نواز شریف خاموشی توڑیں
27 اکتوبر 2018 2018-10-27

پاکستان کے حکمران فوجی ہوں سویلین سعودی عرب کے سرکاری دورے ان کی خارجہ پالیسی کے اہم ستون رہے ہیں۔۔۔ اس دوران کعبۃ اللہ کا طواف اور عمرہ نیز روضۃ الرّسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دوروں کا لازمی جزو ہوتے ہیں۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو کی آنکھیں حجرہ اسود کو بوسہ دیتے وقت رقّت کے ساتھ بھر آئی تھیں جنرل ضیاء الحق کا حرمین الشریفین پر بار بار حاضری دینا ان کے گیارہ سالہ دور حکومت کے معمولات میں سے تھا۔۔۔ نواز شریف دونوں مقامات پر نہ صرف باقاعدگی کے ساتھ حاضری دیتے تھے بلکہ رمضان کا آخری عشرہ مسجد نبوی میں بسر کرتے اور عبادات میں مصروف رہتے۔۔۔ جنرل مشرف بھی گئے۔۔۔ کعبۃ اللہ اور روضہ رسول کے اندر جا کر عبادت کی اور دعائیں مانگیں۔۔۔ مگر ان میں سے کسی نے اپنی ان عبادات کی اتنی پبلسٹی نہ کی ہو گی۔۔۔ جتنی عمران خان نے وزیراعظم بنتے ہی سعودیہ کے یکے بعد دیگرے دو دوروں کے دوران خاص طور پر مسجد نبوی میں دعاؤں کی کی ہے۔۔۔ وہ ننگے پاؤں وہاں گئے۔۔۔ اگرچہ یہ تقاضائے شریعت نہیں۔۔۔ لیکن ان کی ذاتی عقیدت تھی۔۔۔ پاکستان کے میڈیا میں اسے غیر معمولی دینی کارنامے کے طور پر پیش کیا گیا اور داد و تحسین کے پھول برسائے معاً بعد دوسری مرتبہ مالی امداد کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حاکموں کی خدمت میں پیش ہوئے۔۔۔ اس سے قبل مدینہ منورہ گئے۔۔۔ اس کو بھی خوب شہرت دی گئی۔۔۔ وزیراعظم کی پارسائی کے تذکرے عام ہوئے۔۔۔ یہاں تک کہا گیا اب پاکستان کے تمام دلدّر دور ہو جائیں گے کیونکہ عمران خان نے رضہ رسول پر جا کر دعائیں کی ہیں۔۔۔ دعا اسلامی عبادات کا اہم جزو ہے قرآن و حدیث میں اس کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔۔۔ پھر حرمین الشریفین میں سے مکہ معظمہ یعنی خدا کے گھر سر بسجود ہو کر اور مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر ادب و احترام کے ساتھ کھڑے ہو کر دعائیں مانگنے کی فضیلت سے کون انکار کر سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ دعاؤں کے ساتھ اعمال کو بھی دیکھتا ہے اگر اعمال دعاؤں کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں تو بارگاہ ایزدی میں کی جانے والی التجا کو دشرف قبولیت حاصل ہوتا ہے اور وہ اعمال کی اثر پذیری کی دو چند کر دیتی ہیں۔۔۔ ورنہ محض دعاؤں پر انحصار ہوتا تو پاکستانی قوم اس کے علماء اور لیڈر جتنی فلک شگاف دعائیں مانگتے ہیں ان کے نتیجے میں ہماری پیشتر مشکلات دور ہو چکی ہوتیں۔۔۔ اس وقت ہم دربدر بھیک نہ مانگ رہے ہوتے پوری دنیا میں ہمارا تاثر منگتوں کا سا نہ ہوتا۔۔۔ حضور کا ارشاد گرامی ہے کہ دعا دل میں مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ زیادہ قریب ہو کر سنتا ہے۔۔۔ دعا جیسی افضل عبادت کو اگر سیاسی پراپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس کے الٹ نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔۔۔ قائداعظم محمد علی جناح دل میں دعائیں مانگتے تھے۔۔۔ ان پر اپنی مومنا بصیرت کے ساتھ کردار کی قوت اور عمل پیہم کی استقامت کا تڑکہ لگاتے تھے تو وہ کارنامہ کر دکھایا کہ پون صدی میں کسی سے نہ ہوا ہو گا۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال ہوئی اور پاکستان جیسی نعمت ہمارے ہاتھ میں آ گئی۔۔۔ اس کے بعد جو ہم نے اس کا حشر کیا بداعمالیوں کو انتہا پر پہنچا دیا محض دعاؤں پر اکتفا کرتے رہے۔۔۔ ملک ہمارا دو لخت ہو جانے کے بعد آج جس حال کو پہنچا ہوا ہے۔۔۔ سب کے سامنے ہے فاعتبرو با اولی الابصار کی آیت کریمہ بار بار یاد آتی ہے۔۔۔ عمران خان وزیراعظم بننے کے دو ماہ کے اندر دوسری بار سعودی عرب گئے اور آخر کار 3 ارب ڈالر کی ہمارے خزانے میں فکسڈ رقم اور تین ارب ڈالر کا ادھار پر تیل کی مدد لے آئے۔۔۔ اس سے قبل یہی سعودی حکام تھے جو اتنے ترلا منّت کے بغیر ہماری مدد کو پہنچتے تھے۔۔۔ 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکہ کے پابندیاں لگا دیں اس کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے امریکہ پہنچ کر صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ کا دل تھوڑا سا موم کرنے کی کوشش کی پھر اسلام آباد اور لاہور آ کر نہ صرف ایٹمی پاکستان کو عالم اسلام کی پشت پناہی کا یقین دلانا بلکہ ادھار پر تیل فراہم کرنے کی پیش کش کی۔۔۔ 2013ء میں نواز شریف کی منتخب حکومت تیسری مرتبہ برسراقتدار آئی کو قوم کو خبر کا اس وقت علم ہوا۔۔۔ جب موجودہ سعودی بادشاہ کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر ہمارے سپرد کر دیے گئے تھے۔۔۔ عمران خاں بار بار کے تقاضوں کے بعد کچھ حاصل کرنے کا قابل ہو گئے ہیں اور اس پر ملک کے اندر شور مچا ہوا ہے کہ نئے وزیراعظم نے کیا محیر العقول کارنامہ کر دکھایا ہے۔۔۔ مگر سعودی عرب کے موجودہ دورے کے 
دوران وزیراعظم بہادر نے اس وقت تو انتہا کرڈالی جب وہاں ایک عالمی کانفرنس کے سٹیج پر بیٹھ کر پاکستان کو آخری حد تک کرپشن زدہ اور روپوں پیسوں کی لوٹ مار والا ملک بنا کر پیش کیا۔۔۔ ہمارے یہاں کتنی کرپشن اور لوٹ مار فی الواقعہ ہوتی ہے اور کتنی کا چند ٹکے اکٹھا کرنے خاطر دنیا بھر ڈھنڈورا پیٹا گیا ہے اس سے قطع نظر قومی غیرت و حمیت بھی کسی چیز کا نام ہوتا ہے توکیا وہ تیمور کے گھر سے بالکل رخصت ہو گئی ہے۔ 
ہم نے اپنی آزاد قومی زندگی کے ستر سالوں کے دوران ہمیشہ غیر ملکی امداد اور قرضوں کے سہارے زندہ رہے ہیں۔۔۔ اس کی خاطر لامحالہ دوسروں کے آلہ کار بھی بنے اور ہر اہم موڑ پر اپنی آزادی و خود مختاری کا سوادا کیا ہے۔۔۔ پچاس کی دہائی کے آغاز پر جب بانیان پاکستان میں سرفہرست اور یکتا شخصیت دنیا سے رخصت ہو گئی اور دوسرے درجے کے ممتاز لیڈر اور پہلے منتخب وزیراعظم کو راولپنڈی کے ہمارے قومی زندگی کے سٹریٹجک فیصلے کرنے والے شہر راولپنڈی میں قاتل کی گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔۔۔ اس کے بعد جس سول ملٹری بیورو کریسی کے راج کا ہمارے یہاں آغاز ہوا تو ہم معاہدہ بغداد (بعض میں سیٹو ) اور سینٹو جیسے سوویت یونین کے خلاف امریکی معاہدوں کا حصہ بن گئے۔۔۔ اس کے عوض واشنگٹن والوں نے کچھ فوجی اور کچھ مالی امداد سے سرفراز کیا۔۔۔ 1958ء میں امریکہ کی آشیر باد کے ساتھ کمانڈر انچیف ایوب خان نے پہلا مارشل لاء نافذ کیا۔۔۔ خفیہ ہوائی اڈے اس کے سپرد کیے دیگر خدمات سر انجام دیں۔۔۔ امداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔۔۔ 1965ء کی جنگ ہوئی تو ترت جواب دے دیا گیا ہم نے شمال مغرب کی جانب سے سرخ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے امداد تھی مشرق سے بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے نہیں۔۔۔ ایوب خاں بالآخر ’’جس روزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘نامی خود نوشت لکھنے پر مجبور ہوئے۔۔۔ بقیہ پاکستان کے اندر بھٹو کا منتخب دور آیا تو امریکہ کی جانب سے ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی پاداش میں ’’تمہیں ناقابل فراموش سبق سکھا دیں گے‘‘ کی دھمکی کے سوا کچھ نہ ملا۔۔۔ اس کے بعد ضیاء الحق کی گیارہ سالہ آمریت ہمارا نصیب بنی تو افغان جنگ میں امریکہ فرنٹ لائن سٹیٹ بننے کے عوض ایف 16 لڑاکا طیاروں وغیرہ اور ڈالروں کی بارش ہوئی۔۔۔ یہ عہد ختم ہوا۔۔۔ بے نظیر کا منتخب دور آیا تو پریسلر ترمیم کی جکڑبندی نے آ لیا۔۔۔ حکم نازل ہوا ایٹمی پروگرام کو مہربند کرو تو کچھ ملے گا ورنہ مزید ایف 16 طیاروں کی جو قیمت نقد اقساط میں ادا کر دی ہے وہ بھی ہمارے عتاب کی نظر ہو جائے گی۔۔۔ نوازشریف نے 1998ء میں بھارت کے بمقابل ایٹمی دھماکے کر دکھائے۔۔۔ ملک کا دفاع ایک سویلین کے ہاتھوں ناقابل تسخیر ہوا۔۔۔ اس عمل کا آغاز بھی ماقبل ایک سویلین کی پہل قدمی سے ہوا تھا۔۔۔ تب امریکی پابندیوں نے آلیا۔۔۔ 12 اکتوبر 1999ء کے شب خون کے بعد پہلے امریکہ کی جانب سے مشرف کو جمہوریت شکن ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول قرار دیا گیا پھر معاً بعد نائن الیون ہوا۔۔۔ مشرف نے وہائٹ ہاؤس آنے والی ایک ٹیلیفون کال پر ملک کے تمام سٹرٹیجک اور دوسرے اثاثے واحد سپرطاقت کے قدموں پر نچھاور کر دیئے تب ایک مرتبہ پھر امداد کا نزول ہونا شروع ہوا۔۔۔ یہ جو کہاجاتا ہے سب سے زیادہ خوشحالی یا روپے پیسے کی چمک دمک فوجی ادوار میں دیکھنے کو ملی اس کا سبب ہماری جانب سے اپنی قومی آزادی اور خودمختاری کو امریکہ کے چرنوں پر رکھ دینا تھا۔۔۔ اسی لیے عارضی ثابت ہوا۔۔۔ ملک کو پائیدار اقتصادی بنیادوں پر کھڑا نہ کیا جا سکا۔۔۔ فوجی حکمرانوں کو دس، آٹھ اور گیارہ گیارہ سال بلاشرکت غیرے حکمرانی کے ملے۔۔۔ ایک بھی سول یا منتخب حکومت کو آئینی مدت پورا کرنے کی مہلت نہ دی گئی۔۔۔ 