ہٹلر...کتاب’’ دشمن‘‘ سے ملاقات؟
27 نومبر 2019 2019-11-27

بائو جی یہ آپ اتنی کتابیں کیوں خریدتے ہیں … اُنہوں نے مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

میں گھبرا سا گیا میں نے اُ سے غور سے دیکھا تو وہ بالکل سنجیدہ بھی تھا مجھے یوں لگا جیسے کوئی سنار کسی خریدار سے پوچھے شیخ صاحب آپ آئے دن میری دوکان سے زیورات کیوں خریدتے ہیں (عجب دوکاندار ہے میں نے دل ہی دل میں کڑہتے ہوئے سوچا) اور ہاں بائو جی … بائو جی آپ نے عطاء الحق قاسمی کی کتاب ’’بارہ سنگھے‘‘ چھ سات مرتبہ میری ہی دوکان سے خریدی ہے … نذیر انبالوی کی مزاحیات کا انسائیکلو پیڈیا سات آٹھ کاپیاں یہاں سے ہی خریدیں … بائو جی کوئی برگر شرگر ہو تو بندہ کہتا ہے کہ چلو روز بھوک لگ جاتی ہے روز خریدتا ہوں اور کھا لیتا ہوں … اُس نے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے پھر سوال کیا … ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ پھر بولا اور مرزا ادیب کی ایک پرانی کتاب ’’مٹی کا دیا‘‘ کی بھی آپ تین چار کاپیاں خرید چکے ہیں (حالانکہ اُ سے کون بتائے کہ کتاب کبھی پرانی نہیں ہوتی … علم کبھی بوسیدہ نہیں ہوتا) سعد اللہ شاہ، امجد اسلام امجد، اعتبار ساجد اور فرحت عباس شاہ کی بھی آپ کتابیں کئی بار خرید چکے ہیں رحیم گل کا ناول ’’جنت کی تلاش‘‘ بھی بہت دفعہ آپ نے لیا شاید یہ ناول تو پبلشرصرف آپ کی ہی ضرورت کے لیے بار بار چھاپ رہا ہے۔ اُس نے طنزیہ انداز میں مجھے گھورتے ہوئے کتابوں کا بنڈل میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے پوچھا … ابھی میں جواب سوچ ہی رہا تھا اور گھبراہٹ کے باعث میرے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے اور شرمندگی کی وجہ سے ماتھے پر پسینہ بھی آ رہا تھا کہ وہ پھر سے بولا … ’’یہ جو کتاب کا بنڈل میں نے آپ کو تھمایا ہے اس میں بھی منیر نیازی کی شاعری کی کتاب کی تین کاپیاں ہیں عابد کمالوی کی کتاب ’’جانِ جاناں‘‘ کی بھی تین کاپیاں ہیں یہاں تک کے عرفان صدیقی کے کالموں کی کتاب کی بھی آپ نے چار کاپیاں میرے سے ایک ساتھ خرید لی ہیں اور اور اختر علی کی کتاب ’’بیچ کی کھڑکی‘‘ اور عارفہ صبح خان کے کالموں کی کتاب کی اکٹھی دس دس کاپیاں ایک ساتھ‘‘ وہ بولتا جا رہا تھا اُس کا منہ بھی ضرورت سے زیادہ کھلا ہوا تھا اور آنکھیں بھی میں نے بولنے کے لیے منہ کو کھولنا چاہا کہ اُس نے پہلے سے ہی کھلے ہوئے منہ کا پھر سے استعمال شروع کر دیا… اس دوران میری نظر بابا نجمی خان کی کتاب ’’کاجل کوٹھا‘‘ پر پڑی اور میں نے ہاتھ بابا نجمی خان کی کتاب کی طرف بڑھایا …

اگر آپ دوکانداروں کے اصولوں کے مطابق کتابوں کی قیمت کم کر کے یا دس پندرہ فیصد رعائت کرا کے لیتے تو میں سمجھتا کہ آپ کی کہیں اپنی دوکان ہے اور آپ مجھ سے خرید کر کتابیں اپنی دوکان پر لے جا کر فروخت کر دیتے ہیں مگر آپ تو مجھ سے کتابیں پوری قیمت پر ہی خرید کر لے جاتے ہیں آخر آپ ہیں کون اور یہ سب کیا ہے …؟ مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے اونچی بول کر اُس کی بات کاٹ دی … یار ہٹلر بھائی (اُس کی مونچھوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے وہیں کھڑے کھڑے اُ سے یہ نام دیا … وہ اس نام پر خوب مسکرایا اور اُس نے اس نام کا برا بھی نہیں منایا … شاید اُ سے اچھا لگا جب تم کسی عزیز دوست یا رشتے دار کے بچے کی سالگرہ پر جاتے ہو تو کیا لے کر جاتے ہو … وہ بولا بائو جی بچے کے حساب سے ہی تحفہ بھی لے جاتا ہوں پڑھے لکھے رشتے دار کا بچہ ہو تو ویڈیو گیم یا کوئی کمپیوٹر ٹائپ کھلونا اور اگر ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لوگوں کے گھر بچے کی سالگرہ وغیرہ پر جانا ہو تو پھر بچے کے لیے منہ سے بجانے والا باجا ’’پاں پاں پاں‘‘ … (اُس نے منہ سے بجایا) تا کہ وہ ٹاں ٹاں کرتا پھرے اور گھر والے جب بچہ ان کے کان کے پاس جا کر ٹاں ٹاں کرے مجھے یاد کریں کہ یہ ہٹلر دے گیا ہے میں نے وضاحت کی ہٹلر بھائی ایسے ہی جب میں کسی دوست رشتے دار کے ہاں سالگرہ پر جاتا ہوں تو بہت پڑھے لکھے کے لیے علامہ اقبال، مرزا غالب، فیض منیر نیازی، احمد فراز یا افتخار عارف، عطاء الحق قاسمی وغیرہ کی کتابوں کا سیٹ لے جاتا ہوں مزاحیہ پسند کرتا ہو تو ڈاکٹر محمد یونس بٹ، عطاء الحق قاسمی، شفیق الرحمن، انور مسعود یا خالد مسعود خان وغیرہ کی کتابوں کا سیٹ لے جاتا ہوں نوجوان ہو تو نوجوان پھر نوشی گیلانی، پروین شاکر، سعد اللہ شاہ، وصی شاہ، فرحت عباس شاہ یا خالد شفیق وغیرہ کی کتابیں چل جاتی ہیں اور اگر کوئی مذہبی ہستی ہو تو کشف والمجحوب، النبی الخاتم، ترجمان القران یا حفیظ تائب کی نعتیہ شاعری یا پھر کوئی اور مذہبی کتاب اور (اُس نے حسب عادت میری بات کاٹ دی اور اگر کوئی میٹرک فیل ہو تو پرانے اخباروں کا بنڈل یا پرانی انار کلی سے تین چار روپے میں تھڑے سے خریدی ہوئی کتاب بات مزیدار تھی مگر مجھے ہنسی نہ آئی کیونکہ میں ہٹلر بھائی کے ساتھ خوامخواہ فری نہیں ہونا چاہتا تھا (اُس وقت) کیونکہ میرے اُس سے نظریاتی اختلافات شروع ہو چکے تھے میرا پارہ مزید چڑھتا جا رہا تھا ہٹلر بھائی کے اس ظالمانہ رویہ کے باعث وہ بھی شاید ایسا ہی سوچ رہا تھا اور ایک دم ضرورت سے زیادہ سنجیدہ ہو گیا اور بول اُٹھا … بائو جی لوگوں کی عادتیں خراب نہ کرو اچھا تو پھر میں بھی تمہاری طرح منہ سے بجانے والے باجے ہی سالگرہ پر تحفہ میں دینا شروع کر دوں ٹاں ٹاں کرنے کے لیے میں نے غصے سے کہا تو اُس نے بھی مجھے گھورا اور وہ بنڈل جو میں نے غصے میں اُس کے بے ہودہ سوال کا جواب دینے کے لیے اُس کے اسٹول پر رکھ دیا تھا میرے ہاتھ میں تھما دیا تا کہ میں وہاں سے د فع ہو جائوں گویا میرے اُس کے نظریاتی اختلافات خاصے سنجیدہ شکل اختیار کر چکے تھے میں نے پیسے تھمائے سلام دعا بھی نہ کی اور باہر نکلنے لگا تو اُس نے میرا ہاتھ تھام لیا اور بولا … بائو جی میں نے تو آپ کا بھلا سوچا تھا کیونکہ آپ تو میرے گاہک ہیں اور گاہک اللہ کی رحمت ہوتی ہے (گاہک ہٹلر بھائی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے اگر اُس نے چادر یا ڈوپٹہ اوڑھ رکھا ہو اور اگر مونچھیں ہوں تو پھر گاہک اللہ کی زحمت ہوتا ہے) میری وضاحت پر ہنس پڑا اور میری بھی ہنسی نکل گئی … میں نے