی جائے۔ 

فواد چودھری کہتے ہیں کہ بلاول کو ”وزیراعظم“ سے اپیل کرنی چاہیے تھی یہ جانتے ہوئے بھی کہ بلاول بھٹو نے نہیں بلکہ ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے آرمی چیف نے بلاول کو فون کیااور معاملے کو ہینڈل کیا۔ 

پنجاب میں چیف سیکرٹریز اور آئی جی صاحبان کی آدھی آدھی درجن تبدیلیاں صرف دو سال میں کر کے اور سی سی پی او کو آئی جی کے عہدے پر تعینات کر کے وفاقی حکومت پنجاب کے نظام کو تو زمین بوس کر چکی تھی۔

بقول میاں نواز شریف ”وزیراعظم“ سوغات ہے تو آگے پنجاب میں دی گئی ”سوغات“ عثمان بزدار ان حالات میں فرماتے ہیں کہ 11 جماعتوں کا اتحاد اکیلے عمران خان کے سامنے بے وقعت ہے جبکہ ق لیگ علیحدہ ہو جائے تو عمران خان وزیراعظم سے عام آدمی ہوجاتے ہیں اور ویسے بھی ’چور تے لاٹھی دو جنے میں تے بھائیا کلے‘ والی بات ہے۔ عمران کے ساتھ لاٹھی بھی ہے جبکہ پی ڈی ایم اور عوام اکیلے ہیں۔ 

1977ء میں جناب بھٹو صاحب کی حکومت کے خلاف تحریک چلی جس میں جناب بھٹو صاحب کو مشورہ دیا گیا کہ آپ بھی پیپلزپارٹی کو جلسے اور جلوس کی ہدایات کریں تاریخ ثابت کر چکی ہے کہ پیپلزپارٹی وطن عزیز کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر یاد رکھی جائے گی مگر جناب بھٹو صاحب نے جواب دیا کہ میں ملک میں خانہ جنگی نہیں کرانا چاہتا جبکہ وزیراعظم ٹائیگر فورس کو متحرک کرنے کے در پے ہیں۔ بہرحال ”وزیراعظم“ نے اس حوالے سے انکار تو کیا مگر کرونا کا بہانہ بنا کر کہ کرونا کی آڑ میں اپوزیشن کو بھی روکا جا سکے حالانکہ پی ٹی آئی میں اب اتنا دم خم نہیں اور نہ ہی کوئی اس میں شامل ہو گا کہ وہ جلسے جلوس اوردھرنے دے سکے۔ ”وہ دن گئے جب سیاں جی کوتوال تھے“  (کوتوال ایک باوقار عہدہ ہوا کرتا تھا)  جسے اپنی بھی بہرحال ساکھ بچانا ہے۔ کوئی ایک مشیر کوئی ایک وزیر ایسا نہیں جو ”وزیراعظم“ کو خیر کا مشورہ دے یا پھر ”وزیراعظم“ کے سامنے ستائش تو ہو سکتی ہے مگر حقیقت بیانی نہیں اور امپورٹڈسوغاتیں بھی موجودہ حکومت میں حالات کو خراب کا کرنے کا ذمہ لیے ہوئے ہیں جبکہ پی ڈی ایم نہیں حکومتی کارکردگی کی وجہ سے ملک کی معاشی زبوں حالی، خارجہ امور پرتنہائی اور قوم میں نفاق پیدا کر کے بھارتی ایجنڈے اور خواہش کو پورا کیا جا رہا ہے۔ 

وفاقی کابینہ درجنوں پر مبنی ہے مگر اب چند وزراء اور مشیروں کا ٹولہ کہلانے لگا۔ سندھ پولیس 

