اسلاموفوبیا،امریکی سیاست کی ایک تلخ حقیقت
27 اکتوبر 2020 (11:57) 2020-10-27

پچھلی صدی کے دوران، ہم نے عرب نسل کے افراد کو نشانہ بنانے کی امریکی پالیسیوں کی ایک طویل اور المناک تاریخ دیکھی ہے۔ ڈیمو کریٹک دور ہو یا ریپبلکن دونوں میں ان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں، امیگریشن حکام اور انتظامیہ کے ذریعہ امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان تکلیف دہ پالیسیوں کے علاوہ  بڑی تعداد میں عربوں کو امریکی سیاست کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔ 1983 میں، فلاڈلفیا میں میئر کے لئے انتخاب لڑنے والے ڈیموکریٹ کو اس کے ریپبلکن مخالف نے عرب امریکیوں کی طرف سے چندہ قبول کرنے پر چیلنج کیا تھا، اس نے جواباً چندہ لوٹا دیا۔ 1984 میں صدر کا انتخاب لڑنے والے والٹر مونڈیلے نے عرب نژاد امریکیوں کی امداد واپس کر دی جبکہ 1988 میں مائیکل ڈوکاس نے صدارتی مہم کے دوران ان کی امداد مسترد کر دی۔ اس کے بعد بھی ریپبلکن کانگریس رکن نے سینیٹ کے لئے انتخاب لڑا تھا، اس نے بھی عرب امریکی رہنماؤں سے کہا کہ وہ اس کی انتخابی مہم میں حصہ نہ لیں۔ نائب صدارتی امیدوار سارہ پالن نے ڈیموکریٹک کی طرف سے نامزد امیدوار بارک اوباما کی مخالفت میں عرب اور مسلم شہریوں کے خلاف زہر آلود پراپیگنڈا کیا۔ 2010 میں پہلی بار مسلم کمیونٹی کو کسی قومی انتخابی مہم میں متحرک دیکھا گیا۔ ہاؤس کے سابق سپیکر نیوٹ گنگرچ نے گراؤنڈ زیرو سے تھوڑے فاصلے پر ایک اسلامی کمیونٹی سنٹر بنانے کے خلاف انتہا پسندانہ رویہ اختیار کیا۔ مسلم کمیونٹی کے خلاف متشددانہ اور شر پسندانہ زبان استعمال کرتے ہوئے گنگرچ نے کہا کہ مسلمان امریکہ کو مفتوح قرار دینے کے لئے ”فتح مسجد“ تعمیر کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ اس سال کے کانگریس کے انتخابات میں، 17 ری پبلکن امیدواروں نے ٹی وی پر قابل اعتراض مواد کے ساتھ اشتہارات جاری کئے جن میں ڈیموکریٹس پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ”فتح مسجد“ کے حوالے سے نرم رویہ رکھتے ہیں۔ تاہم ان 17 امیدواروں میں سے صرف دو نے کامیابی حاصل کی۔ تارکین وطن سے نفرت کے جذبات سے دوچار ریپبلکنز نے چائے پارٹی اور برتھر موومنٹ میں مسلمانوں کے خلاف سیاسی تعصب کو ایک اہم موضوع کے طور پر قبول کیا۔ 2012 تک ریپبلکن امیدواروں کی اکثریت نے ابتدائی صدارتی مباحثے کے دوران یہ عہد کیا تھا کہ وہ کسی بھی امریکی مسلمان کو اپنی انتظامیہ میں کسی عہدے پر مقرر کرنے سے انکار کر دیں گے یا کم از کم اس بات پر اصرار کریں گے کہ وہ پہلے امریکہ سے وفاداری کا حلف لیں۔

مٹ رومنی واحد امیدوار تھے جنہوں نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا تھا، بہر حال 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب لڑنے تک مسلم کمیونٹی امریکہ کی معاشی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے عام طور پر مہاجرین، تارکین وطن اور میکسیکنوں کو باہر رکھنے کے لئے دیوار بنانے کا اعلان کیا تو مزید مسلمانوں کو ملک میں آنے سے روکنے اور یہاں رہنے والوں پر گہری نظر رکھنے کا عہد بھی کیا۔ لہٰذا اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں تھی کہ اپنے حلف کے فوراً بعد، صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس میں سات عرب اور مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والے تارکین وطن یا پناہ گزینوں کی آمد پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ یہ بلا جواز تھا۔ پابندی کا شکار ہونے والوں میں زیادہ تر طالب علم، امریکیوں کے اہلخانہ یا کاروباری افراد شامل تھے۔ ایک لاکھ کے قریب بے گناہوں کے ویزے منسوخ کر دیئے گئے انہیں حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ کی گئی اور بہت سوں کو اپنے آبائی ممالک واپس بھیج دیا گیا۔ عدالت کی طرف سے ٹرمپ کے احکامات کو نسلی منافرت پر مبنی اور غیر منصفانہ قرار دے کر معطل کئے جانے پر ٹرمپ نے پابندی میں شامل ممالک کی تعداد کو بڑھانے کے نئے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیے۔ اس کے باوجود اس فہرست میں بڑی حد تک توجہ عرب اور مسلم اکثریتی ممالک پر مرکوز رہی۔ ظالمانہ عمل میں نیا اضافہ ٹرمپ نے امریکہ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی سالانہ تعداد کو اوباما دور کے 1,10,000 سے سے کم کر کے 20,000 کر دیا اور جب اس کی انتظامیہ نے عیسائیوں کے لئے اپنی تشویش کا اظہار کیا تو  پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیوں کو مسلم دنیا اور عرب ممالک تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ یہ پہاڑ صرف ٹرمپ دور میں ہی نہیں ٹوٹا بلکہ یہ صرف ان پالیسیوں کے عروج کا زمانہ ہے جو گزشتہ دہائیوں سے ریپبلکنز کے ادوار میں مسلم کمیونٹی کے خلاف روا رکھی جا رہی تھیں۔ ان پالیسیوں کا ایک یقینی نتیجہ مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے فروغ کی شکل میں نکلا ہے۔ کنواں زہر آلود کر دیا گیا ہے اب اس سے ہونے والے نقصان کو روکنا آسان نہیں ہو گا۔ یہ واضح چیلنج ہے۔ ہمیں اپنی امیگریشن پالیسی کو کسی غیر متناسب بنیاد پر رکھنا چاہئے۔ ہمیں بڑھتی ہوئی دنیا کی طلب کو پورا کرنے کے لئے مہاجرین کے داخلے پر پابندیوں کو نرم کرنا ہو گا۔ ہمیں بارڈر سکیورٹی میں نقائص کا خاتمہ اور عرب دشمنی، مسلم مخالف بیان بازی اور پالیسیوں کا مقابلہ کرنا چاہئے اور ان برادریوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو ان بہتر بنانا چاہئے البتہ سکیورٹی معاملات پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

(بشکریہ: گلف نیوز۔25-10-20)


ای پیپر