”سہ رُخی پاکستانی سیاست“
27 اکتوبر 2020 2020-10-27

پاکستانی سیاست کے خدوخال اب کھل کر واضح ہو چکے ہیں اس سہ رخی سیاست کا رتھ مکمل جمہوری مکمل عسکری اور عسکری جمہوریت یا جمہوری عسکریت سے تشکیل پاتا ہے اس کی رفتار کا فیصلہ بھی فیصدی تناسب پر منحصر ہے۔ عسکری حکومت کو اپنی تشکیل کے لئے کبھی زیادہ جواز وجوہ کی ضرورت نہیں رہی سیاست دانوں کی بدنامی ازخود ہونا شروع ہو جاتی ہے ایسے ایسے ناخواندہ علاقوں میں جلوس نکل آتے ہیں جو دقیق موضوعات کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ جہاز کا اغوا ہو یا بھٹو کا لبرل ازم جنرل ضیاءکا نظریہ اسلامی حکومت یا مشرف کا ماڈریٹ مارشل لاءیہ لوگ کہتے رہے ہیں I am above all جنرل مشرف کا مکا اور لہجہ محض صحت کے مسائل سے شکست کھا گیا ورنہ وہ سیاست دانوں کی شکلوں کو باتیں کیا کرتے تھے اور کرتے بھی کیوں نہ جب سیاست دان انہیں تھوک کے بھاﺅ میں مل کر سیمی جمہوری حکومت کا چہرہ بننے کے لئے تیار رہے۔

سیاست دان اپنی بقا کی جنگ کبھی بھی اس انداز میں نہیں لڑ سکے جس میں لڑنا چاہئے اب بھی PDM میں بیٹھے سیاست دانوں کو پتہ ہے انہوں نے کل کو ایک دوسرے کی نقلیں اُتارنی ہیں۔ جو رکھ رکھاﺅ جو اتحاد بقا کے لئے اور بیرونی حملے سے بچنے کے لئے ضروری ہے وہ ان کے ہاںعنقا ہے۔ جان تو ہر دو طرح کے حکمران کی ”نکّے“ پہ ہوتی ہے پھر یہ لوگ کھل کر بات کیوں نہیں کرتے وزیراعظم پھانسی لگے جنرل ضیاءکا جہاز گر گیا۔

