”کونسی جمہوریت، چند خاندانوں کی حکمرانی“
27 اکتوبر 2020 (11:52) 2020-10-27

 اپنے ملک کی تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں نے مل کر موجودہ حکومت یعنی عمران خان کی حکومت کو چلتا کرنے کے لیے ایک تحریک کا آغاز کر دیا ہے اوراس تحریک کو نام دیا ہے ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“۔ میں حیران ہو رہا تھا کہ اس ملک کی پوری اپوزیشن کو اپنی تحریک کے لیے کوئی نام ہی اپنی قومی زبان میں نہ مل سکا۔ یہاں سے مجھے ٹوکیو (جاپان کا دارالخلافہ) کے میئر (Mayor) کی بات یاد آگئی۔ میں ٹوکیو میں گھوم رہا تھا، دوپہر ڈھل رہی تھی اور مجھے بھوک لگی ہوئی تھی۔ سامنے ایک بلڈنگ پر بڑا سا ”M“ لکھا ہوا تھا جس کا مطلب تھا میکڈونلڈ(Macdolnad)۔ میں نے سوچا یہیں سے لنچ کر لیتے ہیں،سو اندر داخل ہو گیا۔آپ کے علم میں ہو گا کہ میکڈونلڈ کے دنیا بھر کے تمام ریسٹورنٹس میں یکساں نرخ ہیں۔ جاپان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کے لوگ اپنی زبان یعنی Japaneseمیں بات کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو انگریزی زبان آتی ہی نہیں ہے۔خیر میں نے کھانے کا آرڈر دیا۔ مجھے کھانے کے ساتھ کولڈ ڈرنک اچھی نہیں لگتی سو میں نے پانی کی ڈیمانڈ کی تو کسی کو سمجھ نہ لگے کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ وہ مجھے مینو کارڈ (Menu card) دکھائیں کہ اس میں سے کونسی چیز چاہیے۔ ظاہر ہے اُس میں مختلف کولڈ ڈرنکس کی تصاویر تو بنی ہوئی تھیں لیکن سادہ پانی کی تصویر نہیں تھی۔ سو سارا سٹاف یہ نہ سمجھ سکا کہ مجھے کیا چاہیے۔ خیر اُن کا منیجر آگیا اور اس نے سٹاف سے کہا کہ انہیں کچن میں لے جائیں اور وہاں جو یہ چاہیں انہیں دے دیں۔ وہاں میں نے ایک سادہ گلاس میں پانی ڈالا تو سب قہقہے لگا رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ جاپانی زبان میں پانی کو کیا کہتے ہیں۔دوسرے دن ہمارے وفد کی ٹوکیو کے مئیر (Mayor) کے ساتھ میٹنگ تھی۔ میٹنگ کے دوران میں نے مئیر صاحب سے کہا کہ ٹوکیو ایک فنانشل ہب (Financial hub) ہے۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں لیکن آپ کے ہاں صرف جاپانی زبان بولی جاتی ہے جس سے ظاہر ہے باہر سے آئے لوگوں کو مشکل پیش آتی ہے۔ آپ اپنے لوگوں کو انگلش کیوں نہیں سکھاتے۔مئیر نے انتہائی پُر 

اعتماد لہجے میں کہا کہ ہم کیوں دوسروں کی زبان سیکھیں، مشکل جنہیں پیش آتی ہے وہ ہماری Japaneseسیکھیں۔ تو یہ ہوتی ہیں آزاد اور پُر اعتماد قومیں، لیکن ادھر ہماری سیاسی لیڈرشپ ہے کہ اپنی تحریک کے نام کو ہی انگلش زبان کا پہناوہ پہنا رہی ہے۔خیر یہ تو ہماری صدیوں کی غلامی کی علامات ہیں جنہیں جاتے جاتے بھی عرصہ لگے گا۔ اب ہم بات کرتے ہیں موجودہ ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“ کی۔ ڈیموکریٹک کے معنی ’جمہوری‘ ہے۔

