The protection of public health, food and life and property is primarily the responsibility of the government
کیپشن:   فوٹو/فائل
27 نومبر 2020 (10:43) 2020-11-27

عوام کی صحت، خوراک اور جان و مال کا تحفظ بنیادی طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ موجودہ حکومت صحت کے معاملے میں اپنے فرائض سے پوری طور پر آگاہ ہے اور اس شعبے میں اپنی پوری توانائیاں صرف کر رہی ہے۔ ماضی میں ہسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ غفلت حکومتی اقدامات کی ہو یا ڈاکٹروں کی بھگتنا غریب عوام کو ہی پڑتا ہے۔ گزشتہ دور حکومت میںگورنمنٹ ہسپتالوں میں ایک ہی بیڈ پر کئی مریض موجود ہوتے تھے اور پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں تھا۔ صفائی کے ناقص انتظامات پر بھی ہسپتالوں کی انتظامیہ نے چپ سادھ لی تھی۔ مگر اب وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں حکومت کی شب و روز محنت رنگ لا رہی ہے اور عوام کی صحت پر اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

شعبہ صحت کی ترقی اور مریضوں کو جدید طبی سہولیات کی دہلیز پر فراہمی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے اسی مقصد کے لئے بجٹ میں خاطر خواہ فنڈز رکھے گئے ہیں۔ حکومت پنجاب نے شعبہ صحت کی ترقی و استحکام کے لئے موجودہ مالی سال میں 308 ارب روپے کا تاریخ ساز بجٹ مختص کیا ہے جو گزشتہ حکومت کے ہیلتھ بجٹ سے 8.4 فیصد زیادہ ہے اور صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں 9 نئے ہسپتالوں کے قیام کے علاوہ موجودہ ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کے منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔ اس مالی سال میں صوبہ کے سرکاری ہسپتالوں میں اڑھائی ہزار بیڈز کا اضافہ ہو گا۔ جدید سہولتوں سے آراستہ نئے ہسپتال لیہ، میانوالی، رحیم یار خاں، بہاولپور، ڈیری غازی خاں، ملتان، راولپنڈی اور لاہور میں بنائے جائیں گے۔

جہاں تک عوامی صحت کا سوال ہے تو وفاقی دارالحکومت میں 16 بنیادی مراکز صحت نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماضی میں بنیادی مراکز صحت میں کوئی فزیشن تعینات نہیں کیا گیا تھا جس کے باعث سرکاری ہسپتالوں میں آؤٹ ڈور مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافے اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کو علاج معالجہ کی مفت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں ادویات اور ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔ ڈینگی سے بچاؤ کے لئے آگاہی اور حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک تب تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری نہیں لاتا۔ ہماری حکومت ان شعبوں میں بہتری لانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں 2 ارب روپے ہیلتھ کارڈ کے اجرا کے لئے مختص کئے گئے ہیں اور اس سال پنجاب کے 36 اضلاع میں 72 لاکھ ہیلتھ کارڈ جاری کئے جائیں گے جس کی بدولت 3 سے 4 کروڑ لوگ علاج معالجہ کی سہولتوں سے مستفید ہونگے اور دوسرے شہروں سے علاج کیلئے آنے والے مریضوں کو ایک ہزارروپے کرایہ بھی دیا جائے گا۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ملک بھر میں ’ صحت انصاف کارڈ‘ سکیم شروع کر کے ایسے آٹھ کروڑ شہریوں کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جو خود اپنی مالی صورتحال کی وجہ سے اکثر ہسپتالوں کا رخ نہیں کر پاتے ہیں۔ صحت کارڈ سکیم کا مقصد غریب طبقے کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ گھر میں بیماری ہو تو تمام بجٹ متاثر ہو جاتا ہے۔ صحت کارڈ سکیم کے تحت کارڈ ہولڈ رز کو سالانہ سات لاکھ 20 ہزار روپے تک علاج کی سہولت دستیاب ہو گی۔ ڈیڑھ کروڑ خاندان یعنی آٹھ کروڑ شہریوں کو مفت صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اینجیو پلاسٹی، برین سرجری اور کینسر سمیت دیگر امراض کا مفت علاج، سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت اور ملک کے 150 سے زائد ہسپتالوں سے علاج کرایا جا سکے گا۔