بحران میں اگر ”وزیراعظم“ کردار ادا کرنے کی اہلیت یا حیثیت رکھتے تو آرمی چیف کو مداخلت نہ کرنا پڑتی۔ کچھ لوگ اس میں پی ڈی ایم میں دراڑ کی بات کر رہے ہیں اور کچھ کے قریب یہ اسٹیبلشمنٹ فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی جس کو اب صرف فوج کے ذمہ باندھ دیا گیا ہے میں بھی باہمی اعتماد کا فقدان کہتے ہیں۔ آرمی چیف کی صوبوں، اداروں اور حتیٰ کہ افراد کے درمیان ہم آہنگی کی کوشش ہے جبکہ وفاقی وزراء کا ٹولہ تتر بتر قسم کی سیاسی بولیاں اور سمت لے کر کیا مودی کی خواہش پوری کر رہا کہ قوم بکھررہی ہے۔ انارکی اور خانہ جنگی کی سی صورت حال ہے یا اقتدار کی رسہ کشی، ضد اور انا ہمارے ہاں آئین کی حکمرانی پہ سبقت لے گئیں کہ نوبت اب نئے عمرانی معاہدے کے تحت ملک و قوم کی سمت کے تعین پر آ گئی ارتقائی سفر اب فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ نیب، ایف آئی اے، دیگر اداروں کے ذریعے قوم کی آوا ز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ آج لوگ عمران نہیں مریم، بلاول نواز شریف، اچکزئی، اسفند یار، مولانا فضل الرحمن اور مولانا سراج الحق کو سننا چاہتے ہیں۔ شاید اس صورت حال کی نوبت نہ آتی۔ مگر بیروزگاری، بیماری، مہنگائی، زندگی کی بنیادی ضرورتوں کا حسرتوں میں بدلنا اور اس پر حکومتی بے حسی، نااہلیت، تکبر، اداکاری، جھوٹ، لوگوں کا حکومت پر عدم اعتماد، مسائل اور گھمبیرمعاملات پر جگت بازی، تمسخر اڑانا، اپنے آپ کو ساتویں نہیں نویں آسمان پر متمکن سمجھنا ہے۔ اداروں کی مخلصانہحمایت کا یوں چرچہ کرنا کہ اداروں کا اپنا وقار اور غیر جانبداری خطرے میں پڑ گئی، اپوزیشن کی عوام میں پذیرائی اور عوام کا اپوزیشن کی تحریک میں شامل ہونے کا سبب بن گئی۔ اس زعم میں کہ کوئی خاص آواز ان کے ساتھ ہے بھول جاتے ہیں کہ تاریخ میں اداروں کی 35 سال سولو گورنمنٹ رہی مگر عوامی حمایت نہ ہونے اور جدوجہد کے نتیجہ میں خاتمہ کے انجام سے دو چار ہوئیں۔ سیاسی، معاشی آفات اور مصیبتوں کو ٹالنے کے لیے عوام کے پاس صرف جان کی قربانی رہ گئی۔ خواجہ برادران کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلہ کے بعد نیب، شہزاد اکبر، پوری کابینہ اور صدر مملکت کا عہدوں پر باقی رہنے کا کوئی آئینی، قانونی حتیٰ جواز جواز باقی نہیں رہا۔ پی ڈی ایم کے کوئٹہ جلسہ میں اپوزیشن مستحکم اور متحد نظر آئی۔ کاش! وزیراعظم نے چہرے پہ ہاتھ کشمیریوں پر مظالم میں مودی کے لیے پھیرا ہوتا۔ مزید فرماتے ہیں نواز شریف کی واپسی کے لیے بورس جانسن سے بات کروں گا۔ یہ بھول گئے کہ وہ چیئرمین نیب یا ڈی جی ایف آئی اے نہیں ہے۔ پہلی حکومت ہے جو قوم، اداروں اور عوام کو آپس میں لڑا رہی ہے۔  جب آئین اور قانون کی حکمرانی کی جگہ ذاتی خواہش، انا، تکبر اور ضد لے لے تو پھر جو نقصان ہوا کرتا ہے اس کو کسی دوسری معاشرت کے مؤرخین ہی رقم کرتے ہیں۔ مبتلا معاشرت کے ضدی مؤرخین کبھی غیر جانبدار نہیں رہتے لہٰذا ضد نہیں آئین کی حکمرانی درکار ہے۔


ای پیپر