اب سرمایہ بھی آئے گا اور ماہرین بھی!
27 اکتوبر 2018 2018-10-27

حکومت کے سیاسی حریف اس پر صبح شام تنقید کے تیر برسا رہے ہیں کہ اس نے آتے ہی عوام کی خوشیاں چھین لیں ان کے زندہ رہنے کا سامان ان کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے لہٰذا وہ انتہائی پریشان ہو گئے ہیں انہیں مختلف النوع مشکلات نے آن گھیرا ہے گویا ان کو اپنی زندگیاں خطرات سے دو چار ہوتی دکھائی دے رہی ہیں وہ کیا کریں کدھر جائیں کس سے شکوہ کریں اور اپنے دکھ بانٹنے کی التجا کریں انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا؟ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام اس وقت گرانی کی زد میں ہیں ان کے روز مرہ کی چیزیں ان کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، ذرائع آمدن لمحہ بہ لمحہ محدود ہونے لگے ہیں، بے روزگاری کسی وبا کی مانند پھیل رہی ہے۔۔۔ کاروبار بھی سخت متاثر ہیں کیونکہ جب خریدار کم ہوں گے تو ان پر اثرات مرتب ہوں گے ہی مگر سوال یہ ہے کہ حزب اختلاف سچ کیوں نہیں بول رہی وہ حقائق آشنا کیوں نہیں ہے اگر وہ قومی خزانے میں اتنا کچھ چھوڑ کر جاتی کہ جس سے اگلے چھ ماہ بہ آسانی ملکی معاملات چلائے جا سکتے تو یہ جو اقتصادی و معاشی بحران پیدا ہوا ہے نہ ہوتا مگر وہ تو آنے والی حکومت کو لوہے کے چنے چبوانے پر تلی تھی لہٰذا اس نے نئی حکومت کو خزانہ بھرا نہیں قریباً خالی دیا۔۔۔ کہ وہ جانے اور اس کا کام جانے۔۔۔ لہٰذا ایسا ہونا ہی تھا مگر یہ مہنگائی اور ٹیکسز اذیت ناک تب بھی نہیں۔۔۔ یہ جو مافیاز ہیں انہوں نے مصنوعی طور سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔۔۔ بجلی گیس کا سیاپا کیا جا رہا ہے ابھی تو آج اس کی قیمتیں بڑھی ہیں اور وہ بھی اتنی کہ عوام کو محسوس ہی نہ ہو تین سو یونٹس پر تو اضافہ ہوا ہی نہیں اس سے آگے حساب شروع ہوتا ہے مگر شور ہے کہ بلند سے بلند تر ہوتا جا رہا ہے اب عوام کو معلوم ہوا چاہتا ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار اور احتسابی عمل کے حوالے سے دہائی دے رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ حکومت چل نہیں سکتی لہٰذا اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی ایسا اس لیے ہے کہ ان کے گرد احتساب کا شکنجہ مزید کسا جا رہا ہے۔۔۔ ان کے اثاثے نئے جزیروں کی طرح دریافت ہو رہے ہیں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے جو مزدوروں اور محنت کشوں کے کھاتوں میں اربوں منتقل کیے جا رہے ہیں ان سے بھی یہ خائف نظر آتی ہیں کہ آخر کار ان ہی کو جواب دہ ہونا ہے لہٰذا عوام سے انہیں کوئی ہمدردی نہیں ہمدردی انہیں خود سے ہے۔۔۔ اب لوگ بیوقوف ہیں نہ بے خبر انہیں پتا چل چکا ہے کہ اصل بات کیا ہے۔۔۔ یہ مہنگائی اور یہ اضافے اب زیادہ دیر موجود نہیں رہ سکتے کیونکہ وزیراعظم عمران خان امیدوں، آسوں اور  
خواہشوں کے دیے روشن کرنے چل پڑے ہیں۔۔۔ انہیں اب سبھی قرض بھی دیں گے اور امدادیں بھی ۔۔۔ یہاں سرمایہ کار بھی آئیں گے اور ماہرین بھی کیونکہ انہیں علم ہے کہ اب ان کی رقوم اور خدمات ضائع نہیں ہوں گی عمران خان وزیراعظم پاکستان ایک ایک پیسا ملک و قوم پر صرف کریں گے تا کہ ان کے معیار زندگی کو اوپر لے جایا جا سکے۔۔۔ لہٰذا عوام کسی کے ذاتی مخاصمت کی بنا پر دیئے جانے والے بیانات پر کان نہ دھریں کیونکہ انہیں پالا اپنے ’’کارناموں‘‘ کا ہے جو انہوں نے اپنی حکومتوں میں سر انجام دیئے۔۔۔!
