موت کا ایک دن معین ہے۔۔۔ نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
27 نومبر 2019 2019-11-27

دھرنے کے جن آفٹر شاکس کا گذشتہ کالم میں ذکر کیا تھا انکے اثرات پنجاب میں نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ رواں ہفتے کے آغاز میں وزیراعلیٰ پنجاب کی وزیراعظم عمران خان سے چوبیس گھنٹے کے دوران دوملاقاتیں ہوئیں جس کے بعد آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو تبدیل کر دیا گیا۔ پی ٹی آئی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں درجنوں وزراء کی عدم موجودگی نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف بغاوت پائی جاتی ہے ۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ممبران اسمبلی کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے بہت سی شکایات بھی رکھیں گئیں جس میں مہنگائی اور بیوروکریسی کے عدم تعاون و رشوت کی رودادیں بھی شامل تھیں۔ذرائع نے اس خبر کی تصدیق بھی کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران تمام شکایات من وعن عمران خان کے سامنے رکھیں جس کے بعد مشکل حالات کے باوجود پنجاب میں معمولی انتظامی تبدیلیوں کے لیے گرین سگنل تو مل گیا مگر مشکل یہ ہے کہ تبدیلی دیکھنے کے خواہشمند کسی سیکرٹری یا پولیس آفیسر کی نہیں بلکہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں اوراس کے لیے عمران خان تیار نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس کا ذکر کروں تو کور کمیٹی کے اہم ممبران(ّجن میں جہانگیر ترین،عبدالعلیم خان،شاہ محمود قریشی اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور شامل ہیں) بھی اب پنجاب میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے سر پر یہ تلوار کوئی نئی نہیں انکے حلف اٹھانے کے دن سے ہی یہ چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں تھیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب آج کل یا چند دنوں تک نہیں رہیں گے۔وزیراعظم عمران خان کئی مرتبہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ عثمان بردار کو تبدیل نہیں کریں گے مگر اس کے باوجود ایک اہم ترین انتظامی عہدے پر موجود شخص کو جب یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ اس کا یہاں بس آخری دن ہے تو یہ بہت ہی بنیادی نفسیاتی مشق ہے کہ نہ تو اسے اپنے کام میں کوئی دلچسپی رہتی اور نہ کچھ کر دکھانے کا شوق پروان چڑھتا ہے ۔انتظامی بنیادوں پرتبدیلی کا رجحان ایک اچھی روایت ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہماری تاریخ میں انتظامی بنیادوں پر سرکاری افسران کی ہمدردیاں میسرآ سکی ہیں ؟ کیا بیوروکریسی میں ایسے افسران موجود ہیں جو بغیر کسی سیاسی لگاؤ یا دباؤ کے کام کر دیتے ہیں ؟ کیا بیوروکریسی شہباز شریف کو گالیاں دینے کے باوجود انکے خوف سے کام کرنے کی عادت بھول گئی ہے ؟ کیا نچلے درجے کے افسران کی تنخواہ و مراعات اسے ایمانداری سے کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں ؟ کیا مشکل ترین امتحانات پاس کرانے کے باوجود ہم اپنے قابل ترین افسران کی صلاحیتوں کو زنگ لگا دینے والے ماحول سے نکالنے کے قابل ہیں ؟ ان تمام سوالوں کے جواب یقیناَ نفی میں ہیں کیونکہ ضلعی سطح پر چھوٹے چھوٹے علاقائی کام کرانے ہوں یا بڑے بڑے منصوبے منظور کرنا ہوں اصل کام تو بیوروکریسی نے کرنا ہے ۔ سیاست دان ، وزیر، مشیر یا ایم پی اے تو محض رہنمائی فراہم کر سکتا ہے اور اگرمتعلقہ سرکاری افسر کام نہ کرنے کی ٹھان لے تو پھر تگڑے سیاست دان بھی دوسرے طریقوں کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔جب آپ جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو پھر اپنے فیصلے مسلط بھی نہیں کر سکتے، اسپتالوں کی اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو ڈاکٹرز سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ کبھی اساتذہ کا احتجاج ،کبھی نرسز، کبھی لیڈی ہیلتھ ورکرز اور کبھی ایپکا، اور تو اور گزشتہ دنوں لینڈ ریکارڈ اتھارٹی جیسے ادارے نے بھی حکومت اور عوام کو اچھا خاصہ تنگ کیے رکھا۔مانا کہ مولانا کا دھرنا ہو یا تحریک لبیک کا احتجاج جمہوریت کا حسن ٹھہرتا ہے مگر ہمارا ماتم تو یہ ہے جمہور تو جناب عوام ہیں ، جمہوریت تو عوام کی آواز ہوتی ہے ۔عوام کے ٹیکس کے پیسے سے تنخوائیں لینے والے سرکاری ملازمین عوام کو ہی پریشان کر کے حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں، اپنے مطالبات منواتے ہیں ،پھر دوبارہ حکومت بن جاتے ہیں اورعوام بیچارے وہی ٹماٹر اور پٹرول کی قیمتوں کو روتے نظرآتے ہیں۔ جناب اعلیٰ کچھ ہوش کے ناخن لیں نوجوان نسل آج کل تقریباً ایک صدی پرانی انقلابی نظمیں یاد کر رہی ہے ۔۔چند روز قبل فیض میلے میں نوجوان خاتون نے جس جوش و جذبے سے بسمل عظیم آبادی کی یہ نظم پڑھی تھی...

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اب عوام ہی حقیقی تبدیلی لے کر آ سکتے ہیں کیونکہ یہ اب حکومتوں کے بس سے باہر کی بات دکھائی دیتی ہے ۔البتہ اگر موجودہ نظام کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہی سمجھ آتا ہے کہ طاقت کا اصل سرچشمہ حکومتوں کے نہیں بلکہ انتظامی اداروں کے ہاتھ میں ہے ۔دنیا بھر میں انتظامی اداروں کی بلدیاتی سطح تک خودمختاری ہی کامیابی کی ضامن ٹھہری ہے مگر ہمارے ہاں نہ سرکاری ملازمین اور نہ ہی سیاست دان بلدیاتی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے لیے آمادہ نظر آتے ہیں۔لہٰذا یہ تو طے ہوا کہ حکومت بیوروکریسی کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتی۔ مگر جناب جب آپ بیوروکریسی کو نیب اور احتساب کا ڈنڈا دکھا کر ہر دن آخری دن بتائیں گے تو وہ کیا خاک آپکے ساتھ تعاون کریں گے۔ قدرت کا ایک بڑا بیک وقت خوبصورت و خوفناک قانون یہ ہے کہ قیامت کا ایک دن معین ہے مگر اسکا اعلان کر کے رب کائنات نے نظام زندگی کو روکنے کا اختیار مخلوق کو نہیں دیا۔ ذرا ایک لمحے کو سوچیں کہ اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ آپ نے ٹھیک دس سال بعد یا پچاس سال بعد مرجانا ہے تو کیا آپ یوں ہی زندگی میں مگن رہیں گے یا 50 سال پہلے ہی دن گننا شروع کر دیں گے؟ اسی طرح اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ کل سے ہم اپنی ملازمت پر نہیں رہیں گے تو کیا ہم آخری دن ،آخری ہفتہ یا آخری مہینہ پوری توجہ سے کام کریں گے ؟ بالکل اسی طرح سرکاری ملازمین ، وزراء اور دیگر سرکاری افسران سمیت وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان کاحال یہ ہے کہ وہ بقول غالب خود کلامی کرتے نظر آتے ہیں

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی

کچھ ہماری خبر نہیں آتی

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی


ای پیپر