پہلے تولیں پھر بولیں۔۔۔!
27 نومبر 2019 2019-11-27

وزیر اعظم جناب عمران خان نے ایک بڑے میڈیا گروپ کے تجزیہ کار کو انٹرویو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ چند دن قبل ایک تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے بلاول بھٹو زرداری ، مولانا فضل الرحمان اور میاں شہباز شریف کے بارے میں جو الفاظ ادا کیے تھے ۔ آئندہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیر اعظم پاکستان مجھے یہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن کنٹینر سے میرے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی اس سے میرے اندر بہت غصہ تھا جو میں نے نکالا۔ اب میں نے سوچا کہ (آئندہ) ایسی تقریر نہیں کروں گا۔ لیکن ہوا کیا ؟ جناب وزیر اعظم کے انٹرویو میں بیان کردہ فرمودات کی بازگشت ابھی فضامیں گونج رہی تھی کہ اگلے ہی دن انھوں نے اپنے آبائی شہر میانوالی میں زچہ بچہ ہسپتال کے سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاں مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری اور میاں شہباز شریف کو دوبارہ اپنی تنقید کا نشانہ بنایا وہاں مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی ذات اور ان کی بیماری پرطنز اور تنقید کے تیر بھی برسائے۔اور اس کے ساتھ بالواسطہ طور پر ان کی بیماری کی نوعیت اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹس کو بھی مشکوک قرار دینے سے گریز نہیں کیا۔ جناب وزیر اعظم کا ارشاد تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ خود کو مولانا کہلوانے والا فضل الرحمان جھوٹ بول کر مدارس کے بچوں کو اسلام آباد لایا۔ سارے بے روزگار سیاست دان کنٹینر پر جمع تھے ۔ ـ"پانی آتا ہے والا" (بلاول بھٹو زرداری) بھی اس کے ساتھ آکر کھڑا ہوگیا اور جھوٹا شہباز منڈیلا بھی ۔ میاں نواز شریف اور ان کی بیماری کے بارے میں جناب وزیر اعظم نے کہا کہ نواز شریف لندن پہنچتے ہی ٹھیک ہوگیا۔ ڈاکٹرز کی رپورٹ نکال کر دیکھا جن میں لکھا تھا کہ مریض کی حالت اتنی خراب ہے کہ کسی وقت مر بھی سکتا ہے۔ اسے دل ، گردوں ، ذیابیطس کی بیماریاں ہیں اور پلیٹ لٹس بھی کم ہیں۔ یہاں اس کا علاج نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی شان ہے کہ یہ مریض جہاز کو دیکھ کر ٹھیک ہوگیا یا لندن کی ہوا لگنے سے۔ اس کی تحقیقا ت ہونی چاہیے۔

جناب وزیر اعظم کے ان خیالات کو پڑھ سن کر مجھے بزرگوں کا ایک قول یاد آگیا " پہلے تولو پھر بولو۔" یہ یقینا ایک سنہری قول ہے اور اس کا عام مفہوم یہ لیا جا سکتا ہے کہ بات کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے کہ جو بات کرنے لگے ہیں کیا وہ معقول ہے ؟ کیا اس کا موقع محل ہے؟ اور کیا اس سے اپنی پہلے کہی ہوئی کسی بات کی تردید تو نہیں ہو رہی یا اس سے اپنے ہی یمین و یسار پر بد اعتمادی کا اظہار یا ان کی دیانت دارانہ رائے اور سوچ کی نفی تو نہیں رہی۔ وزیر اعظم جناب عمران خان سمیت تحریک انصاف کے چھوٹے بڑے قائدین کے مختلف اوقات میں اپنے مخالفین کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں استعمال کیے گئے الفاظ اور لب و لہجے کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ جناب عمران خان، ان کے نائبین اور متعلقین قومی مسائل و معاملات اور مخالفین کا تذکرہ کرتے ہوئے بولنے سے پہلے کم ہی سوچتے اور تولتے ہیں۔ جناب وزیر اعظم جو یو ٹرن لینے کے عادی ہیں ان کے حوالے سے یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ ایک دن قبل انھوں نے اپنے انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ اپنے مخالفین کے بارے میں کوئی نازیبا یا سخت الفاظ استعمال نہیں کریں گے لیکن اگلے ہی دن تقریب سے خطاب کے دوران پتا نہیں کس ترنگ میں آکر اپنے ہی فرمان یا دعویٰ کو بھول گئے اور اپنے مخالفین کے بارے میں پہلے سے بھی سخت زبان استعمال کی۔ اسے جناب وزیر اعظم کا ایک طرح کا یو ٹرن سمجھ کر اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے تو سابقہ وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کی ذات اور بیماری کے بارے میں انھوں نے جو کچھ کہا ہے ا سے نظر انداز کرنا آسان نہیں ۔

