In the days of the 2014 sit-ins, the pressure was eased after the situation in the country worsened
کیپشن:   فوٹو/فائل
27 نومبر 2020 (10:24) 2020-11-27

2014ء کے دھرنوں کے دنوں میں ملکی حالات اچھے خاصے خراب کرنے کے بعد دباؤ میں کچھ کمی کی گئی، ایسے میں ایک اہم عہدے پر فائز نیک نیت سول افسر نے اپنے طور پر اس وقت کے صدر ممنون حسین سے رابطہ کیا اور درخواست کی ریاست کا تماشا بن رہا ہے، آگے بڑھ کر رابطے کریں اور متعلقہ فریقوں میں ڈائیلاگ کرائیں، صدر ممنون کو یہ تجویز مناسب لگی، انہوں نے اس وقت کی حکومت سے پہلے اصل فریق سے رابطہ کیا اور ڈائیلاگ کی صلاح دی، مگر انہیں صاف طور پر بتا دیا گیا کہ کہ ہمارا کسی معاملے میں کوئی ہاتھ ہے نہ ہی کسی سے کوئی لینا دینا، ہم تو بس اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، اس طرح گرینڈ ڈائیلاگ کی کوشش یہیں دم توڑ گئی، آج کل ایک بار پھر سے ڈائیلاگ کی بات کی جا رہی ہے، فرق اتنا ہے جو پہلے انکاری تھے اب خود میڈیا میں موجود اپنے کارندوں کی مدد سے یہ تجویز دے رہے ہیں، بظاہر ان کا مخاطب حکومت اور اپوزیشن ہیں، یہ واضح نہیں کہ وہ خود اس میں فریق بنیں گے یا نہیں، اس سے بھی بڑی بات تو یہ ہے کہ ایسے کسی ڈائیلاگ کی صورت میں گارنٹی کون دے گا، پوری ملکی تاریخ اور ماضی حال بتاتا ہے کہ بات چیت کا ماحول بن بھی جائے تو وار کرنے والے باز نہیں آتے، سو اگر کوئی بات چیت ہونی ہے تو اس کے لیے آئندہ کا ٹائم فریم طے نہیں کیا جا سکتا، بڑے اور بنیادی نوعیت کے فیصلے اور اقدامات فوری کرنا ہونگے، اس کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو بھرپور سٹریٹ پاور کا مظاہرہ کرنا ہو گا، باقی سب باتیں وقت کا ضیاع ہیں، آج اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی ماضی والے تمام ہتھکنڈے ہی جاری ہیں، عالمی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر بڑے بڑے فیصلے کیے جا رہے ہیں، پی ڈی ایم کا گھیراؤ کرنے کے لیے وہی پرانے کرپشن اور غداری والے راگ الاپے جا رہے ہیں، اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ اصل حکمران ٹولہ کسی طور وسائل اور لامحدود اختیارات پر سمجھوتا کرنے کے لیے تیار نہیں، ملکی مفادات کا تحفظ نہ پہلے کبھی ان کی ترجیح رہا نہ آئندہ ہو گا، عوام سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں، بس ان کے معاملات بلا روک ٹوک چلتے رہیں باقی جو کچھ بھی ہوتا رہے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی، پی ڈی ایم کے قیام اور جلسوں کے بعد سے اب تک یہی کوشش کی جا رہی ہے کہ تحریک کو کیسے ناکام بنایا جائے، کبھی اپوزیشن کے اجتماعات میں دہشت گردی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں تو کبھی کورونا سے ڈرانے کی بھونڈی کوشش کی جاتی ہے، جعلی مقدمات بھی ساتھ ساتھ جاری ہیں، منصوبہ ساز کبھی یہ پلاننگ کرتے ہیں کہ صرف ن لیگ کو