تبدیلی سرکار ،غربت ،مہنگائی ،کرپشن اور بیڈ گورننس میں اضافہ
27 نومبر 2019 2019-11-27

ٹماٹر تاحال 220 روپے کلو جبکہ لال رنگ کے عمدہ سیب 100 روپے کلو ،ہری مرچ ،دھنیا ہر دکاندار مفت میں دیتے تھے اب 250 روپے کلو ہر ی مرچ فروخت ہورہی ہے ۔آلو نیا 80 روپے کلو جبکہ کھوسہ جو ڈیڑھ سال قبل دس روپے کلو کوئی نہیں خریدتا تھا بھی اب ساٹھ روپے میں بک رہا ہے جبکہ پیا ز ساڑھے چار سو روپے فی پانچ کلو ہے ۔ کیا یہی ہیں اس تبدیلی کے اثرات جس کے لئے عمران خان گزشتہ بیس سالوں سے کوشش کررہا تھا ،سبزی کے نرخ آسمانوں کو چھورہے ہیں ۔حکومت ،انتظامیہ کی رٹ کہیں نظر نہیں آئی ،ملک بھر کی پرائس ریویو کمیٹیاں عضو معطل بن کر رہ گئی ہیں ۔صرف خانہ پری کے لئے دو چار ماہ کے بعد اجلاس بلاکر صرف ان خوشامدیوں ،چاپلوسوں ،مفاد پرستوں کو مدعو کیا جاتاہے جو سب اچھا کی رپورٹ دیں ۔مثبت تنقید اب عمران خان ،وزراء ،وزراء اعلی ،گورنر ،انتظامیہ سب برداشت نہیں کرپاتے ،کرپشن کا ناسور ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہا ہے لیکن کوئی احتسابی ادارہ یا دفتر ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہے آپ حیران ہوں گے پڑھ کر کہ ڈیرہ اسماعیل خان کا شہر بلوچستان کی بارڈر پر واقع ہے یہاں سے ایک سو کلو میٹر بعد ہی بلوچستان کی سرحد شروع ہوجاتی ہے ۔بلوچستان کے راستے ملک بھر کو نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اور ایرانی تیل کی سمگلنگ روزانہ کروڑوں روپے کی مالیت کی ہوتی ہے جو ظاہر ہے پولیس ودیگر سیکورٹی فورسز کی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے لیکن ادارے ،انتظامیہ خاموش ،پیٹرول پمپ مالکان کی چیخ وپکار کے بعد اب اس ہفتے نئے آر پی او ڈیرہ سید امتیاز شاہ کی ہدایت پر گزشتہ سوموار کے دن 44 سولیٹر ایرانی ڈیزل اور 52 سو لیٹر پیٹرول برآمد کرکے بائیس افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جبکہ سمگل ہونے والے تیل کی مقداراس سے کہیں زیادہ ہے یہ تو اونٹ کے منہ میں زیرا کے برابر ہے جبکہ نان کسٹم پیڈگاڑیوں کی سمگلنگ بھی اسی ڈیرہ ژوپ کے راستے سے جاری ہے جو گاڑیاں بعدازاں ملک بھر میں استعمال ہوتی ہیں ۔بڑے بڑے سردار ،وڈیرے ،عوامی نمائندے ،صنعت کار ،صحافی ،تاجر ،بیوروکریٹ ان گاڑیوں کو جعلی نمبر پلیٹ کے ساتھ یا دیگر طریقوں سے استعمال کرتے ہیں لیکن عام آدمی کے لئے ایک ناکارہ آلٹو ،سوزوکی کار کی قیمتوں میں اتنااضافہ کردیاگیا ہے کہ اب وہ عام ،سفید پوش عوام کی دسترس سے باہر ہوگئی ہے ۔آٹے کا بحران بتدریج بڑھ رہا ہے ۔پہلے پانچ روپے کی روٹی دس روپے میں کی گئی وزن ڈیڑھ سو گرام لیکن اب ایک سو بیس گرام کی روٹی دس روپے میں فروخت ہورہی ہے ۔آٹا کا بیس کلو کا تھیلہ بارہ سو روپے میں فروخت ہورہا ہے ۔پنجاب سے آٹے کی آمدبند ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں آٹا کا بحران موجود ہے ۔سرکاری گوداموں میں پڑی گندم من پسند فلور ملز کو فروخت ہورہی ہے ۔امیر امیر تر جبکہ غریب کے منہ سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیاگیا ہے ۔