2013ء میں نوازشریف نے برسراقتدار آنے کے فوراً بعد چین کے ساتھ سی پیک معاہدے کی شروعات کیں۔۔۔ 2015ء میں باقاعدہ معاہدہ ہوا۔۔۔ پہلی مرتبہ کسی ترقی یافتہ ملک نے ہمارے ملک کے اندر 45 بلین ڈالر کی باقاعدہ سرمایہ کاری کی حامی بھری تھی۔۔۔ بھرپور طریقے سے آغاز بھی ہوا نوازشریف اس مرتبہ بھی مدت پوری کرنے نہ پائے تھے کہ اقامہ کا شکار ہو گئے۔۔۔ 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں عمران خاں وزیراعظم بنے ۔۔۔ آتے ہی سی پیک کے بارے میں شکوک و شبہات کی فضا کھڑی کر دی گئی۔۔۔ اب 2 نومبر کو جناب وزیراعظم عازم بیجنگ ہونے والے ہیں۔۔۔ امید کرنی چاہیے سی پیک کے گیم چینجر منصوبے کی بحسن و خوبی تکمیل کا یکسوئی کے ساتھ عزم لے کر واپس آئیں گے۔
لمحہ موجود کا مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے نوازشریف نے کیوں چپ سادھ لی ہے۔۔۔ مریم بی بی ایک لفظ کہنے کے لیے تیار نہیں ہو پا رہیں۔۔۔ پہلے کہا گیا ان کے گھرانے پر مرحومہ کلثوم نواز کی رحلت کے دکھ اور غم کے سبب سوگ کی فضا طاری ہے۔۔۔ چہلم کے بعد کھل کر سامنے آئیں گے۔۔۔ اس رسم کی ادائیگی کو بھی تقریباً دس روز گزر گئے ہیں۔۔۔ نوازشریف احتساب عدالت کے سامنے برابر پیش ہو رہے ہیں۔۔۔ اپنی جماعت کے اندر مشاورت کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔۔ خاص طور پر شہباز شریف کی اچانک گرفتاری کے بعد باقاعدہ اجلاس بھی منعقد کرتے ہیں۔۔۔ اسی عرصے میں ان کی جماعت نے ضمنی انتخابات میں کامیابیوں کے جھنڈے بھی گاڑھے ہیں۔۔۔ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔۔۔ لیکن قوم اس نازک مرحلے پر ان سے جس قسم کے جاندار سیاسی کردار اور آگے بڑھ کر قیادت کا خلا پر کرنے کی توقع کر رہی ہے۔۔۔ وہ پوری نہیں ہو رہی آخر کیوں؟ مخالفین ’این آر او‘ کی افواہیں اڑا رہے ہیں۔۔۔ میاں صاحب کے حلقوں کی جانب سے اس کی سختی سے تردید کی جاتی ہے۔۔۔ نوازشریف نے ’این آر او‘ کرنا ہوتا تو اس کے لیے بہترین موقع وہ تھا جب وہ لندن کے ایک ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں اپنی اہلیہ کے سرہانے کھڑے تھے۔۔۔ تب خفیہ طور پر پیشکش بھی کی گئی جسے انہوں نے قبول نہ کیا۔۔۔ بیمار بیوی کو جو چند روز کی مہمان تھی اسی حالت میں چھوڑ کر بیٹی کے ہمراہ وطن واپس آ گئے۔۔۔ باقاعدہ گرفتاری دی۔۔۔ اڈیالہ جیل میں بند ہوئے۔۔۔ ان تمام حالات کامقابلہ کرتے ہوئے ’این آر او‘ وغیرہ کا کوئی خیال ان کے نزدیک نہیں پھٹکا۔۔۔ مگر اب ان کی خاموشی چہ معنی دارد۔۔۔ میاں صاحب کو کھل کر سامنے آنا چاہیے۔۔۔ عوام کے اندر مایوسی پھیل رہی ہے۔۔۔ وہ مسلمہ سیاسی لیڈر ہیں۔۔۔ اپنا قومی فریضہ ادا کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔۔۔ اگر کوئی قانونی اور دیگر مصلحت آڑے آ رہی ہے تو برادران وطن کو اس سے آگاہ کریں۔۔۔ ان کا اپنے بارے شفاف لیڈر ہونے کا دعویٰ ہے اس کا تقاضا ہے کہ نوازشریف خاموشی توڑیں اور عوام کو اعتماد میں لیں۔


ای پیپر