گزشتہ کالم کے بعد
27 اکتوبر 2020 (11:46) 2020-10-27

میرے گزشتہ کالم پر اسامہ جمشید مرحوم کے والد کی کال آئی اور ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کے گھر والوں سے تعلقات بالکل بھی خراب نہیں تھے اور گھر والوں نے اس کے ساتھ کسی بھی طرح کا کبھی سخت رویہ نہیں رکھا۔اسامہ کے والدکے بقول جو کچھ کالم میں لکھا گیا اور جو کچھ اسامہ کے قریبی دوستوں نے خبریں اڑائیں یا جو خبریں گردش کررہی ہیں‘ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں یہاں یہ بتاتا چلوں کہ جہاں تک والدکی ناراضی ہے یا اسامہ کے گھریلو مسائل ہیں‘یہ ساری باتیں اسامہ قبل از مرگ خود دوستوں سے شیئر کرتا رہا اور وہی باتیں کہیں نہ کہیں سے نکل رہی ہیں جس پر دوستوں کو خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔مزید یہ کہ اب وقت نہیں ہے ہم اس بحث میں الجھیں کہ اسامہ کے گھر والوں سے تعلقات کیسے تھے اور دوستوں کے ساتھ اس کا سلوک کس طرح کا تھا یا اس کی صحبت اچھی نہیں رہی تھی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس کی مغفرت اور پس ماندگان کے لیے صبر کی دعا کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی والد اپنے بچوں سے اگر سختی کرتا ہے یا وقتی طور پر کوئی ناراضی ظاہر کرتا ہے تو وہ وقتی ہوتی جس سے بچے کی تربیت مقصود ہوتی ہے لہٰذا بچوں کو اس طرح کی سختی کو کبھی سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔ اگر ایسا تھا تو اسامہ کو بالکل بھی ان باتوں کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے تھا کیونکہ والدین ہمیشہ اپنے بچوں کے بارے بہتر اور مثبت سوچتے ہیں اور بچے چونکہ بچے ہوتے ہیں‘ انہیں لگتا ہے کہ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔

دوسری بات کالم میں یہ کہی گئی تھی جس پر میں اب بھی قائم ہوں کہ بچے کی خودکشی میں جو عوام بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ان میں سب سے پہلا عمل والدین کا یا گھر والوں کا رویہ ہوتا ہے۔جب بچے کو گھر میں نظر انداز کرنا شروع کر دیا جاتا ہے یا گھر والوں کی طرف سے (بالخصوص والدین)کی طرف سے بے جا سختی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ عمل بچے کی تربیت میں انتہائی منفی کردار ادا کرتا ہے۔بچے کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ معاشرہ تو مجھ سے حسد کرتا ہی ہے‘معاشرے تو مجھے بوجھ سمجھتا ہی 

ہے لیکن کیا گھر والوں کے لیے بھی میں ایک فضول یا ناپسندیدہ انسان ہوں؟یہ سوال بچے کی زندگی میں سب سے زیادہ برے اثرات مرتب کرتا ہے۔ہمیں بچوں سے سختی ضرور کرنی چاہئے‘بچے کی صحبت بہتر کرنے کے لیے ہمیں اسے سمجھانے کا طریقہ ایسا رکھنا ہوگا جس سے بچے کی تربیت بھی ہو اور بچے کو یہ محسوس بھی نہ ہو کہ وہ گھر والوں پر بوجھ ہے یا اس کے ظلم ہو رہا ہے۔کچا ذہن رکھنے والے بچے والدین کی دور رس نگاہ سے واقف نہیں ہوتے لہٰذا انہیں والدین کے غصے کے بعد سب سے زیادہ قریبی لوگ ”دوست“ہی لگتے ہیں سو وہ ان پر بھروسہ کرنے لگتا ہے۔کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہم سب سے پہلے بچوں کا اعتماد جیتیں‘ان کو اپنے قریب کریں اور انہیں ہر طرح کا اعتماد دیں کہ وہ ہمیں اپنے دل کی ہر وہ بات بتائیں جو وہ صرف دوستوں کو بتاتے ہیں؟۔اگر ایسا ممکن ہو جائے تو خودکشی کے جرائم میں ممکنہ حد تک کمی ہو سکتی ہے۔بات وہی ہے کہ والدین کو ”مولا جٹ“کا کردار نہیں بلکہ شفیق ہونے کا کردار اپنانا ہوگا۔

