ارتکاب حق گوئی
27 اکتوبر 2018 2018-10-27

پاکستانی معیشت کی ڈوبتی نبضیں قرض کی بہت بہتر ڈرپ (بہ نسبت IMF) لگنے سے بحال ہونے لگیں۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ، بے رحم جکڑ بندیاں، عوام نچوڑ پالیسیاں کچھ پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو گئی ہیں۔ اپنوں سے قرض لینے میں یہ اطمینان تو ہے کہ ’اپنا مارے گا بھی تو چھاؤں میں رکھے گا‘۔ سعودی عرب سے دیرینہ تعلقات ، پاکستان اور سرزمین حرمین شریفین کا ہمہ گیر اتفاق و اشتراک ایک طویل تاریخ کا حامل ہے۔ صد شکر کہ عالمی سطح پر اس وقت سفارتی تنہائی (جمال خشوگی مسئلہ پر) کے شکار سعودی عرب نے بڑھ کر پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے اقدامات کئے۔ سعودی عرب جاتے ہوئے عمران خان کو ’مڈل ایسٹ آئی‘ نے انٹرویو لیتے ہوئے خشوگی کے قتل کے حوالے سے سوالات میں گھیرا۔ جواب دیتے ہوئے روایتی کھرے پن اور صاف گوئی سے کام لیا۔ جہاں سفارتی حکمت کے تقاضے کچھ اور تھے! اس کانفرنس پر جاتے ہوئے (جس کا جمال خشوگی قتل پر دیگر کئی لیڈروں نے بائیکاٹ کر دیا تھا) عمران خان نے کہا : اگرچہ خشوگی کی موت پر تشویش ہے، مگر میں یہ کانفرنس چھوڑ نہیں سکتا۔ پاکستان کی معاشی حالت کو سنبھالا دینے کے لئے ہمیں سعودی قرضوں کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے معاشی حالات مایوس کن ہیں۔ 21 کروڑ انسانوں کے مالک میں ہم بدترین قرضہ جاتی بحران سے گزر رہے ہیں۔ اگر ہمیں فوری قرضے نہ ملے تو دو تیں مہینوں میں ہمارے پاس ضروری زرمبادلہ نہ ہو گا۔ بار قرض چکانے اور درآمدات کی ادائیگیوں کے لئے کچھ نہ ہو گا۔ سو ہم اس وقت مجبور ہیں! اس انٹرویو میں سے یہی حصہ رائٹر اور برطانوی ’مڈل ایسٹ آئی‘ نے (22 اکتوبر) نمایاں رپورٹ کیا۔ اہل تشہیر و تماشا کے طلسمات کی خیر۔ چل پڑے شہر کے سب شعلہ نو ! اور طرف ! اس گفتگو میں احتیاط درکار تھی۔ سرفہرست بات تو یہی رکھنے کو تھی کہ سعودی عرب سے ہمارے تعلقات وقتی حادثات ، واقعات سے بالاتر ہیں۔ ملکی وقار اور اہم ترین مسلم مملکت سے ہماری دوستی کے بھرم کا تقاضا تھا کہ کشکول سامان میں تھی بھی ، تو چھپا ہی لی جاتی! تا ہم اسی کھرے پن میں امریکہ کے ساتھ مشرفی تعاون پر وہ سب کچھ کہہ دیا ، جس کی جرأت کسی اور نے نہ کی تھی۔ گھگھی بندھتی تھی یہ سچ بولتے ہوئے ! وزیر اعظم نے کہا ۔ ’مشرف نے امریکی داؤ میں آ کر وہ سب کچھ کر ڈالا جو کسی بھی پاکستانی حکمران کی جانب سے کی جانے والی بہت بڑی فاش غلطی حماقت تھی۔ جو کچھ قبائلی علاقوں میں ہوا وہ تقریباً خانہ جنگی ہی تھی۔ عوام اپنی ہی فوج کے مقابل کھڑے ہو گئے، جنگی کارووائیوں میں عام شہریوں کے نقصانات کی بنا پر۔ جو پھر ایک بھرپور آپریشن پر منتج ہوا۔ آدھی آبادی دربدر ہو گئی اندرون ملک دس ، بارہ سالوں میں پورا علاقہ جنگ سے تباہ ہو گیا اور علاقہ آج بھی محفوظ نہیں۔ ہمارے 80 ہزار لوگ جاں بحق ہوئے۔ یہ سب امریکی دباؤ کا نتیجہ تھا۔ ایسا کبھی دوبارہ نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان ، امریکہ سمیت کسی کے اصرار پر اپنے لوگوں کے خلاف فوج کشی کرے۔ آج تو امریکہ بھی اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ افغانستان میں جنگی حل ممکن نہیں ، اور اس نے طالبان سے مذاکرات کی راہ اختیار کی ہے۔‘ یہ کھرا پن خارجہ پالیسی کی درستگی اور ملکی وقار ، خود مختاری اور استحکام کے لئے عین مطلوب ہے۔ ہمارے ہاں سعودی عرب ، سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے جو ایک خاص خبر لگائی گئی وہ یہ تھی کہ عمران خان نے بغیر پرچی کے انگریزی میں تقریر کی ! گویا شکر ہے کشکول انگریزی میں پھیلایا ۔ مدد انگریزی میں مانگی۔ 71 سال بعد بھی قوم کی غلامانہ خو بو بلکہ بدبو دور نہ ہو سکی! باوجود یہ کہ اقوام متحدہ میں شاہ محمود قریشی نے انگریزی میں لکھی گئی تقریر کا بہ صد اہتمام اردو ترجمہ کروا کر قومی زبان میں خطاب کیا تھا۔ انگریزی اگر صرف ایک آلہ یا ہتھیار ہو تو فبہا۔ لیکن اس کا خصوصی خبر بن کر جگمگانا احساس کمتری کی بدترین علامت ہے۔ فی الوقت یہی اطمینان بخش ہے کہ ہم آئی ایم ایف کی فوری دریوزہ گری سے بچ نکلے ہیں۔ معیشت کی بحالی ملکی وقار کے لئے بھی حد درجے ضروری ہے۔ خشوگی کیس میں ترک سفارتکاری لائق تحسین ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ اس نہایت حساس اور پیچیدہ معاملے پر اردوان نے جس مضبوطی، راست بازی کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ جس مہارت سے واقعات کی تہہ تک پہنچا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ ایک طرف امریکہ اور مغرب سے گڑتے تعلقات کا رخ موڑا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب سے سفارتی سطح پر کھلی جنگ کر کے تعلق بگاڑنے کی بجائے ، احتیاط سے حقائق سامنے لا رکھے ہیں۔ اگر ایسا معاملہ (کسی بھی دور حکومت میں) پاکستان کو درپیش ہوتا تو امریکی جاسوسی تحقیقی تفتیشی ٹیموں کے وفود گھسے چلے آتے۔ انہیں ویزے بھی درکار نہ ہوتے! (ہم نے تو اپنی وزیر اعظم کے قتل کے لئے بھی دسادر سے تفتیش کار منگوائے تھے) ہاتھ پاؤں پھولے ہوتے۔ رنگ برنگے بیانات اور بریکنگ نیوز سرپھوڑ رہی ہوتی۔ یہاں اردوان نے خود پریس کانفرنس کر کے حقائق دنیا کے سامنے رکھے۔ یہ سب پر اعتماد ، سر بلند اور حقیقتاً آزاد ہونے کی بنا پر ہے۔ ہاتھ میں کشکول جو نہیں! تا ہم عالمی 
ضمیر جب کچھ معاملات میں حیرت انگیز طور پر انگڑائی لے کر اٹھ جاتا اور ہنگامہ کھڑا کرتا ہے تو یقین نہیں آتا کہ اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی تھی؟ کا ناضمیر! غزہ ، کشمیر ، شام کہیں بھی تو ذی حس ذی شعور ہونے کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ جلتی بستیوں میں روہنگیا کے معصوم بچوں کے پھینکے جانے تک پر تو منہ موڑ لے رکھتا ہے۔ بھنگ پی کر سویا رہتا ہے۔ یہ ہم بلا سبب نہیں لکھ رہے۔ مغرب کا ایکسرے، کینیڈا کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ یہ مغرب کا نسبتاً مہذب ملک سمجھا جاتا ہے۔ عوام کے پر زور اصرار پر ٹروڈو نے انتخابی مہم میں بھنگ کو قانونی قرار دیئے جانے کا وعدہ کر لیا تھا۔ وہ اب پورا کر دیا ہے۔ سو وہاں سٹوروں پر بھنگ طلب عوام کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ پہلے بھی مغرب میں انتخابی وعدے ہم جنس پرستی قانونی ، ایسی بدخوارہ شادیاں قانونی ، اسقاط حمل قانونی ٹھہرانے والے ہوتے رہے۔ گویا لاقانونیت کو قانون بنا دینا ان کی ترقی ہے! بدنصیبی سے فحش ویب سائٹس پر گھومنے پھرنے والوں میں شرمناک اعداد و شمار میں پائے جاتے ہیں۔ بے ضمیری کی ایک خرید بھی تو ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کیس پیروی کے 20 لاکھ ڈالر بھی خرد برد کا شکار ہو گئے! بہن رہا تو کیا کرواتے پیسہ بھی کھا گئے ! تف بر تو!
