فائل فوٹو

وزیر اعظم سے کُل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد کی اہم ملاقات
27 اکتوبر 2019 (16:40) 2019-10-27

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان سے کُل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد کی ملاقات ، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی عوام کا دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ حکومت پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گی اور مسئلہ کشمیر کو ہر سطح پر اجاگر کرے گی۔

حریت رہنماؤں کے وفد میں نثار مرزا، محمد حسین خطیب اور جاوید اقبال شامل تھے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی ملاقات میں موجود تھیں۔ حریت رہنماؤں نے کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں اقوام عالم کے سامنے پیش کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستانی اور کشمیری آج کے دن قابض بھارتی فوج اور حکومت کیخلاف یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ 27 اکتوبر 1947ء قیامت کی وہ گھڑی ہے جب بھارت نے کشمیریوں کی آزادی پر شب خون مارا اور سرینگر میں فوجیں اتار دیں۔ 3 جون 1947ء کو تقسیم ہند کا منصوبہ سامنے آیا تو برصغیر کی 550 ریاستوں کو یہ موقع دیا گیا کہ پاکستان یا ہندوستان کسی ایک سے الحاق کا فیصلہ کرلیں۔

ہندو اکثریت والی ریاستوں نے ہندوستان جبکہ مسلم اکثریت والی ریاستوں نے پاکستان کو چن لیا لیکن جموں و کشمیر میں عوامی خواہشات کو روند دیا گیا۔ 19 جولائی 1947ء کو 87 فیصد مسلم آبادی والی ریاست نے سری نگر میں قرارداد کے ذریعے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا لیکن بھارت کی ساز باز سے راجہ ہری سنگھ اقتدار چھوڑنے کو تیار نہ ہوا۔

اس دوران کشمیری عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی تحریک شروع کر دی، قبائلی عوام بھی کشمیریوں کی حمایت میں وہاں جا پہنچے۔ جموں و کشمیر کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر بھارت نے تقسیم ہند کا معاہدہ پس پشت ڈالا اور سرینگر میں فوجیں اتاردیں۔

بھارت یہ دعویٰ کرتا رہا کہ راجہ ہری سنگھ نے پہلے الحاق کیا پھر بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل ہوئیں لیکن سچ نے بھارتی جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا۔ دستاویز نے ثابت کر دیا، بھارتی فوجیں پہلے کشمیر میں داخل ہوئیں اور تب دباؤ ڈال کر راجہ ہری سنگھ سے الحاق کرایا گیا۔

قابض بھارت نے کشمیری قوم کو ہمیشہ دھوکا دیا اور اپنے کٹھ پتلیوں کے ذریعے پہلے کشمیر کے اختیارات کم کرتے گئے اور اب اس کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی۔ بھارت کی دھوکا دہی اور غاصبانہ قبضے کے خلاف کشمیری ہر سال 27 اکتوبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ آج نہیں تو کل بھارت کو کشمیر سے ہی جانا ہی ہوگا۔


ای پیپر