عمران خان نے سعودی عرب سے جو تین ارب ڈالر نقد اور باقی سات ارب تیل وغیرہ کی صورت میں حاصل کیے ہیں ان سے یقیناًہم بحرانی کیفیت سے باہر آ گئے ہیں اور آئی ایم ایف کی کئی شرائط سے بھی نجات مل گئی ہے جس میں چین کے حوالے سے اس نے کہا تھا کہ اس سے جو لین دین کیا ہے اس کی تفصیل سے آگاہ کیا جائے۔۔۔ مگر اب ایسا کچھ نہیں تسلیم کرنا پڑے گا عین ممکن ہے کہ ہمیں دیگر دوست ممالک سے مطلوبہ رقم مل جائے اور آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔۔۔ بہرحال رُت بدل رہی ہے زندگی کو ایک نئی توناائی حاصل ہونے جا رہی ہے۔۔۔ عمران خان کی دیانت ، شرافت، لگن، محبت اور ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا کرنے کے جذبے کے پیش نظر بہت سے دولت مند یہاں صنعتوں کے قیام میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔۔۔ بہت سے ماہرین بھی پاکستان کے شعبہ جاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ چند روز پہلے آسٹریلین ماہر زراعت جان سٹین (John Steen) جو کوئنز لینڈ یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں اور وطن عزیز کی زراعت کو نئے خطوط پر استوار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ وہ کسانوں کی حالت بہتر کرنے کے لیے پاکستان کے زرعی شعبے کو ایک نیا انداز دینا چاہتے ہیں جس میں کاشت کاری کے جدید طریقے جن پر کچھ زیادہ خرچ نہیں آتا بھی متعارف کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ کاشت کاروں (چھوٹے) کو آسان شرائط پر قرضے دیئے جائیں ، زرعی آلات تک ان کی رسائی میں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے ، ادوبات زرعی کے حوالے سے بھی وہ بتا رہے تھے کہ ان کے استعمال میں بھی جدت لانے کی ضرورت ہے ایسا کرنے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے حوالے سے ایک مثال دی کہ ہم جو گلاب کے پھول توڑ کر فروخت کرتے ہیں اگر ان کو مناسب طور سے منڈی تک پہنچایا جائے تو ان کی تازگی برقرار رہتی ہے جو ان کی قیمت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے مگر یہاں پیداوار پرانے طریقوں کی وجہ سے نہیں بڑھ رہی اور کسانوں کی حالت روز بروز خراب ہو رہی ہے۔۔۔ ان کے ساتھ وہاں کوئنز لینڈ یونیورسٹی میں پاکستان کے ایک ذہین نوجوان ڈاکٹر شبیر احمد بھی تھے جو اکنامکس میں پی ایچ ڈی ہیں وہ بھی زراعت کو ترقی دینے کے لیے تجاویز دے رہے تھے وہ ملک کے لیے ایک تڑپ رکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک زراعت پر ہے لہٰذا ہمیں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے پیداواری عمل کو بڑھانے کے علاوہ عام کسان کی زندگی میں بھی انقلاب لانا ہو گا ۔۔۔ اس کے لیے آسٹریلین ماہر زراعت و تحقیق جان سٹین کی تجاویز اور کوششوں سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے اس ملاقات کا اہتمام نامور محب الوطن صحافی ایثار رانا نے کیا۔۔۔!
میں سوچ رہا تھا کہ عمران خان کی حکومت سے سوائے امریکہ اور اس کے ایک دو اتحادیوں کے خوش نہیں ہوں گے وگرنہ پوری دنیا کے چھوٹے بڑے ممالک میں انہیں پذیرائی مل رہی ہے اور ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے قریب ہوں اور وہاں معاشی و سماجی ترقیاتی منصوبے شروع کر یں۔۔۔ جان سٹین بھی تو ایسی ہی آرزو کا اظہار کر رہے تھے کہ انہیں دلی مسرت ہو گی پاکستان کے کسانوں کی خدمت کر کے کیونکہ وہ بنیادی طور پر انسان دوست ہیں لہٰذا وہ زراعت کی ترقی کے لیے پاکستان کے تحقیقی اداروں سے مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں ان کی حکومتی عہدیداروں سے بھی ملاقات ہو چکی ہیں جنہوں نے پوری توجہ سے ان کی بات کو سنا ہے اور اس پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔۔۔ بہرحال موجودہ حکومت اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے ایسے سنجیدہ فکر اور مخلص لوگ دستیاب ہونے جا رہے ہیں جو اس کے قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہ رہے ہیں تا کہ یہاں خوشحالی آئے ۔ اکہتر برس سے اچھے دنوں کی راہ تکنے والے عوام کو مہذب قوموں کی طرح پر آسائش اور انصاف پر مبنی نظام حیات میسر آئے ۔۔۔ مگر افسوس ہماری حزب اختلاف جس پر کرپشن کے الزامات ہیں اور در پیش صورت حال کی ذمہ داری بھی اس پر عائد ہوتی ہے ایک ایسے حکمران کو اقتدار سے الگ کرنے کا پروگرام ترتیب دے رہی ہے جو اپنے لیے نہیں اس ملک کے لیے سوچتا ہے اور اس کے خلوص بھرے طرز عمل کو دیکھ کر دنیا بھر سے ماہرین وسرمایہ کار ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ چلے آ رہے ہیں؟ 


ای پیپر