نشانہ بنایا جائے، شاید اس طرح تحریک کا زور ٹوٹے، کبھی پارٹیوں کے اندر سے لوٹے برآمد کرنے کی سازش کی جاتی ہے، بہر حال یہ طے ہے کہ نیت ٹھیک نہیں، ایسے ماحول میں بھی پی ڈی ایم کے کامیاب پاور شو جاری ہیں، پشاور کا جلسہ بھی بہت بڑا اور متاثر کن تھا، مقررین خصوصاً مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو زرداری اور اختر مینگل نے سماں باندھ دیا، منصوبہ سازوں نے پشاور میں بھی جلسے کا انعقاد روکنے اور شرکا کی تعداد محدود رکھنے کے لیے تمام منفی حربے استعمال کیے مگر سب بے سود رہا، اس جلسے میں تمام رہنماؤں نے اپنے اپنے الفاظ میں نواز شریف کے بیانیے کا اعادہ کیا، بلاول بھٹو زرداری نے کھل کر کہا کہ آب پارہ اور راولپنڈی کو اپنے فیصلے تھوپنے کا کوئی حق نہیں، ان کا کہنا تھا کہ ججوں، جرنیلوں اور سیاستدانوں کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ کہہ کر سیاسی دھماکہ کر دیا کہ آنے والے دنوں میں صرف سلیکٹڈ وزیر اعظم کا ہی نہیں بلکہ اسے لانے والے سلیکٹروں اور چیئرمین نیب کا بھی احتساب کیا جائے گا، ملتان اور لاہور کے اگلے جلسے اس نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیں، کیونکہ انہی جلسوں کے دوران اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دی جائے گی، سو منصوبہ سازوں نے ابھی سے پورا زور لگانا شروع کر دیا ہے کہ ان جلسوں کو کیسے غیر مؤثر بنایا جائے، حکومت باربار اعلان کر رہی ہے کہ جلسوں کی اجازت نہیں دی جائے گی، پی ڈی ایم والے کہتے ہیں کہ ہم اجازت نہیں مانگ رہے، صرف اطلاع دے رہے ہیں، ویسے بھی یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک تو حکومت بلکہ نظام گرانے کے تحریک چلائی جا رہی ہو اور دوسری جانب ہر مظاہرے سے قبل اسی حکومت سے اجازت طلب کی جائے، ادھر پی ڈی ایم کے پاس بھی دباؤ بڑھانے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں، نواز شریف کی والدہ کے انتقال کے باعث مسلم لیگ ن کی سیاسی سرگرمیاں کچھ وقت کے لیے معطل ہو گئی ہیں لیکن اس سے تحریک پر اثر پڑنے کا کوئی امکان نہیں، اطلاعات کے مطابق ڈاکٹروں نے نواز شریف کو ہوائی سفر سے روک دیا ہے سو وہ اپنی والدہ کی تدفین میں شرکت کے لیے پاکستان نہیں آ سکیں گے، بڑا المیہ ہے کہ مشرف دور کی جلاوطنی کے دوران ان کے والد گرامی انتقال کر گئے تھے، اس وقت بھی اہل خانہ تدفین کے لیے اپنے ہی وطن نہیں آ سکے تھے، پھر دوران قید ان کی اہلیہ کلثوم نواز انتقال کر گئیں، شریف خاندان کو اس وقت بھی گہرے صدمے اور مشکلات کا سامنا ہے، جس طرح جنازے میں شرکت کے لیے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیرول پر رہائی کو تماشا بنایا جا رہا ہے اس سے منصوبہ سازوں کی ذہنیت کا پتا چلتا ہے، ایسے میں مریم نواز نے اپنے والد کو پاکستان نہ آنے کا مشورہ دیتے ہوئے کھل کر کہا کہ سفاک ٹولہ ان کے خون کا پیاسا ہے ، نواز شریف خوش قسمت ہیں کہ کم