آئی جی پنجاب کی 5 ویں بار تبدیلی
27 نومبر 2019 2019-11-27

کچھ دنوں سے پنجاب میں شور مچا ہوا تھا کہ گورننس کے بڑھتے ہوئے مسائل پر وزیراعظم عمران خان بہت برہم ہیں اور پنجاب میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس پر کچھ سادہ لوح لوگوں نے قیاس کے گھوڑے دوڑانا شروع کر دیئے کہ شاید وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی رخصتی کا وقت قریب آن پہنچا ہے مگر یقین کریں ہم نے اسے خوش فہمی سے زیادہ نہیں سمجھا کیونکہ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ جب تک میں وزیراعظم ہوں پنجاب کی حکمرانی کا حق عثمان بزدار کے پاس ہی رہے گا۔ ویسے بھی ہم نے عثمان بزدار کی تبدیلی کو اس لیے بھی خارج از امکان سمجھا کہ جس کی چھٹی کرانی ہو اس سے 24 گھنٹوں میں دو دو دفعہ ون ٹو ون ملاقاتیں نہیں کی جاتیں لہٰذا ہمیں پتہ تھا کہ عثمان بزدار کہیں نہیں جا رہے۔ پنجاب کے اس اناڑی حکمران ( جی ہاں وہ خود اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ آہستہ آہستہ سیکھ جائیں گے) کی قسمت کا ستارہ آج بھی جگمگ جگمگ کر رہا ہے اسی لیے تو ان کی کرسی کو کوئی خطرہ نہیں۔ ان کا کلہ قائم ہے۔ کہتے ہیں کہ انہیں جو کچھ ملا ہے یہ سب پاکپتن کے دربار کا دیا ہوا ہے۔ ہماری استدعا صرف اتنی ہے کہ وہ اپنے روحانی اور سیاسی آقاؤں کو شرمندگی سے بچائیں اور عوام الناس کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

پنجاب قومی آبادی کا 60 فیصد ہے اور پنجاب ہی قومی حکمرانی کا فیصلہ کن صوبہ ہے یہاں سے جیتنے والی پارٹی ہی قومی سطح پر حکمرانی کرتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو بھی سب سے زیادہ ووٹ اہل پنجاب نے دیئے ہیں اگر حکمران جماعت پنجاب کی امنگوں اور آرڑوؤں کو اسی طرح خاک میں ملاتی رہی تو عثمان بزدار کی کارکردگی آنے والے دور میں پارٹی کو لے ڈوبے گی۔ اقتدار کے اپنے مسائل ہوتے ہیں یہاں ایک طرف تو مخالفین کو ڈیل کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری طرف پارٹی کے اندر پائے جانے والے دوست نما مخالفوں کے ساتھ بھی معاملہ کرنا ہوتا ہے۔ عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے امیدواروں کی قطار بہت لمبی ہے اور ایک سے بڑھ کر ایک ایسے ہیں جنہیں وزیراعلیٰ بنا دیا جائے تو عمران خان کے لیے انہیں کنٹرول کرنا ناممکن ہو جائے گا لہٰذا وزیراعظم کے لیے عثمان بزدار ایک ایسا گوشۂ عافیت ہے جس کو چینج کرنا ان کے لیے خاصا آسان ہے۔

پنجابی کی کہاوت ہے کہ جتنا گڑ ڈالیں گے اتنا ہی میٹھا ہو گا یہ کوالٹی اور مقدار کی بات ہے کہ جیسا حکمران کا قدو قامت ہو گا حکمرانی بھی ویسی ہی ہو گی بزدار صاحب کی CV میں عمران خان کو جو بات سب سے زیادہ پسند تھی وہ یہ کہ وہ ایم پی اے بننے کے باوجود اپنے گھر میں بجلی نہیں لگوا سکے تھے اور دوسرا ان کا تعلق پس ماندہ ترین علاقے سے تھا۔ لیکن آپ دیکھیں گے کہ جس دن وہ رخصت ہوں گے نہ تو ان کا علاقہ پس ماندہ ہو گا اور نہ ہی بزدار فیملی۔ ان کی ترقی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ البتہ پنجاب کے عوام متاثر ہو رہے ہیں اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عمران خان کو بتایا گیا ہے کہ بیورو کریسی میں زیادہ تعداد سابقہ حکومت کے وفاداروں کی ہے لہٰذا وہ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے ایسے حربے استعمال کرتے ہیں جس سے عوامی مسائل التواء کا شکار ہو رہے ہیں حالانکہ کوئی بیورو کریٹ اتنا بچہ نہیں ہوتا کہ وہ حکومت وقت کو چھوڑ کر اپنے سیاسی نظریات یا من پسند پارٹی کی حمایت کرے بیورو کریسی کی تو سب سے بڑی خصوصیت ہی یہ ہے کہ یہ رنگ بدلنے میں ماہر ہیں حکومتیں تبدیل ہونے کے ساتھ ہی بیورو کریسی کا قبلہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ اور اگر کوئی افسر واقعی (ن) لیگ کی حمایت کی وجہ سے موجودہ حکومت کو ناکام کرنا چاہتا ہے تو اس کی نشاندہی کریں اور اسے نوکری سے نکالیں۔

