نواز شریف کی بیماری اور نیب کی تفتیش
27 اکتوبر 2019 2019-10-27

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن ) کے قائد میاں نواز شریف کی حالت بدستور تشویش ناک ہے۔ ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے با وجود ان کی حالت ابھی تک سنبھل نہیں سکی ہے۔ ان کو پہلے ہی پلیٹ لیٹس کی کمی اور ٹوٹ پھوٹ کا سامنا تھا مگر گزشتہ رات پڑنے والے دل کے دورے نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ نواز شریف کی صحت کو بدستور خطرات لاحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو مکمل صحت عطا فرمائے۔

اسی طرح سابق صدر آصف زرداری بھی بیمار ہیں۔ ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد بھی 90 ہزار سے کم ہے جبکہ ان کو کمر اور گردن میں درد کی شکایت بھی ہے ۔ وہ بھی پمز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ نوازشریف اور آصف زرداری دونوں کو متعدد بیماریاں لاحق ہیں اور سب جانتے ہیں کہ ان دونوں سیاسی راہنمائوں کو شوگر، بلڈ پریشر سمیت متعدد عارضے پہلے سے ہی لاحق ہیں ۔ مگر اس کے با وجود آصف زرداری سے نیب نے 68 دن تک تفتیش کی اور پھر ان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ۔ اسی طرح نواز شریف العزیزیہ کیس میں سزا ملنے کے بعد کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔ ان کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل زیر سماعت تھی کہ اچانک نیب نے انہیں چوہدری شوگر ملز کے مقدمے میں کوٹ لکھپت جیل سے جسمانی ریمانڈ پر اپنی تحویل میں لے لیا۔ یہ خبر کچھ نیوز چینلز کے مخصوص اینکرز کے ذریعے سامنے لائی گئی کہ نیب کی تفتیشی ٹیم دن میں دو بار ان سے تفتیش کرتی ہے۔ آصف زرداری نے بھی یہ شکایت کی تھی کہ انہیں رات کو نیند سے جگایا جاتا ہے۔

دونوں سینئر سیاسی راہنمائوں کو گرفتار کرنے اور پھر جیل میں رکھنے کا بنیادی مقصد تو بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ انہیں راہ راست پر لایا جائے۔ ان کی جماعتوں پر دبائو بر قرار رکھا جائے۔ دونوں جماعتوں کے متعددسینئر راہنمائوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جبکہ مزید راہنمائوں کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

حزب مخالف کے راہنمائوں کی گرفتاریوں کو وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر راہنما اور وزراء اپنی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتے تھے۔ وہ یہ دعویٰ بھی کرتے چلے آئے ہیں کہ ان کی حکومت کو عوام نے مینڈیٹ ہی کرپشن کے خاتمے اور احتساب کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے دیا ہے ۔ تحریک انصاف کا بیانیہ یہ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پاکستان میں بد عنوانی، اقربا پروری اور لوٹ مار کا منبع اور بنیادی وجہ ہیں۔ دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت نے ہی اس ملک میں بد عنوانی اور اقربا پروری کی بنیاد رکھی وگرنہ اس سے پہلے تو پاکستان میں میرٹ، اچھی حکمرانی، بد عنوانی سے پاک نظام رائج تھا۔ قانون کی حکمرانی تھی۔ ہر طرف خوشحالی اور انصاف کا دور دورہ تھا۔ مگر جیسے ہی ان دونوں جماعتوں کی حکومتیں قائم ہوئیں تو سب کچھ بدل گیا ۔

اگر تحریک انصاف کے بیانیے کو سچ مان لیا جائے تو اب تک اس ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا ۔ مگر اس کے بر عکس بد عنوانی کے عالمی انڈیکس میں پاکستان 3 درجے ترقی کر گیا ہے۔ کرپشن کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو کسی بھی سرکاری دفتر میں تشریف لے جائیے۔ کسی بھی تھانے ، دفتر مال یا کچہری کا چکر لگائیے تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کرپشن کم ہوئی ہے یا اس کے ریٹ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ نیب کے ادارے کو قائم ہوئے بھی تقریباً دو دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اگر نیب اپنا کام کر رہا ہوتا اور اسے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور سیاسی انجینئرنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جاتا تو کیا پاکستان کرپشن کے عالمی انڈیکس میں ہر سال ترقی کے زینے طے کرتا۔

احتساب جب تک سیاسی نعرے کے طور پر استعمال ہوتا رہے گا اور ملک میں سب کے ساتھ صاف ، شفاف اور آزادانہ احتساب کا ادارہ وجود میں نہیں آئے گا اور احتساب صرف سیاستدانوں تک محدود رہے گا اس وقت تک بد عنوانی اور اختیارات کا غلط استعمال جاری رہے گا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حالت اچانک خراب نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے پلیٹ لیٹس چند دنوں میں خطرناک حد تک کم ہوئے ہیں۔ اسی طرح سابق صدر آصف زرداری بھی اچانک اتنے شدید بیمار نہیں ہوئے یہ دونوں پہلے سے ہی بیمار تھے مگر اس کے با وجود نیب نے دونوں راہنمائوں سے تفتیش جاری رکھی۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے دونوں راہنمائوں سے ملکی سلامتی کے حوالے سے انتہائی اہم تفتیش ہو رہی تھی جسے التوا میں ڈالنا قومی سلامتی کے تقاضوں سے انحراف کے مترادف ہوتا اس لیے تفتیش جاری رکھی گئی۔ دونوں راہنمائوں کو صرف اسی صورت ہسپتال میں لایا گیا جب دونوں کی صحت بہت خراب ہو گئی۔

نواز شریف کی صحت کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ وزیر اعظم وزراء تحریک انصاف کے راہنمائوں اور نیب کے حکام کو اس وقت تک صورت حال کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہوا اور نہ ہی ان کو اس امر کا یقین آیا کہ ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔جیسے ہی معاملہ زیادہ خراب ہوا تو انہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔ کیا حکومت ، عدالت، نیب اور دیگر ریاستی اہلکاروں کو نواز شریف کی بیماریوں کی شدت اور صحت کی مجموعی صورت حال سے آگاہی نہ تھی۔ جومیڈیکل رپورٹس میڈیا کو دستیاب ہیں وہ حکومتی حکام اور ذمہ داران کو دستیاب نہیں تھیں۔ اصل مسئلہ نواز شریف کو جیل میں رکھنا ہے یا پھر نیب کی حراست میں تاکہ انہیں قومی مفاد اور قومی سلامتی سے منسلک بیانیے کی اہمیت اور افادیت پر قائل کیا جا سکے۔ اسی طرح کا معاملہ آصف زرداری کے ساتھ بھی ہے۔ دونوں پر دبائو اس لیے نہیں ہے کہ وہ کرپٹ ہیں اور انہوں نے قومی دولت لوٹی ہے اگر ایسا ہوتا تو حکومت میں بیٹھے بہت سارے لوگ اب تک جیلوں میں ہوئے۔ اصل مسئلہ ان دونوں کی سیاست کو ’’ قومی مفادات ‘‘ پر مبنی سرکاری بیانیے سے ہم آہنگ بنانا ہے۔

پاکستان میں رائج قوانین، ضابطے اور نظام کتنا ظالمانہ ہے اس کا اندازہ ہماری اشرافیہ کو صرف اس وقت ہوتا ہے جب یہ خود اس کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس نظام کی روح انسانیت، رحم اور احساس جیسے جذبات سے عاری ہے۔ یہ صرف طاقتوروں کا تحفظ کرتا ہے۔


ای پیپر