وزیر اعظم اور کڑوا سچ !
27 اکتوبر 2018 2018-10-27

وزیر اعظم عمران خان کی ایک ” خرابی “ یہ بھی ہے وہ جھوٹ اتنی آسانی سے نہیں بولتا جتنی آسانی سے سچ بول دیتا ہے۔ اِس حوالے سے وہ اپنی اُن ” اخلاقیات“ کو بھی پیش نظر نہیں رکھتا جِن کے مطابق اب جھوٹ بولنا اشد ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اِس کے بغیر گزارا ہی نہیں ہوتا۔ خاص طور پر ہماری سیاست کا ایک بنیادی تقاضا یہ بھی ہے سچ بولتے ہوئے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے اور جھوٹ فرافر بول دیا جاتا ہے۔ ہماری سیاست سے جھوٹ اگر نکال دیا جائے سیاست ارضی عبادت ہے، جو اب ایک لعنت بنی ہوئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے ہماری سیاست سے اگر شریف برادران‘ زرداری ، مولوی فضل الرحمان اور اِس ٹائپ کے چند اور ” بہروپیوں“ کو نکال دیا جائے سیاست واقعی عبادت بن جائے۔ جھوٹ اور سیاست لازم و ملزوم ہیں۔ بلکہ اب تو صحافت بھی اِس کے قریب قریب کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسے جڑے ہوئے ہیں کہ اُنہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایک سیاستدان سے کسی نے کہا ” کوئی جھوٹ بولیں “ وہ بولا ” میں جھوٹ نہیں بولتا“۔ اگلے روز ایک صوبائی وزیر ایک محفل موسیقی میں میرے ساتھ والی نشست پر ہی تشریف فرما تھے۔ اُنہیں کسی کا فون آیا۔ وہ فرمانے لگے ” ابھی تک دفتر میں ہی بیٹھا ہوں، خان صاحب کے وژن کی تکمیل کے لئے آدھی آدھی رات تک کام کرنا پڑتا ہے“.... فون بند ہوا میں اُن کی خدمت میں عرض کیا ” آدھی آدھی رات تک خان صاحب کے کون سے وژن کے مطابق ، کیا کیا کام کرنا پڑتا ہے؟ اس کی تفصیل نہ کسی کو بتا دیجئے گا خان صاحب کے لئے آپ جیسے لوگوں نے پہلے ہی بہت مسائل کھڑے کئے ہوئے ہیں“۔ اب لوگ یہ توقع کرتے ہیں اپنی ٹیم کے کچھ ارکان کی طرح خان صاحب بھی فر فر جھوٹ بولنے میں زرا دِقت محسوس نہ کریں۔ دوسری طرف خان صاحب دنیا کے سامنے سچ بولنے میں زرا دقت محسوس نہیں کر رہے جس کی ہمارے کچھ دانشوروں اور اینکرز کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے۔ وہ چاہتے ہیں خان صاحب دنیا میں جہاں بھی جائیں دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کریں پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ خان صاحب دنیا کو اِس لئے بے و قوف نہیں بنا رہے، یا بے وقوف نہیں بنانا چاہتے وہ جانتے ہیں یہ آسان کام نہیں ہے۔ یہ شعور اور میڈیا کی بیداری کا دور ہے۔ اِس دور میں کس کو بے و قوف بنا کر ویسے ہی شرمندہ ہونا پڑتا ہے جیسے ایک باپ اپنے بچے کے سامنے ہوگیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک بچے نے اپنے باپ سے پوچھا ” ابو جان میرا سب سے بڑا بھائی کیسے پیدا ہوا تھا؟ باپ بچے کے اِس اچانک سوال پر ذرا گھبرا سا گیا۔ کہنے لگا ” وہ بیٹا بات یہ ہے میں اِک روز چھت پر گیا اور ایک فرشتہ آیا اور آپ کے بڑے بھائی کو چھوڑ کر چلے گیا“ بچے نے باپ کی طرف غور سے دیکھا اور پوچھا ” اور ابو جی میرا درمیانہ بھائی کیسے پیدا ہوا تھا؟” باپ بولا “ وہ ایک بار میں مارکیٹ گیا تھا وہاں سے خرید کر لایا تھا“۔ بچے نے ایک بار پھر حیرانی سے باپ کی طرف دیکھا اور پوچھا ” ابو جی میں کیسے پیدا ہوا تھا؟ باپ نے اس بار پھر بچے کو بہلانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا ” بیٹا ایک بار گھر کی گھنٹی بجی ، میں باہر گیا، ایک صاحب پھولوں کی ٹوکری لے کر کھڑے تھے، میں اندر آکر وہ ٹوکری کھولی اُس میں آپ تھے۔ بچے نے یہ سارے جوابات سنے ۔ اُس کی جھوٹ سننے کی سکت شاید جواب دے گئی تھی۔ اُس نے باپ سے کہا ” ابو ہمارا کوئی بھی بھائی قدرتی طریقے سے پیدا نہیں ہوا؟ “ میرے خیال میں ایک تو ہمارے وزیر اعظم کو جھوٹ بولنے کی اتنی عادت نہیں جتنی ہمارے دوسرے سیاستدانوں اور حکمرانوں وغیرہ کو ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ وزیر اعظم شاید دِل سے یہ سمجھتے ہیں اب وہ زمانہ نہیں رہا جھوٹ بول کر کسی کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ اگر بچوں کو جھوٹ بول کر بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ بڑوں کو کیسے بنایا جاسکتا ہے؟۔ اِن حالات میں وزیر اعظم عمران خان پاکستان کی موجودہ صورتحال خصوصاً معاشی صورتحال پر دنیا کے سامنے جھوٹ بولیں گے تو دنیا اُنہیں بھی ایک روایتی سیاستدان اور حکمران ہی سمجھے گی۔ اور پھر اُن کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرے گی جیسا سابقہ حکمرانوں کے ساتھ کرتی آئی ہے۔ جس کے نتیجے میں مسائل کا اتنا انبار لگ گیا ہے جِسے سنبھالنا انتہائی مشکل ہو رہاہے۔ ویسے بھی جھوٹ صرف پاکستان میں ہی چل سکتا ہے، بلکہ دوڑ سکتا ہے۔ سچ پوچھیں اب یہ ہماری رگوں میں دوڑتا ہے۔ بے شمار غیر اسلامی ممالک میں جھوٹ بولنا ” گناہ کبیرہ “ سمجھا جاتا ہے اور ” اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں یہ ” گناہ صغیرہ“ بھی نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ اب تو ” کار ثواب “ سمجھا جاتا ہے مجھے یاد ہے ایک بار مخدوم جاوید ہاشمی نے مجھ سے کہا ” تم گورنمنٹ کالج میں پڑھاتے ہو، ہمارے حکمران سرکاری ملازم کو ” سرکاری ملزم “ سمجھتے ہیں، تم ہمیشہ سچ لکھتے ہو، یہ بڑی جرا¿ت کا کام ہے “ میں اُن کی یہ بات سُن کر ہنس پڑا۔ میں نے عرض کیا ” یہ ایک المیہ ہے ہمارے ہاں سچ لکھنے یا بولنے کو ” جرا¿ت“ سمجھا جاتا ہے‘ جبکہ مہذب معاشروں میں یہ ” روٹین میٹر“ ہے۔ ہمارے بے شمار سیاستدان عمران خان کو اِس لئے پسند نہیں کرتے ، یا وہ اِس لئے اُنہیں زیادہ چُبتا ہے کہ وہ اُن کی طرح روایتی جھوٹا نہیں ہے۔ وہ جو بات محسوس کرتا ہے بغیر لگی لپٹی رکھے کہہ دیتا ہے۔ اِس کا اُسے نقصان بھی ہوتا ہے، بلکہ ماضی میں بھی ہوتا آیا ہے، وہ اپنی اِس فطرت پر قابو پالیتا شاید بہت پہلے وزیر اعظم بن جاتا۔ وہ اپنی اِس فطرت پر قابو پانے میں شاید اِس لئے ہمیشہ ناکام رہا ہے کہ فطرت تبدیل نہیں ہوتی۔ اِسی سوچ کے تحت وہ بار بار لوٹ مار کرنے والے سیاستدانوں کو معاف نہیں کرنا چاہتا۔ اِسی سوچ کے تحت وہ بار بار اُنہیں للکارتا ہے اور کہتا ہے اُنہیں کوئی اب کوئی این آر او نہیں ملے گا۔ اِس حوالے سے اُس کی سوچ بڑی واضح ہے۔ مگر اصل کردار تو اِس ملک کی اصل فیصلہ ساز قوتوں نے کرنا ہے۔ کرپشن کے مکمل خاتمے کے لئے جب تک یہ قوتیں وزیر اعظم عمران خان کا ساتھ نہیں دیں گی۔ وزیر اعظم اُلٹا بھی لٹک جائے کرپشن ختم نہیں ہوگی۔ جنم جنم کے لٹیرے سیاستدانوں کو وزیر اعظم عمران خان سے بھلائی کی کوئی اُمید نہیں۔ اُن کی اصل امیدیں اب بھی اِس ملک کی ” اصل فیصلہ ساز قوتوں “ سے ہی وابستہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں یہ قوتیں اُن کے لئے ایک بار پھر ایسی آسانیاں پیدا فرما دیں جس کے نتیجے میں اُن کے سارے ” حرام “ ایک بار پھر ” حلال“ ہو جائیں۔ یہ سانحہ اب کے بار ہوا یہ پاکستان کی بدقسمتی کی انتہا ہوگی۔ احتساب کے نام پر اِس ملک میں ہمیشہ ایک ” ڈرامہ “ رچایا گیا۔ پہلی بار یہ ایک ” حقیقت“ دکھائی دے رہی ہے۔ اللہ کرے اب کے بار بھی یہ نظروں کا دھوکہ نہ ہو۔ اب کے بار بھی یہ شعر ہمیں شرمندہ نہ کرے۔
ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں ” موتیا“ اُتر آیا


ای پیپر