فوٹوبشکریہ فیس بک

چیف جسٹس نے مجرم شاہ رخ جتوئی کو کال کوٹھری میں منتقل کرنے کا حکم دیدیا
27 اکتوبر 2018 (18:47) 2018-10-27

کراچی: چیف جسٹس ثاقب نثار کراچی میں اہم سرگرمیوں کے دوران اچانک ملیر جیل پہنچ گئے، جہاں انہوں نے شاہ زیب قتل کیس میں گرفتار مجرم شاہ رخ جتوئی کو بی کلاس جیل میں دیکھ کر برہمی کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ مجرم کو کال کوٹھری میں منتقل کیا جائے۔

چیف جسٹس جیل سپرنٹنڈنٹ سے استفسار کیا کہ یہ سہولیات اور آسائش اسے کیسے فراہم کی گئیں۔ سہولیات فراہم کرنے پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو معطل کردیا اور آئی جی جیل خانہ جات سے رپورٹ بھی طلب کرلی۔ چیف جسٹس کے حکم پر قائمقام آئی جی جیل خانہ جات نے مجرم شاہ رخ جتوئی کو ملیر جیل سے سینٹرل جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے گرفتار سربراہ انور مجید کے کمرے کا بھی جائزہ لیا۔ واضح رہے کہ نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی کو بھی اسی جیل میں رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس نے ازخود نوٹس پر سماعت کے دوران سوال کیا کہ اومنی گروپ کی شوگر ملز سے چینی غائب کیسے ہوئی ؟؟؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا ایف آئی اے نے اومنی گروپ کی شوگر ملز پر پہرے کیوں نہیں لگائے؟ سپریم کورٹ کے استفسار پر ایف آئی اے ایکشن میں آئی اور انور مجید کے بیٹے نمر مجید کو گرفتار کرلیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اومنی گروپ کے سارے معاملات عدالت خود دیکھے گی۔ ازخود نوٹس مکمل ہونے تک بینکنگ کورٹ کوئی فیصلہ جاری نہیں کرے گی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 


ای پیپر