حکومت اپنی نا اہلی کا الزام بیورو کریسی پر ڈال کر خود بری نہیں ہو سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ اتنے اناڑی ہیں کہ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ اپنے ماتحتوں سے کیسے کام لینا ہے۔

پنجاب میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا جو شور اٹھا تھا اس کے تحت ڈاکٹر شعیب دستگیر کو نیا آئی جی پنجاب اور میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کو نیا چیف سیکرٹری تعینات کر دیا گیا ہے۔ اعظم سلیمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وقت سیکرٹری داخلہ پنجاب تھے یہ بات ان کی مخالفت میں جائے گی۔ سب سے دلچسپ صورت حال آئی جی پنجاب کی تعیناتی کے بارے میں ہے گزشتہ ڈیرھ سال میں عثمان بزدار صاحب نے پانچویں آئی جی کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے اس سے پہلے 4 آئی جی ڈلیور نہ کر سکنے کی وجہ سے ہٹائے جا چکے ہیں لیکن پولیس اور لاء اینڈ آرڈر جوں کا توں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملے کا حل کہیں اور ہے مگر عمران خان آئی جی تبدیل کر دیتے ہیں۔ اہل پنجاب کی بدقسمتی ہے کہ گزشتہ حکومت کے دور میں پولیس کارکردگی بدلنے کے لیے پولیس کی وردی بدل دی گئی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا اس کے بعد اب جب بھی تبدیلی کی بات ہوتی ہے آئی جی تبدیل ہو جاتا ہے مگر پولیس اسی ڈگر پر رواں دواں رہتی ہے۔

چاہیے تو یہ تھا کہ جب پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار آئی تھی تو ان کے پاس اس وقت پولیس ریفارم کی کوئی پروپوزل ہوتی جسے برسراقتدار آتے ہی نافذ کر دیا جاتا مگر وزارت خزانہ کی طرح ان کے پاس اس ضمن میں کچھ بھی ریڈی میڈ نہیں تھا۔ ایسی صورت میں چاہیے تھا کہ گزشتہ حکومتوں کی طرح ایک بار پھر پولیس ریفارم پر کوئی کمیشن بنا کر ان سے سفارشات لی جاتیں مگر وہ بھی نہ ہوا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ پولیس اور سول گورنمنٹ کی کارکردگی کا سارا بوجھ عثمان بزدار کے ناتواں اور نا تجربہ کار کندھوں پر ہے جسے وہ اپنی سمجھ کے مطابق دھکیل رہے ہیں۔ ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے باقی بھی اسی طرح گزر جائے گا۔

جب ہم شہبا ز شریف اور عثمان بزدار کے طرز حکمرانی کا موازنہ کریں تو ہمیں کافی فرق نظر آتا ہے۔ شہباز شریف متحرک وزیراعلیٰ تھے اور ان کی وجہ سے بیورو کریسی میں کھلبلی مچی رہتی تھی مگر بزدار صاحب کا سب کو پتہ ہے کہ انہیں فائل پڑھنی نہیں آتی اس لیے بیورو کریسی انہیں آسانی سے اپنی صفائی پیش کر دیتی ہے۔

پولیس کو اگر سیاسی مداخلت سے پاک کر دیں تو پولیس کے 80 فیصد مسائل حل ہو جائیں گے یہ سیاسی مداخلت تھانہ سے لے کر آئی جی آفس تک ہوتی ہے جس کا سب کو پتہ ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال کافی ہو گی۔ رخصت ہونے والے آئی جی کیپٹن عارف نواز نے پولیس رولز میں سختی سے تاکید کی تھی کہ کسی ایک ضلع میں تین سال تعینات رہنے والے پولیس افسر کو اس ضلع میں دوسری پوسٹنگ نہیں دی جائے گی۔ مگر انہوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون کو توڑتے ہوئے سردار آصف خان کو حال ہی میں چیف ٹریفک آفیسر فیصل آباد تعینات کیا جو اپنی لاہور تعیناتی سے پہلے فیصل آباد میں 3 سال سے زیادہ کا عرصہ تعینات رہ چکے تھے۔ اس کا پس منظر یہ تھا فیصل آباد میں ٹرانسپورٹ کے بہت بڑے بڑے گروپ ہیں جن کے مالکان ہر اسمبلی کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ عناصر اپنے کاروبار پر گرفت کے لیے براہ راست چیف ٹریفک آفیسر کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہیں تا کہ ان کی گاڑیوں کے روٹ اور چالان کے مسائل نہ ہوں۔ سردار آصف رضا صاحب کا تعلق اس گروپ کے ساتھ کافی گہرا ہے لہٰذا وہ ان کے مفادات کے نگران بن کر ایک دفعہ پھر سی ٹی او فیصل آباد ہیں ایسی اور بہت سی مثالیں ہیں آئی جی کی تبدیلی نظام کی تبدیلی نہیں۔ یہ جاری رہے گا۔


ای پیپر