پی ٹی آئی حکومت نے کے پی کے میں اپنے گزشتہ دورحکومت کے دوران صحت کے شعبے میں بہت اصلاحات کیں۔ صحت کارڈ سکیم سب سے پہلے کے پی کے میں ہی متعارف کرائی گئی تھی جس کے بہت شاندار نتائج برآمد ہوئے۔ اب مرکز میں حکومت ہونے کی وجہ سے عمران خان پر پورے ملک کی ذمہ داری ہے جس کو وہ احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ پنجاب میں میانوالی ہسپتال، نشتر ٹو ملتان اور کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ ڈی جی خان کے قیام کے منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔ حکومت نے لاہور کے سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ جلد تیار کرنے کی ہدایت کی کہ مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور تعمیر نو کے پراجیکٹ جلد مکمل ہونے چاہئیں۔ میانوالی ہسپتال، نشتر ٹو اور کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ ڈی جی خان کی تعمیرکے منصوبوں کے امور کو جلد سے جلد طے کیا جائے۔ ڈیر ہ غازی خان میں کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ بننے سے بلوچستان کے مریضوں کو بھی معیاری علاج معالجے کی سہولت ملے گی۔ ڈیرہ غازی خان ٹیچنگ ہسپتال میںآڈیٹوریم، ڈاکٹر اور نرسز ہوسٹلز بھی بنائے جا رہے ہیں۔

رواں سال کورونا وبا کے آغاز ہی میں لاک ڈاؤن اور دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد کرا کر حکومت نے نا صرف عوام کو کورونا سے بچایا بلکہ دنیا میں ایک مثال بھی قائم کی۔ برطانیہ، امریکہ، سپین جیسے ترقی یافتہ ممالک میں کورونا نے جو تباہی مچائی وہ دنیا کے سامنے ہے۔ لاکھوں افراد بروقت حفاظتی تدابیر نہ کرنے کی وجہ سے اپنی جانوں سے گئے۔ اس کا صرف ایک ہی حل تھا کہ لاک ڈاؤن کر دیا جائے مگر اس کے بعد بھی کئی ممالک میں کورونا بہت شدت سے پھیلا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اتنی زیادہ آبادی کے ہوتے ہوئے زیادہ عرصے تک مکمل لاک ڈاؤن لگانا ممکن نہیں کیونکہ ہمیں لوگوں کو کورونا وائرس اور بھوک سے بھی بچانا ہے لہٰذا سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ۔ اس عالمگیر وبا سے مؤثر طور پر نمٹنے کی غرض سے سہولیات کی مکمل معلومات اور تفصیلات کے حصول کے لئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر قائم کیا گیا۔ وبا کی روک تھام کے لئے ایس او پیز پر عمل درآمد کی غرض سے عوام کو قائل کرنے کے لئے ٹائیگر فورس تعینات کی گئی۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت ملک میں حفظان صحت کے بنیادی مراکز کے ذریعے صحت کی یکساں سہولیات کی فراہمی کے نظام میں بنیادی اصلاحات متعارف کرانے کے لیے پُرعزم ہے۔ آج ملک میں صحت کے شعبے میں درپیش مسائل ماضی کی تمام حکومتوں کی اجتماعی ناکامی کا نتیجہ ہے جنہوں نے عوام کے لیے صحت کی بہترسہولیات کی فراہمی کو ہرگز ترجیح نہیں دی۔ حکومت درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے بھرپور کوششوں کی ضرورت سے بخوبی آگاہ ہے۔


ای پیپر