پھر ایک دوسرے کا تذکرہ اشاروں کنایوں میں کیوں؟ عرصہ دراز تو مولانا فضل الرحمن ”نکے دے ابا“ والا لطیفہ سناتے رہے۔ بھلا ہو PTI کلچر کااب مولانا کا گانا بھی بجتا ہے تقریر سے پہلے.... عوامی مالی حالات میں محض اتنا ہی فرق آتا ہے جتنا کچن میں ہنڈی پکاتے ہوئے چھوٹی بہو اور بڑی بہو کے ہاتھ کا ذائقے کا وگرنہ وہی نمک ہے تو مرچ نہیں ہلدی ہے تو تیل نہیں مگر اس دفعہ موجودہ دور تبدیلی میں واقعی مروجہ کمیوں کوتاہیوں سے فرق ہے اب کے سارے مسالے ہی غائب ہیں کافی محاورے ہیں اس موقع کیلئے نہ ہو گا نو من تیل اور نہ رادھا ناچے گی، نہ ہو گا بانس نہ بجے کی بانسری، سارا ٹنٹا ہی ختم سارا جھنجھٹ ہی فارغ، لنگر خانے بن رہے ہیں، سرکاری افسر کھانا چیک کر کے اردگرد سے لوگ پکڑ کر روز کا کوٹا پورا کرتے ہیں موجودہ حکومت کو اچھی یا بری کوئی سمت بھی نہیں ملی میں ہمیشہ زرداری صاحب کے لئے کہا کرتی ہوں وہ ”بڑے آدمیوں میں بڑے آدمی ہیں بدنامی انہیں ”سریش“ بن کر چپکی ہے ایسی دولت جو اُن کے کسی کام کی نہیں کھاتوں میں پڑی سڑ رہی ہے میاں برادران بھی اس موجودہ دولت سے دس فیصد کم کما لیتے تو پی ٹی آئی پراپیگنڈے میں شاید کچھ کمی ہو جاتی۔ پی ٹی آئی کا ایک سٹانس بہترین ہے یعنی ”نہ کھیڈاں گے کھیڈن دیاں گے“ نہ کسی کو کام کرنے دینا نہ خود کرنا اُن کا لیڈر وزیراعظم بیٹھا لمبی لمبی سکیمیں بناتا رہتا ہے ادھر کرونا پھیل رہا ہے دوسری طرف مزید کرونا پھیلانے کے لئے ٹائیگر فورس کا اندراج شروع ہو جاتا ہے ”جو کاغذوں سے شروع کاغذوں پہ ختم“ ، ”میرے کام کی عمر ہو اتنی محض “ گراﺅنڈ کی پلاننگ کرنا اور اتنے بڑے ملک کے ادارے چلانے میں فرق ہے۔ عدلیہ، فوج، سیاستدان، داخلہ اور میڈیا ”ایسا آساں بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا“ لوہے کے چنے چبواتی ہے وزیراعظم بننے کی خواہش موصوف کو اندازہ تو ہو گیا ہو گا وطن عزیز میں وزیراعظم کی سیٹ سے زیادہ مجبور اور پابند سیٹ اور کوئی نہیں ہوتی۔ سرکار کی تنخواہ لے کر یہ نہیں کہتے کہ گورنر ہاﺅس کی ”کند ڈھوا دوں گا“ کیونکہ ایسا نہیں کر سکتے یہ حکم شاہی والا زمانہ نہیں قیدیوں کے کمرے سے ٹی وی ریڈیو اُٹھانے تک محدود رہا کریں آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ نیب کب آپ کا کہنا مانتی مانتی ڈنڈی مار جاتی ہے اور جب آپ این آر او دینے کی بات کرتے ہیں تو لوگوں کی ہنسی نہیں تھمتی۔ کیا ہے آپ کے اختیار میں سوائے لاکھوں نوکریاں اور لاکھوں مکانوں کے وعدے کے جس کی لوگ فیس فارم جمع کرا کر خزانہ بھرنے کی باتیں کر رہے ہیں اورپھر روزانہ کی اڑھائی ارب روپے کی کرپشن بھی تو saving میں جا رہی ہے۔ حکومتی سادگی کی مثال نہیں ملتی بزدار صاحب تو سادگی میں اپنی مثال آپ ہیں پرانے وقتوں میں تیزطرار بچوں میں کوئی ایک ”سیدھا“ بچہ بھی ہوا کرتا تھا۔ اب وہ سیاست کے کارزاروں میں نکل آیا ہے بلند آہنگ دبنگ پنجاب کا سربراہ ایسا بھولا بھالا سیدھا سادھا بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی خیر آپ قارئین کو پتہ ہے ہی جمہوری، عسکری اور مکس حکومت میں اس وقت کونسی والی چل رہی ہے۔ جمہوری والی تو اب فکشن نعروں اور فلسفہ نظریہ وغیرہ کی نذر ہی ہو چکی ہے اب تو لوگ زیادہ پردہ داری کے بھی قائل نہیں مگر موجودہ حکومت کی کارکردگی یوٹرنز پر مجبوری اور آدھے ادھورے منصوبوں سمیت زیادہ دیر نہیں سلسلہ دراز کر سکتے پس پردہ پانچ سال پورے کرنے کی روایت پر زور دیا جا رہا ہے مگر اس مرتبہ اپوزیشن جمہوری فلسفے کے بجائے عوامی راگ یعنی ”مہنگائی“ کا رولا ڈال رہی ہے جو یقینا لوگوں کے دلوں کو لگ رہا ہے اور جس سے کسی کے لئے انکار ممکن نہیں اس موضوعاتی جلسے جلوسوں کی جدوجہد نے ملک میں کروٹ لینا شروع کردی ہے دست قدرت نے تھپکی دے دی تو یہ کروٹ زلزلے میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ قیدیں، ڈنڈے، سختیاں حکومت کے بجائے مخالف تحریک کے لئے معاون ہوا کرتے ہیں لہٰذا اس سمت یوں بھی جانے کی ضرورت نہیں کہ مقدمے، جیلیں، انتقام سہہ سہہ کر مسلم لیگ ن اب پکی ہو گئی ہوئی ہے اور آگے پی ٹی آئی کی خود اپوزیشن میں بیٹھنے کی باری ہے سلیکشن کا مسئلہ بھی ہو تو بار دیگر ممکن نہیں ایسی آزمائش سے ادارے دوبارہ کبھی نہ گزریں گے۔ منتشر اذہان وکھ وکھ بولیاں مسائل سے ناآگہی اور بغیر تیاری دیئے گئے بیانات کی واپسی پی ٹی آئی کا مجبور کلچر بن چکے ہیں کشمیر بارے نعرہ زنی بین الاقوامی مذاق کا درجہ رکھتی ہے حتیٰ کہ جب وزیراعظم نے کرونا سے ڈراتے ڈراتے جون میں پندرہ بیس لاکھ متاثرین کاخدشہ ظاہر کیا تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیا کہ یہ اب نہیں ہونے کا اور واقعی کرونا بھی جیسے وزیراعظم کو یوٹرن کرانے پر تلا بیٹھا تھا اب تک چھ ہزار سے قریب اموات اور سوا لاکھ متاثرین ہی پورے ہو سکے اللہ کا خاص کرم رہا ورنہ ٹائیگر فورس کی بھرتی رجسٹریشن اور ہلنے جلنے تک نہ جانے کیا ہوتا انسانی جدائی والے وائرس میں انسانی رابطے کی اس عظیم مہم کی تیاری بھی وزیراعظم کے خاص وژن کی دین ہے۔ بہر طور وقت کی اپنی رفتار اور اپنے فیصلے ہوتے ہیں:

