لاک ڈائون سے پہلے لاک ڈائون
27 اکتوبر 2019 2019-10-27

حکومت مولانا فضل الرحمان سے خوفزدہ ہے یا اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے مسلسل یہ رٹ لگا رہی ہے کہ کسی کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ’’جا کے دکھائو‘‘ اور وفاقی وزیر داخلہ ’’آ کے دکھائو‘‘ کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ لاک ڈائون کرنے والے ابھی نہیں پہنچے۔ کنٹینر دینے کی فراخدلانہ پیشکش کرنے والوں نے اسلام آباد کے تمام راستے کنٹینر لگا کر بند کردیے، پتا نہیں دھرنا چیمپئنز نہتے مولویوں سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں کہ لاک ڈائون سے پہلے ہی اسلام آباد کو لاک ڈائون کر دیا گیا ہے۔ بقول محترم سراج الحق حکومت نے خود ہی اپنے آپ کو اسلام آباد میں بند کرلیا ہے۔ 31 اکتوبر کے لیے اتنے انتظامات، 600 کنٹینر تیار، 400 وفاقی دارالحکومت اور 200 خیبر پختونخوا اور پنجاب کے لیے مخصوص، کنٹینروں کا کاروبار تباہ۔ ایک کنٹینر ڈرائیور نے ٹی وی پر آکر دہائی دی کہ 65 سال کا بوڑھا شوگر کا مریض، کنٹینر چلا کر بچوں کا پیٹ پالتا ہوں پشاور سے آتے ہوئے اٹک پل پر پولیس نے روک لیا اور کنٹینر چھین کر ایک طرف بٹھا دیا۔ احتجاج پر بولے بڑے صاحب کی حفاظت کے لیے تمہارے کنٹینر کی ضرورت ہے۔ جائو عیش کرو، عیش کہاں سے کروں دو دن سے پل کے قریب ہوٹل میں بیٹھا ہوں اور خیرات میں کھانا کھا رہا ہوں۔ پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے غریب ڈرائیور کی بپتا سن کر صرف افسوس کا اظہار کیا مذمت کی۔ کنٹینر چھڑانے کی بات گول کر گئے۔ 600 کنٹینروں کے ڈرائیور اور ان کے اہلخانہ بھی اسی طرح پریشان ہوں گے اور لگتا ہے کہ تنگ آکر وہ بھی مولانا کے آزادی مارچ میں شامل ہوجائیں گے۔ گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے تو اپنی پریس کانفرنس میں 5 ہزار سے زائد لوڈڈ کنٹینرز پکڑے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یومیہ 7 کروڑ50 لاکھ کا نقصان ہو رہا ہے، پوری انڈسٹری تباہ ہوجائے گی۔ سارے کاروبار تباہ ہیں ان سے وابستہ لاکھوں کروڑوں عوام بھی مارچ میں شامل ہوگئے تو آئندہ مارچ تک کوئیک مارچ ہوجائے گا۔ حکومت مولانا کی بڑھکوں سے خوفزدہ ہوئی یا مرعوب، وفاقی وزیر داخلہ سے کہا ’’ستم آزمائو ہنر آزمائو‘‘ وزیر داخلہ پرانے تجربہ کار دور آمریت میں ’’کارنامے‘‘ انجام دیتے رہے انہوں نے یقین دلایا کہ فکر نہ کریں 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں پرندہ پر اور چرندہ چر (چیخ یا نعرے) نہیں مار سکے گا۔ چنانچہ مقررہ تاریخ سے قبل ہی وفاقی دار الحکومت کو لاک ڈائون کردیا گیا۔ ادھر ادھر خار دار تاریں لگا دی گئیں۔ پولیس کی چھٹیاں منسوخ، رینجرز الرٹ، بڑے فخر سے فوج کے آپشن کا بھی ذکر کیا۔ داخلی راستے بند، خارجی راستے سیل، 15 لاکھ کے لشکر کی دھمکی رنگ دکھا رہی ہے۔ سیاسی سوجھ بوجھ ہوتی تو سوچا جاسکتا تھا کہ 15 لاکھ کہاں سے آئیں گے۔ 72 فرقے مولانا کے اپنے ہم خیال مولانا اشرفی اور ان کے ساتھ درجنوں کرسیوں پر براجمان علما نے وزیر اعظم کے گھر جا کر یقین دلایا کہ مولانا کا ساتھ نہیں دیں گے۔ دیگر فرقے آزادی مارچ کے مخالف ’’آزادی‘‘ نہیں چاہیے کیوں؟ کہا’’ اب تو آرام سے گزرتی ہے، عاقبت کی خبر خدا جانے‘‘ 15 لاکھ کے عدد نے خوفزدہ کردیا۔ اسی خوف میں پیشگی انتظامات کر لیے گئے آپس کی بات ہے پاکستانی سیاست میں کنٹینر بنیادی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ حکومت لینی ہے تو کنٹینر پر چڑھ جائو 126 دنوں تک نیچے نہ اترو، حکومت بچانی ہے تو کسی کو کنٹینر پر چڑھنے نہ دو، بلکہ ان ہی کنٹینروں سے سارا ملک سیل کردو۔خوف، پریشانی، ڈپریشن،’’ نیند کیوں رات بھر نہیں آتی‘‘ کسی قیمت پر استعفیٰ نہیں دوں گا۔ استعفیٰ مانگنے والے ابھی گھروں سے نہیں نکلے۔ ابھی سے پریشانی میں دن کا چین رات کی نیند حرام’’ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ،آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘‘۔ وفاقی کابینہ کے پے در پے اجلاس، مقامی انتظامیہ کی بیٹھکیں، مشاورتی کمیٹی، کمیٹی کی دن رات مشاورت، مولانا سے رابطے، مولانا کا ملاقاتوں سے انکار، اکرم درانی کی نیب میں طلبی، طلبی کی ٹائمنگ، رہبر کمیٹی کو ٹیلیفون، مطالبات پوچھے گئے انہوں نے کہا استعفیٰ،’’ پوچھنے والے اپنا سا منہ لے کے رہ گئے۔ صاحب کو اپنے ’عہدے‘ پہ کتنا غرور تھا ‘‘کہا نا ممکن، جواب ان کا آیا۔ مذاکرات کاہے کو کیے صاحب، اب انتظار فرمائیے ہم 27 اکتوبر کو آرہے ہیں۔ 31 اکتوبر کو آپ کے یا پولیس کے مہمان ہوں گے۔ جن کے رابطے یا جن سے رابطے ہیں وہ مسلسل چپ، ان کی اپنی مصروفیات، اہل ذکر و فکر نے کہا ’’کہاں تک بچو گے کہاں تک بچائیں، ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا سنائیں‘‘۔ آزادی مارچ کے بارے میں مشورہ دیا گیا کہ جمہوریت ہے تو آمرانہ رویہ کیوں؟ لہجہ میں فوری نرمی لانی پڑی، خلاف عادت سہی لیکن’’ سیاست میں تیرے سر کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے‘‘۔ مشورہ ماننا پڑا اور بالآخر مشروط مارچ کی اجازت دے دی گئی۔ کہا مولانا کے جائز مطالبات سنیں گے جائز مطالبات بڑی جماعتوں کے ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی پوری فہرست لیے میدان کارزار میں ہیں۔ مولانا کا تو مطالبہ ہی ایک ہے جو دہرایا جائے تو جواب ملتا ہے آواز نہیں آرہی، اندازہ ہوا کہ حکومت میں رہتے ہوئے کن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ اعصاب ٹوٹنے لگتے ہیں۔ ایک دریا پار کرو تو دوسرے دریا کا سامنا، ساحل پر کھڑے ہو کر یا کنٹینر پر چڑھ کر تباہی مچاتے طوفانوں کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، مولانا کے اپنے ساتھیوں نے باہر آکر پیغام دیا، مسئلہ کشمیر چل رہا ہے آزادی مارچ نہ کریں، جواب دیا۔