ہاتھ ملایا اور چلنے لگا تو اُس نے اپنا اسٹول میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا (نہایت پیار سے ) بائو جی دودھ پتی منگوائی ہے پی کر جانا ملائی والی ہے … ہٹلر بھائی کو میری اس کمزوری کا پتہ تھا اور میں چلتے چلتے رُک گیا رُکتا رُکتا بیٹھ گیا ملائی والی دودھ پتی کے انتظار میں ہر انسان کے اندر ایک بچہ چھپا ہوتا (راجہ صفدر آف ماڈرن جبوٹ کے بقول میرے اندر کا بچہ ابھی کم عمر ہی ہے اور ہر بچے کے اندر ایک لالچی انسان (چھوٹے برے سب بچوں سے معذرت) میں مزے لے لے کر دودھ پتی پی رہا تھا کہ وہ بول پڑا (اُس کی آنکھوں سے شرارت ٹپک رہی تھی) بائو جی ایک نئی کتاب آئی ہے نئے پرانے لطیفے وہ بھی دس کاپیاں پیک کر دوں مجھے بہت غصہ آیا اُس نے بھی بھانپ لیا یار ہٹلر بھائی کاش تم پڑھے لکھے ہوتے تو آج میں تمہیں انگلستان کے مشہور لکھاری برٹرنیڈرسل کا ایک مشہور اور نہایت مزے دار مضمون پڑھنے کو دیتا میرے منہ سے نا مکمل فقرہ نکلا ہی تھا کہ وہ بول پڑا … مظفر بھائی جس میں برٹرنیڈرسل نے لکھا ہے کہ اس دنیا میں کوئی آدمی اپنی مرضی سے زندگی نہیں گزار رہا جسے صحافی بننا چاہئے تھا وہ لوہار بن گیا جسے لوہار بننا چاہیے تھا وہ استاد بن گیا جسے پاگل خانے میں ہونا چاہئے تھا وہ سیاستدان بن گیا وغیرہ وغیرہ اور پھر وغیرہ میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا … ہٹلر صاحب آپ کون ہیں اور یہ میرے ساتھ آج آپ نے یہ سب کیا کیا ہے میں نے عینک کے اوپر سے جھانکتے ہوئے پوچھا … اس دوران دوکان پر کام کرنے والا ایک لڑکا کتابوں کے ایک بڑے سے بنڈل پر چڑھ کے اوپر والے ریک سے کتاب اتارنے لگا تو ہٹلر نے پاس پڑی کتابوں پر سے مٹی اتارنے والی جھاڑن اُس کی ٹانگوں پر زور سے دے ماری اور بولا … کمینے انسان یہ کتابیں علم ہیں یہ اللہ کا نور ہیں علم مقدر والوں کو ملتا ہے ان کتابوں ان لفظوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے میں مزید حیرت زدہ ہوا ہٹلر بھائی پھر بولا … مظفر محسن صاحب مجھے آپ کا بار بار میری دوکان پر آنا اس قدر کتابیں خریدنا مجھے اچھا لگتا ہے آج کے دور میں بھی علم کے قدر دان دیکھتا ہوں تو مجھے سکون ملتا ہے بڑی خوشی محسوس ہوتی ہے اور یقین بھی ہوتا ہے کہ میرے پاکستان کا مستقبل روشن ہے کہ یہاں آج بھی لوگ کتابوں سے پیار کرتے ہیں اور تحفے میں ایک دوسرے کو کتابیں دیتے ہیں اللہ کرئے کتابیں تحفے میں دینے کا رواج عام ہو (میں نے آپ کا وہ مضمون بھی پڑھ رکھا ہے جس میں آپ نے لکھا ہے کہ علامہ اقبالؒ کا سارا کلام حکومتی سطح پر چھپے اور ہر پڑھنے والے کو مفت ملے) کیونکہ مغرب اور امریکہ میں تو یہ رواج عام ہے اور ہماری نئی نسل بھی اس طرف راغب ہو … میں چلنے لگا تو ہٹلر بھائی نے مجھے ایک شاعری کی کتاب ’’رازِ محبت‘‘ پیش کی جس پر شاعر کا نام لکھا تھا باقر حسین باقرؔ … میںنے وہیں کتاب کی تھوڑی سی ورق گردانی کی اس دوران کتاب کی پشت پر چھپنے والی تصویر پر میری نظر پڑی تو میں اُچھل پڑا کیونکہ وہ تو ہٹلر بھائی کی اپنی ہی تصویر تھی ہم دونوں بغل گیر ہو ئے اور زور زور سے ہنسنے لگے…


ای پیپر