 اس ملک میں جمہوریت کی ٹرم (term) کے ساتھ جو کھلواڑ ہو رہا ہے، اللہ کی پناہ۔ امریکہ کے سولھویں صدر ابرھام لنکن نے جمہوری حکومت کی تعریف بہت سادہ الفاظ میں کچھ یوں کی تھی۔ ”عوام کی حکومت، عوام کے لیے اور عوام سے لائی گئی حکومت۔آپ خود اپنے ملک یعنی علامہ محمد اقبال کے خوابوں کی تعبیر پر نظر ڈالیں۔ اس ارض پاک میں ہر سو اورہر دور میں چند خاندانوں کی حکومت رہتی ہے۔اب ذرا ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM)“ پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ اس موومنٹ کو تین مختلف بڑی پارٹیوں کے لیڈران لیڈ کر رہے ہیں۔ پہلے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو لے لیں۔ کسے معلوم نہیں کہ یہ گرانقدر لیڈر اپنی والدہ مرحومہ کی وصیت کے نتیجہ میں اپنی پارٹی کے چیئرمین بنے ہیں۔ پوری دنیا کی سیاسی پارٹیوں پر نظر ڈال لیں، کہیں کسی پارٹی کا چیئرمین بھی بذریعہ وصیت بنتا ہے۔ موصوف کی والدہ اس ملک کی وزیراعظم رہی ہیں۔ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو بھی اپنے ملک کے وزیراعظم رہے ہیں۔ ان کے والد محترم زرداری صاحب بھی اس ارض پاک کے صدر رہے ہیں۔ ان کی جماعت یعنی پیپلز پارٹی کی سندھ میں دہائیوں سے حکومت ہے اور ابھی چند روز پہلے انہوں نے پی ڈی ایم کے کراچی کے جلسہ کا اہتمام کیا۔ اس ڈیموکریٹک موومنٹ کی دوسری بڑی لیڈر محترمہ مریم نواز شریف ہیں جن کی اکلوتی کوالیفیکیشن (Qualification) یہ ہے کہ وہ نواز شریف کی بیٹی ہیں جو اس ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہے ہیں۔ ان کے چچا شہباز شریف بھی صوبہ پنجاب کے چھ دفعہ وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ سو اس خاندان کی بھی صوبہ پنجاب میں کافی عرصہ حکومت رہی ہے۔ اس موومنٹ کے تیسرے بڑے لیڈر مولانا فضل الرحمان ہیں جو خود تو 2018ء کے الیکشن میں اپنی سیٹ ہار گئے لیکن بیٹے تو وہ بھی ایک سابق وزیر اعلیٰ کے ہیں۔ ان کے والد مولانا مفتی محمود خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ گزشتہ روز 25اکتوبر کو پی ڈی ایم کا جلسہ کوئٹہ میں منعقد ہوا جس کے روح رواں اختر مینگل تھے جو خود بھی کم سنی میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہے ہیں اور عطا اللہ مینگل سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کے فرزند ہیں۔تو صاحبان نظر، یہ ہے اس ملک کی جمہوریت اور یہ ہیں اس کے خاندانی نگہبان۔میری اس تحریر سے آپ بالکل یہ نہ سمجھیں کہ میں عمران خان کی حکومت کو ایک اچھی اور کامیاب حکومت سمجھتا ہوں۔ عمران خان نے تو اپنی دو سالہ حکمرانی میں پوری دنیا کو یہ باور کرادیا ہے کہ نہ تو اُس کا کوئی ویژن (vision) ہے اور نہ ہی کوئی بصیرت۔ ہاں اُس کے دشمن بھی اُسے کرپٹ نہیں کہتے بلکہ نالائق اور نا اہل کہتے ہیں۔

آپ اپنے ملک کی تمام تاریخ پر نظر ڈال لیں کسی کو بھی ”نالائق اور نا اہل“ کا خطاب نہیں ملا۔اُ س میں اچھے حکمرانوں والی کوئی بھی خوبی نہیں ہے۔اُس کی حکمرانی میں پاکستان کی معاشی صورت حال دگرگوں ہے اور تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔چونکہ مردم شناسی تو اُسے چھو کر بھی نہیں گزری اس لیے اُس کی حکومتی ٹیم میں یا تو چالاک و عیاراُمراء و سرمایہ دار ہیں یا باہر سے درآمد شدہ دنیا کے فنانشل اداروں کے نمائندے ہیں جو اس غریب و لاچار قو م کا خون نچوڑ رہے ہیں۔البتہ اُس کی حکمرانی کا ایک قابل ستائش پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ اس ملک کے کرپٹ خاندانوں کی نیندیں اُڑی ہوئی ہیں، اور وہ ہے کہ ہر روز اپنے اس عزم صمیم کا اعادہ کرتا ہے کہ میں اس ملک کے کرپٹ حکمرانوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ  نہیں کرونگا۔ عمران خان ہو یا اس ملک کے دوسرے حکمران خاندان، جب بھی یہ لوگ پریشان حال ہوں تو اس ملک کے غریبوں کو اس کیفیت کو انجوائے کرنا چاہیے کیونکہ اُن کی غربت کا مُوجب یہی لوگ ہیں۔


ای پیپر