Maulana Zafar Ali Khan and the moment of seeking knowledge
کیپشن:   فوٹو/فائل
27 نومبر 2020 (10:41) 2020-11-27

آگرہ جانے والی گاڑی پوری رفتار سے اپنی منزل کی طرف بھاگی جا رہی ہے۔ مسافروں کی اکثریت باہر کے چشم زدن میں بدلتے نظاروں کو دیکھنے میں مصروف ہے۔ ایک برتھ پر ایک لمبا چوڑا آدمی پڑاخراٹے لے رہا ہے۔ اس کے خراٹوں کی آواز سے اردگرد کے سارے مسافر پریشان ہیں۔ برتھ کے نیچے کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے چار نوجوان خاص طورپر ان خراٹوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ کوئی کہتا ہے اسے جگا دیا جائے، کوئی کہتا ہے کہ اسے بھگا دیا جائے۔

سفر جاری ہے اور گاڑی فراٹے بھرتی جا رہی ہے، نیچے بیٹھے ہوئے چار نوجوانوں کی نظر یکایک ایک ٹوکری پر پڑتی ہے جو برتھ پر سوئے ہوئے مسافر نے برتھ کے ساتھ لٹکا رکھی ہے۔ ایک نوجوان بڑھ کر دیکھتا ہے اور ٹوکری کو نیچے اتار لیتا ہے۔ ٹوکری دیکھ کر چاروں کے منہ میں پانی بھر آتا ہے۔ لڈو… تینوںبہ یک زبان پکارتے ہیں اور ساتھ ہی ٹوکری پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

دوسرے ہی لمحے ٹوکری خالی ہو جاتی ہے۔ اب یہ چارو نوجوان اِدھر اُدھر لیٹ جاتے ہیں ۔آگرہ آنے میں ابھی کچھ دیر ہے ،مسافر اسی طرح اردگرد سے بے نیاز خراٹے لینے میں مصروف ہے…آگرہ سٹیشن پر گاڑی رکتی ہے تو نوجوان ڈرتے ڈرتے گاڑی سے نیچے اترتے ہیں اور تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے اسٹیشن کی حدود سے باہر نکل جاتے ہیں۔ وہ مڑ مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کہیں وہ موٹا مسافر ان کا پیچھا تو نہیں کر رہا۔وہ تو خیریت گزری اور مسافر آگرہ کے بعدآنے والی کسی اگلی منزل کا مسافرنکلاجو اب تک برتھ پر پڑا اِدھر اُدھر سے بے نیاز اسی طرح خراٹے لینے میں مصروف تھا۔ ان نوجوانوں میں ایک مستقبل میں کلکتہ کے مشہور اخبار عصرِ جدید کا ایڈیٹر بننے والاغلام الثقلین نقوی ہے، دوسرا مستقبل کا ایک ممتاز اِنشاپرداز میر محفوظ بدایوانی اور تیسرامستقبل میں تحریکِ خلافت کا راہنما کہلانے ولا شوکت علی لیکن یہ چوتھا نوجوان کون ہے ؟

{۲}

اور یہ علی گڑھ کا ایم اے او کالج ہے موسیقی کے شیدائی کچھ نوجوانوں نے آج اپنے ایک تنہا رہنے والے دوست کے مکان پر ایک مغنیہ کو بلانے کا پروگرام بنایا ہے۔ وہ اپنے اس ساتھی کو ساتھ ملانے کے لیے اس سے بات کرتے ہیں مگر وہ سنتے ہی لاحول پڑھتا ہے اور ان کے پروگرام میں شرکت سے انکار کر دیتا ہے۔ دوست اصرار کرتے ہیں مگر وہ ان کی محفل سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور دوستوں کی دوستی کو اپنے کردار پرقربان کرکے چلا جاتا ہے۔ وہ دوستوں سے اس درجہ ناراض ہے کہ اسے انھیں سلام کرنا بھی گوارا نہیں۔ دن گزر گئے، دوست پریشان ہیں کہ اب ظفر علی خان کو کیسے منایا جائے؟ فیصلہ ہوتا ہے کہ سب مل کر اس کے پاس چلیں چنانچہ دوست اکٹھے ہو کر اس کے پاس آتے ہیں۔ سلام کرتے ہیں مگر ان کا ناراض دوست ان کے سلام کا جواب نہیں دیتا۔ دوستوں سے اپنے ایک پیارے ساتھی کی یہ ناراضگی برداشت نہیں ہوتی بالآخروہ اسے منالیتے ہیں جب وہ ان سے بولنے پر راضی ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ میں یہ کھکھیڑنہیں اٹھا سکتا۔ ہم یہاں پڑھنے کیلئے آئے ہیں، کھیلنے کے لیے نہیں۔ انھی مرحلوں میں والدین کی نگاہیں پیچھا کیاکرتی ہیں۔