اوپر سے وفاقی وزیر برائے کشمیر امور علی امین خان گنڈہ پور فرماتے ہیں کہ ٹماٹر کے نرخ مہنگے ہونے سے دس کروڑ کسانوں کو فائدہ ہوا ہے۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر فروس عاشق اعوان مٹر کے نرخ پانچ روپے کلو جبکہ وزیر تجارت عبدالحفیظ ٹماٹر کے نرخ سترہ روپے کلو بتاکر عوام کے حالات، معاملات ،مہنگائی کے بڑھتے ہوئے سیلاب سے اپنی لاعلمی اور عدم دلچسپی کا اظہار فرمارہے ہیں ،خدا ہمارے ملک کے عوام پر رحم کرے بڑی مصیبت اور عذاب میں وہ پھنس چکے ہیں ۔سارا نظام الٹ چل رہا ہے ۔افسر شاہی کا بے لگام گھوڑا کرپٹ عوامی نمائندوں کے ہاتھوں مکمل بے بس نظر آرہا ہے وہ ایک کرپٹ پٹواری ،تحصیلدار کے خلاف بھی کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں ۔پنجاب کے وزیر اعلی کی طرح صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی اور ان کی ٹیم بھی مکمل ناکام ہے جس کے بارے میں سپریم کورٹ کے سنیئر ترین جج جسٹس گلزار احمد نے ایک کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات سنگین ترین ہوچکے ہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت دیوالیہ ہوجائے گی ۔صوبائی حکومت ان کے وزراء نہ صرف مالی ،انتظامی بدعنوانی کا شکار ہیں بلکہ انہوںنے تعلیمی درسگاہوں کا بھی بیٹرا غرق کردیا ہے۔گومل یونیورسٹی ودیگر جن میں مردان ،پشاور کے ادارے قابل ذکر ہیں شدید مالی ،تعلیمی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں ،ماہانہ تنخواہیں دینے کی رقوم موجود نہیں ہیں ۔پنشنر دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔بے روزگاری کا سیلاب دن بدن نوجوان نسل میں مایوسی کے ساتھ ساتھ ان میں عدم تحفظ اور معاشرتی برائیوںکو جنم دے رہا ہے ۔پراپرٹی اور موٹر بارگیننگ کا کاروبار ٹھپ ہونے کے باعث سرمایہ کی سرکولیشن تقریباًختم ہوچکی ہے۔زرعی اراضیات کے نرخ کے ساتھ ساتھ کمرشل پلاٹوں کے نرخ بھی بہت گر گئے ہیں ۔ٹیکسوں کی بھرمار ،ایف بی آر اور سیل ٹیکس کے اداروں کی پوچھ گچھ نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔سردیوں کے دنوں میں بھی بجلی ،گیس کی لوڈشیڈنگ جاری وساری ہے لیکن عمران خان کو ان کی ٹیم سب اچھا کی رپورٹ دے رہی ہے۔سب اچھا ہرگز نہیں ہے ایک لاوا ہے جو اندر ہی اندر پک رہا ہے ۔ان ناگفتہ بہہ حالات میں پاکستان کی دو بڑی جماعتیں پی ایم ایل این اور پی پی پی اپنا کردار ادا کرتی نظر نہیں آرہی ہیں ۔زرداری کی جماعت نے سندھ میں وہی حال کررکھا ہے جو خیبر پختونخوا اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومتوں نے کیا ہوا ہے جبکہ پی ایم ایل (ن) کی ساست صرف اور صرف نواز شریف کی رہائی ،بیماری ،مقدمات کے گردگھوم رہی ہے ۔ان حالات میں جمعیت علماء اسلام (ف) نے ہی ملک بھر میں پہلے اسلام آباد دھرنا دیا اب ملک کے بڑے بڑے شہروں میں احتجاجی جلسوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی بیڈ گورننس ،مہنگائی ،اقراباپروری ،بے روزگاری ،کرپشن کو کنٹرول کرنے میں مخلص نظر آرہی ہے ۔ایسے حالات میں اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے ہی عوام کی خلاصی اس نااہل حکومت سے کرواسکتے ہیں دوسری کوئی صورت اللہ کی مدد کے سوا نظر نہیں آتی ۔


ای پیپر