تیسرا رویہ دوستوں اوریونیورسٹی فیلوز یا پھر قریبی احباب کا ہوتا ہے جو بچے کی تربیت پر انتہائی شدت سے اثرا انداز ہو رہا ہوتا ہے۔بچے گھر میں اتنا زیادہ وقت نہیں گزارتے جس قدر وہ اپنے دوستوں‘ یونیورسٹی فیلوز یا پھر قریبی حلقہ احباب کے ساتھ گزارتے ہیں اور یہی وقت ہوتا ہے جب بچے پٹڑی سے اتر جاتے ہیں یا پھر اچھے احباب کی بدولت پٹڑی پر چڑھ جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے بچوں کے قریبی احباب سے بہت تک تک واقفیت رکھنی چاہئے کہ وہ کہاں آتا جاتا ہے اور کس طرح کے دوستوں میں اس کا اٹھنا بیٹھنا ہے‘سختی اگرچہ اس حد تک نہ کی جائے کہ بچہ ہم سے متنفر ہو جائے مگر اعتماد دلاتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا جائے اور اسے سمجھایا جائے کہ سب سے بہترین دوست بلاشبہ والدین ہوتے ہیں۔جس دن بچہ والدین کو دوست سمجھ لیتا ہے اس دن کی اس تربیت کا ایک نیا پہلو سامنے آتا ہے اور یوں اس کی زندگی کا شیڈول بہت حد تک تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

معاشرہ اس حد تک بے راہ روی کا شکار ہو چکا ہے کہ دوستوں پر سے والدین کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہوتا جا رہا ہے اور میرا خیال سے یہ بہت حد تک ٹھیک بھی ہے کیونکہ میرے نزدیک میں زیادہ تر بچوں کی بے راہ روی میں قریبی دوستوں کی صحبت نے بہت بنیادی کردار ادا کیا اور اسامہ جمشید کے بارے بھی بہت سے قریبی ذرائع نے یہ تصدیق کی کہ اس کی صحبت اچھی نہیں رہی تھی۔اس میں تو کئی شک نہیں کہ وہ ایک اچھا تخلیق کار تھا اور ممکن ہے مستقبل قریب یا بعید میں وہ کسی شعبے میں اپنا نام بناتا مگر اس کے قریبی احباب اسے مثبت پٹڑی پر چڑھانے میں کیوں نہ اہم کردار ادا کر سکے؟۔یہ ایک ایسا سوال ہے جو اس کی موت سے لے کر آج تک میرے ذہن سے نکل نہیں پا رہا۔مجھے تو یہ لگتا ہے کہ ہمارے تخلیق کاروں بالخصوص شاعروں نے خودکشی کو اس قدر گلیمرائز کر دیا ہے کہ ہر وہ شخص جو ادبی ذہن رکھتا ہے‘وہ خودکشی کرنے سے پہلے یہی سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کا کوئی عظیم کام کرنے جا رہا ہے اور اس قابلِ نفرت عمل کے بعد اسے ”تمغہ جرات“یا ”نشانِ حیدر“سے نوازا جائے گا حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔آپ کم از کم اردو یا انگریزی شاعری اٹھا کر دیکھ لیں‘جن شاعروں نے بھی خودکشی کی‘ انہوں نے قبل از مرگ ایسے اشعار یا نظمیں کہیں جن میں فخریہ اطلاع دی گئی کہ خودکشی ایک بہادری کا کام ہے اور یہ کام کرنے والا دنیا میں کم از کم سرخرو ہو جائے گا۔بس پھر اس کے بعد ایسا ہی ہو سکتا ہے جو ہو رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ادب ہماری مثبت تربیت کرتا ہے‘اگر کوئی تخلیق ہم پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے اس تخلیق کو سمجھا ہی نہیں  وہ تخلیق ہم پر اثر انداز ہو ہی نہیں سکی بلکہ ہماری”کٹڑ“ذہنیت نے تخلیق کو خود منفی بنا دیا ہے۔جہاں تک والدین یا معاشرے کا تعلق ہے تو انہیں بچوں کی تربیت میں کسی مضبوط لائحہ عمل کی ضروت ہے جو شفیق بھی ہو اور کسی حد تک سخت بھی تاکہ بچے کی تربیت ہو‘نہ کہ بچے کو باغی بنایا جائے۔ ہم بچوں کی تربیت کرتے وقت انہیں باغی بنا دیتے ہیں اور یہ باغیانہ عمل ہی اسے راہِ راست سے کہیں دور لے جاتا ہے اور وہ بری صحبت کا شکار ہو جاتا ہے۔


ای پیپر