وزیر اعظم جناب عمران خان کو اپنے سب سے بڑے مخالف میاں محمد نواز شریف کی ذات کو نشانہ بنانے سے کوئی روک نہیں سکتا لیکن اپنی ہی حکومت کے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈز کی میاں محمد نواز شریف کی بیماری کے بارے میں رپورٹس اور سفارشات کو رد کرنا یا ان کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرنانہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ جناب وزیر اعظم نے حویلیاں ، تھاکوٹ موٹر وے سیکشن کا افتتاح کرتے ہوئے جہاں مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری اور میاں شہباز شریف پر سخت تنقید کی اور ان کے نام بگاڑے وہا ں انھوں نے میاں محمد نواز شریف کی بیماری کے بارے میں اپنے "ناخدا" ہونے کا یہ کہہ کر اظہار کیا کہ کابینہ نے کہا ، نواز کو نہ جانے دیں ، مجھے رحم آگیا۔ ساتھ ہی انھوں نے میاں محمد نواز شریف کی بیماری کو اس طرح اپنی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس کی زد میں میاں محمد نواز شریف کی صحت اور بیماری کا مسلسل جائزہ لینے کے لیے پنجاب کی وزیر صحت محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی قیادت میںقائم اپنے اپنے شعبے کے ماہر اور قابل ترین ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ اور اس کی رپورٹس بھی آگئیں۔ایک قومی معاصر میں معروف اینکر پرسن اور کالم نگار جناب سلیم صافی نے "نواز شریف کی بیماری ۔ ایک سوال" کے عنوان سے چھپنے والے اپنے کالم میں اس ساری صورت حال پر بڑا حقیقت پسندانہ تبصرہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ۔

" اکتوبر کے آخری ہفتے میں اچانک میاں نواز شریف کی صحت کی خرابی کا معاملہ سامنے آیا میاں نواز جوڈیشنل ریمانڈ پر سرکار یا باالفاظ دیگر قومی احتساب بیورو کی تحویل میں تھے۔ کسی اپوزیشن والے نے نہیں ، تبدیل سرکار کے ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ میاں محمد نواز شریف کی حالت ٹھیک نہیں ۔ اس دن کے بعد میڈیا بھی میاں نواز شریف کی صحت کی خبر لینے اور دینے لگا۔ جبکہ ان کا خاندان اور پارٹی رہنما بھی دن رات اس کا رونا رونے لگے۔ لیکن معاملہ بنیادی طور پر پنجاب حکومت اور اس کے ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہاتھ میں رہا۔ کوئی اور نہیں بلکہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد قوم کو روزانہ میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق بریف کرتی رہی۔ ڈاکٹروں کی ٹیمیں کسی اور نے نہیں بلکہ پنجاب حکومت نے بنائیں۔ کسی اور نے نہیں خود ڈاکٹر یاسمین راشد نے قوم کو یہ برُی خبر سنائی کہ میاں صاحب کو دل کا معمولی دورہ پڑا ہے ۔ یہی سرکاری ڈاکٹر بتاتے رہے کہ میاں صاحب کے پلیٹ لیٹس کی کمی کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور یہ کہ انہیں بیرونی ملک علاج کے لیے بھیج دینا چاہیے۔ اس دوران خود وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کو بتایا کہ انھوں نے شوکت خانم کے ڈاکٹروں اور ذاتی ذرائع سے بھی تصدیق کی ہے کہ میاں صاحب کی بیماری جیونئین اور ان کی حالت تشویش ناک ہے ۔ انھوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ میاں صاحب کی صحت کے لیے دعا بھی کی۔ "

جناب سلیم صافی کے کالم کا یہ چشم کشا اقتباس میاں محمد نواز شریف کی بیماری کے بارے میں حقیقت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ یقینا ایسا ہی ہوا ۔ تاہم میاںمحمد نواز شریف کے لندن پہنچنے کے بعد ان کی بیماری کو ڈھونگ قرار دے کران کی میڈیکل رپورٹس کو نشانہ تنقید بنانا یا ان پر بد اعتمادی کا اظہار کرنا ایساہی ہے جیسے کوئی خود پر بد اعتمادی کا اظہار کر رہا ہو لیکن تحریک انصاف کے قائدین اگر اپنے اس وطیرے کو ختم کردیں تو کون ان کی لیڈر شپ کو تسلیم کرے گا۔ان کی لیڈر شپ قائم ہی اس طرح کے انداز ِ فکرو نظر اور اندازِ تکلم پر ہے۔


ای پیپر