ملتوی کیسے سفر ہو آخر

سارا سامان بندھا رکھا ہے

آپ حادثات کے ڈر سے گھروں میں بیٹھے رہو، ہم تو عازم سفر ہیں ہمیں مت روکو، آزادی مارچ شروع ہوگیا، تمام رکاوٹوں کے باوجود کیسے آگے بڑھے گا یہ مارچ کرنے والوں کے سوچنے سمجھنے کی بات ہے لیکن’’ سچ نظر آنے لگے اہل نظر کے خدشے‘‘ حالات خراب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ڈی چوک میں مولویوں سے پہلے اساتذہ نے قبضہ کرلیا۔ اپنے مطالبات کے لیے دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ پولیس نے دو دن تماشا دیکھا تیسرے دن تماشا کردیا سب کو گرفتار کیا اور چوک کی صفائی کرادی جو گرفتاری سے بچے وہ ادھر ادھر نکل گئے۔ مولانا کے جتھوں میں شامل ہوجائیں گے۔ کون سا طبقہ مطمئن ہے؟ تاجر سراپا احتجاج ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرچکے کسان، مزدور، کارخانوں کے بیروزگار ملازمین اور مہنگائی کے ہاتھوں پریشان غریب عوام کوئی مزید وقت دینے کو تیار نہیں، کہتے ہیں پالنے میں ہونہار بروا کے پائوں نظر آجاتے ہیں۔ مہنگائی کا فارمولا بڑا سیدھا ہے یہ اوپر جاتی ہے نیچے نہیں آتی۔ ڈالر میں 46 روپے اضافہ، پیٹرول میں 21 روپے اضافہ، اشیائے صرف کی قیمتیں آسمان اول کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہیں ’’آہ جاتی ہے فلک پر راہ پانے کے لیے‘‘ کتنے اقدامات کریں گے اور ان اقدامات سے کتنی قیمتیں کم ہوں گی، تمام طبقے آزادی مارچ میں شامل ہوگئے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے جلے بھنے ہزاروں لاکھوں کارکن، حامی سڑکوں پر آگئے تو کہاں خیمہ زن ہوں گے۔ اہل نظر برملا کہہ رہے ہیں کہ آئندہ مہینوں میں حالات خراب ہوں گے۔ 27 اکتوبر کو مریخ اور زحل ٹکرا گئے ہیں۔ صورتحال خراب تر ہوتی نظر آرہی ہے۔ بہت کچھ ہونے والا ہے۔ محاذ آرائی کی طرف جا رہے ہیں۔ ٹکرائو، 45 دن رہے گا۔ 12 جنوری نتیجہ خیز دن ہوگا اس کے بعد بھی اقتدار آسان نہیں ہوگا۔ حالات کا شکنجہ کستا ہوا محسوس ہوگا۔ صورتحال سنگین سے سنگین تر ہوتی جا رہی ہے، ہوتی جائے گی۔ 18 نومبر کو تصادم، دھرنے سے مشکلات پیدا ہوں گی قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔ کالم کے آخر میں کوٹ لکھپت جیل کے قیدی کا احوال، طبیعت انتہائی خراب، سروسز اسپتال منتقل، سیانی بیانی مشیر نے ابتدا میں سیاسی ڈرامہ قرار دیا۔ پھر چپ سادھ لی۔ پنجاب کی وزیر صحت خود ڈاکٹر، نواز شریف کی علالت پر پریشان ،کہا سیاست نہیں کروں گی۔ وزیر اعظم کے ساتھ ان کی مکمل صحت یابی کے لیے دعا کروں گی۔ نواز شریف کی آنکھیں بند، شہباز شریف نے عیادت کی۔ پوچھا کیسی طبیعت ہے آنکھیں کھولیں حواس مجتمع کیے اور کہا۔

دعا کرو کہ سلامت رہے میری ہمت

یہ اک چراغ کئی آندھیوں پہ بھاری ہے

لاہور ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کرلی، ڈاکٹروں کا پینل بیماری کی تشخیص میں مصروف، پوری قوم اپنے غیر، حامی، مخالف سب دعا گو ہیں تم سلامت رہو، تم سلامت رہو۔


ای پیپر