2001ء سے جو ماڈریٹ ، روشن خیال مسلمان تخلیق ہونا شروع ہوا تھا، وہ اب حدود و قیود نا آشنا نشتربے مہار سیکولر مسلمانوں کی فصلیں اگا چکا ہے۔ جس ضمن میں رنیڈ کارپوریشن کے تحت اقراری مقالے موجود ہیں کہ اسلام کا چہرہ بدلنے کے لئے، نظریات کی جنگ جیتنے کے لئے امریکہ نے کروڑوں ڈالر خرچ کئے۔ یہ ہمارے المیے اپنی جگہ۔ لیکن کیا امریکہ نے یہ جنگ جیت لی؟ کھربوں ڈالر ، 17 سال ، برباد معیشت ڈھائی ہزار تابوت ، ہزاروں معذور، ہزاروں ذہنی مریض کما کر افغانستان میں اپنی شکست کا اقرار کرنے پر مجبور ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی بمقابلہ ایمان اور تکل علی اللہ کا یہ معرکہ نتیجہ خیز تو ہو چکا ۔ لیکن اسے مان لینے میں دنیا بھر کا سر پرغرور خاک میں ملتا ہے۔ درویشوں ، سادہ لوح خالص مسلمان کے ہاتھوں امریکی سونڈ پر ایک نیا داغ قندھار میں لگا ہے۔ شدید ترین سکیورٹی کے بیچ ایک (طالبان کارندے) نے امریکی قیمتی ترین مہرہ اور پروردہ مقامی سفاک جنرل عبدالرزاق مار دیا۔ گورنر ، صوبائی انٹیلی جنس چیف بھی نشانہ بنے ۔ 3 امریکی زخمی ہوئے۔ امریکی بریگیڈیئر جنرل بھی زخمی ہوا۔ ان میں سے عبدالرزاق بالخصوص برملا پاکستان دشمنی میں سرفہرست اور انسانی حقوق کا بدترین مجرم تھا۔ نجانے کیوں پھر بھی ہمارے قوم پرست طبقے نے غائبانہ نماز جنازہ پڑھی اور حکومتی سطح پر بھی تعزیتی پیغامات بھیجے جانے ضروری گردانے گئے۔ کٹھ پتلی اشرف غنی نے جواباً پاکستان پر بے بنیاد الزامات داغے۔ امریکہ نے مزید گھر کا۔ مدارس کو تعلیمی دھارے میں لانے بارے مسائل ان گنت ہیں۔ عصری تعلیم تو لوٹ مار کا ایک نظام ہے۔ ہزاروں لاکھوں کا کھیل ہے بچے پڑھانا! سکول کالج یونیورسٹیاں اکیڈیمیاں! مدارس تو روکھی سوکھی کھا کر جیسے تیسے والدین پر ٹکے کا بوجھ ڈالے بغیر خندہ پیشانی سے صبر تحمل سے بچے تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں۔ وہاں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر رائی کا پہاڑ بنانے کو اکا دکا خبریں لے کر بغلیں بجانے والا میڈیا حقائق سامنے نہیں لاتا۔ سکینت ، پاکیزگی کا ماحول۔ اس کے برعکس اسلام آباد ہی کے E سیکٹر میں ایک پنج ستارہ (رہائشی علاقے میں) سکول ہے۔ پیسے کی بہتی گنگا میں تو یہ سبھی ہاتھ دھو رہے ہیں۔ یہاں باآواز بلند ترانہ موسیقی بینڈ میں بجایا بلکہ پھاڑا جاتا ہے۔ قومی ترانے کے الفاظ تو گم ہیں صرف بینڈ باقی ہے۔ (یوں بھی فارسی الفاظ سے ناشنا سائی!) وقفے وقفے سے علاقے بھر کا دماغ شل کرتی موسیقی! نجانے بچے کب ، کیا پڑھتے ہیں۔ اسلام آباد کے کئی ماڈل سکولوں میں بھی (ماڈل بوائے گرل بنانے کو؟) پیانو رکھوا دیئے جانے کی اطلاع ہے۔ اس تعلیمی دھارے میں موسیقی کے دھارے تو بہت ہیں، اختلاط کے بھی۔ تعلیم کی خبر نہیں۔ مدارس کو تو تباہ نہ کیجئے! انہیں انگریزی پڑھانے کا شوق ، اخلاقی تباہی سے بچے ہوئے قوم کے اس قیمتی حصے کی بربادی کا سامان لائے گی۔ دیار کذب میں یہ ارتکاب حق گوئی ۔ یہ جرم ہے تو مجھے بار بار کرنا ہے!


ای پیپر