ازکم دوبار جان بچانے میں کامیاب ہوئے ، مشرف مارشل میں انہیں سزائے موت دینے کا پلان ناکام ہوا ، دوسری مرتبہ حالیہ جلاوطنی سے پہلے دوران حراست وہ موت کے بالکل قریب آگئے تھے ، حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ وہ باہر جانے میں کامیاب ہوگئے ، یہ اپنی جگہ ایک سوال ہے کہ آخر دوران حراست ان کے ساتھ ایسا ہو رہا تھا جس کے سبب موت ان کے سر پر منڈلا رہی تھی ، سیاسی مبصرین کا بھی یہی خیال ہے کہ اس وقت نواز شریف کی واپسی خودکشی کے مترادف ہوگی ، اس حوالے سے مولانا عبدالغفور حیدری کا وہ انکشاف ہی کافی ہے جو انہوں نے ایک اہم ملاقات کے حوالے سے کیا تھا ، دلچسپ بات ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ( ر ) اسد درانی نے بھی اپنی نئی کتاب میں ان عوامل کا ذکر کردیا جو ن لیگ کی حکومت کے خاتمے کا سبب بنے  ، یہ ایک حقیقت ہے کہ پی ڈی ایم اور اپنی پارٹی کے لیے جو کردارنواز شریف باہر بیٹھ کر ادا کررہے ہیں بہت موثر ثابت ہورہا ہے ، وزیر اعظم عمران خان سے لے کر دیگر تمام ترجمان چلاتے پھر رہے ہیں ، اصل حکمران بھی خائف ہیں ، اب تو نواز شریف کی طرح پی ڈی ایم کے دیگر قائدین بھی سب کے احتساب بھی بات کررہے ہیں ، یہ بات بالکل درست ہے کہ ملکی معاملات کسی ڈائیلاگ سے حل نہیں ہونگے ، کیوں کہ کوئی گارنٹر ہے ہی نہیں ، یہ بھی دکھائی دے رہا ہے کہ اپوزیشن دباو بڑھانے میں کامیاب ہوگئی تو اسٹلشمنٹ براہ راست مقابلے پر آنے کی راہ اختیار نہیں کرسکے گی ، کیونکہ ایسا ممکن ہی نہیں رہا ، اپنے مقاصد کے لیے دیگر تمام اداروں اور اہلکاروں کو استعمال کرنے کا آپشن محدود ہوتا چلا جائے گا، اصل حکمران اشرافیہ دباو دیکھ کر خود کو وقتی طور پر الگ ضرور کرلیتی ہے ، جیسے ہی موقع ملے مخالفوں پر پھر سے وار شروع ہوجاتے ہیں سو مکمل احتساب کئے بغیر کوئی پائیدار تبدیلی ممکن ہی نہیں، عالمی منظر نامے پر رواں ہفتے کی ایک اہم پیش رفت اسرائیلی وزیر اعظم نتن ہاہو کا دورہ سعودیہ ہے ، یہ معاملہ غیر متوقع نہیں ،خبر آتے ہی پاکستان میں موجود ٹاوٹ اینکر فوراً حرکت میں آگئے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے ماحول بنانے کی ڈیوٹی پر لگ گئے ، شاید پاکستان کا حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ ایسا کرنا اسے طاقت کے مراکز پر قبضہ جمائے رکھنے میں مدد دیگا ، جہاں تک عوام کا تعلق ہے اسے اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، فائدہ تو ملک کو بھی نہیں ہوگا کیونکہ اسرائیل کے بھارت سے بہت گہرے تعلقات ہیں ، چین سے سے بھی دوستی ہے ، خلیجی ممالک تو اس کی جیب میں ہیں ، ہمارے ساتھ اب سعودیہ ہے نہ امارات ، حتی کے ملائشیا بھی نہیں ، اسرائیل سے تعلقات قائم کیے گئے تو ہمیں کئی حوالوں سے ماضی سے بھی زیادہ چوکنا رہنا ہوگا ،لیکن یہ بھی تب ہی ہو گا جب قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی جائے گی۔


ای پیپر