{۳}

اور یہ علی گڑھ کا اسٹریچی ہال ہے۔ سرسید کی قومی خدمات کے اعتراف میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہو رہا ہے۔ اسٹیج پر مختلف قومی زُعما فروکش ہیں۔ ایک نوجوان ا سٹیج پر آتا ہے اور بڑے زور دار انداز میں جھوم جھوم کر سید احمد خان سے خطاب کرتے ہوئے اپنی نظم سناتا ہے:مسخر کرد نطقم کشورِ جادو بیانی را

بہ دام آورد طبعم صیدِ وحشیِ معانی را

ببین آن سیّدِاحمد کمر از ہمتش محکم 

کہ ماہر ہست یکسر چارئہ دردِنہانی را

ریاضِ قوم آب از اشک ہایِ چشمِ او گیرد

فلک چشمِ تو گاہی دیدہ است این باغبانی را

سر سید احمد خان اٹھتے ہیں اور فرطِ جذبات سے اس نوجوان کو گلے لگا لیتے ہیں۔

{۴}

اور یہ علی گڑھ یونین کا جنرل سیکرٹری ہے۔ لیکن کالج کی تقریبات میں صرف تقریریں ہی نہیں کرتا کالج کے واقعات اور قومی مسائل پر نظمیں بھی پڑھتا ہے۔ کالج میگزین کا ایڈیٹر بھی ہے کھیل کا مردِ میدان بھی ہے۔ ادب سے بھی دلی لگاؤ رکھتا ہے اور ریاضی کا طالب علم بھی ہے۔ شاعری سے دلچسپی کی بنا پر ایک مرتبہ غزل لکھتا ہے جو عشقیہ مضامین پر مشتمل ہے۔ اس کے استاد علامہ شبلی نعمانی تک اس غزل کا ذکر پہنچ گیا۔ استادِ مکرم سخت ناراض ہوتے ہیں اور اسے کہتے ہیں:’’یا تو شاعری چھوڑ دو ورنہ غزل کی شاعری سے توبہ کرو اور قومی مسائل پر اظہارِ خیال کرو۔‘‘

سعادت مند شاگرد اپنے استاد کی اس نصیحت کو پلے باندھ لیتا ہے اور غزل سے ایسا دست کَش ہوتا ہے کہ پھر ساری زندگی شاعری کرتا ہے مگر غزل نہیں کہتا۔ اس کے سات ضخیم شعری مجموعوں میں غزلوں کا مجموعہ ایک بھی نہیں ہے۔ اس کی شاعری قومی اور ملکی واقعات پر ہے۔

{۵}

جب بی اے کا امتحان دیا تو رزلٹ کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے السٹریٹڈ ویکلی اور ٹائمز آف انڈیا میں مقالات لکھنے شروع کر دیتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد نواب محسن الملک اسے اپنا پرائیویٹ سیکرٹری بنا لیتے ہیں۔ یہ نوجوان جو سیاست سے بھی دلچسپی رکھتا ہے جسے ادب سے بھی لگاؤ ہے جو بہترین کھلاڑی اور سعادت مند طالب علم بھی ہے، رفتہ رفتہ ملک میں پہچانا جانے لگتا ہے شعروادب اورصحافت و سیاست کے شعبوں میں ظفرعلی خان کی یہ پہچان آج بھی قائم ہے ۔


ای پیپر