وقت کی اپنی ہی تقسیم ہے جس میں دل کو

ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں ملنے والی

طے شدہ مقدروں میں دلوں پر بنے ہوئے نقشوں جیسے خطوط پر کھڑے ہو کر بھی ہم نعرے بازی کرتے ہیں ان گنت زمانوں سے اپنے حصے کا زمانہ مانگتے ہیں بڑے کائناتی نظام میں کہیں پر ہم بھی ٹکے ہوئے ہیں اپنی ڈیڑھ اینٹ ٹکائے بیٹھے حکومتیں بدلنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں جبکہ یہ طے ہے دنیا میں محنت کش، غیرت مند اور جفاکش جس طرح ایک سیٹ تعداد میں پیدا ہوتے ہیں نکمے خوشامدی اور فائدہ اٹھانے والے بھی مقررہ تعداد میں پیدا ہوتے ہیں اور محنت کش غیرت مندوں کی تعداد میں کمی ہو سکتی ہے مگر خوشامدیوں، فائدہ اٹھانے والے جھولی چک فقیروں میں کوئی کمی نہیں ہوتی یہ ہر دور میں موجود ہوتے ہیں ذاتی طور پر میں دیکھتی ہوں پچھلے دور حکومت میں حکمرانوں کو سب اچھا کی رپورٹ دینے والے اب اس صوبائی حکمران کے گن گا رہے ہیں۔ یہ سب بار بار ہوتا دیکھ کر تو اب دل کرتا ہے کہ وزیراعلیٰ وزیراعظم کی سیٹ پر بندہ بٹھانے کے بجائے سنہری پوشاک ڈلوا کر اس کی ہی پوجاپاٹ شروع کر دی جائے کہ لوگوں کو ذرا سی بھی جھجھک نہیں ہوتی سیاسی مسلک تبدیل کرتے ہوئے اور مفادات کے باغوں سے خوشہ چینی کرتے ہوئے پونے تین سالہ سیاسی دور کے تیزی سے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے رتھ کو دیکھ کر مستقبل سے امیدیں باندھنے والوں کے لئے پوری ہمدردی ہے پھر سے شکایات تو وہی ہوں گی عنوان بدل جائیں گے۔

پھر چاہتا ہوں نامہ¿ دلدار کھولنا

جاں نذرِ دل فریبی¿ عنوان کئے ہوئے

پھر فراز بھی تو کہہ گئے

اب ترا ذکر بھی شائد ہی غزل میں آئے

اور سے اور ہوئے درد کے عنوان جاناں

اپنا تجزیاتی طور پر شعر عرض ہے

دستِ قدرت سے رعایت نہیں ملنے والی

صوفیہ اب یہ محبت نہیں ملنے والی


ای پیپر