آرمی چیف مدت ملازمت کیس،عدالتی کاروائی کا مکمل احوال
27 نومبر 2019 (17:03) 2019-11-27

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ بہت سارے قواعد خاموش ہیں اور کچھ روایتیں بن گئی ہیں، ماضی میں پانچ 6 جرنیل خود کو دس دس سال ایکسٹینشن دیتے رہے کسی نے پوچھا تک نہیں، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کرلیتے ہیں،اگر جنگ ہورہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جاسکتی ہے، آئین و قانون کی کس شق کے تحت قواعد تبدیل کیے گئے، آرٹیکل 255 ان لوگوں کے لیے ہے جو سروس سے نکالے جاچکے یا ریٹائر ہوگئے، اس آرٹیکل کے تحت ان کو واپس بلایا جاتا ہے،لیفٹیننٹ جنرل 4 سال بعد ریٹائر ہوتا ہے اور آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر ہی نہیں ہے، آرمی آفیسر کے حلف میں ہے کہ اگر جان دینی پڑی تو دے گا، یہ بہت بڑی بات ہے، "میں خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کروں گا" یہ جملہ بھی حلف کا حصہ ہے، بہت اچھی بات ہے اگر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نا لیا جائے۔

بدھ کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے کیس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے آغاز سے پہلے بیرسٹر فروغ نسیم نے کمرہ عدالت میں وکالت نامہ جمع کروایا۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ کل ہم نے جو نکات اٹھائے آپ نے انہیں تسلیم کیا، اسی لیے آپ نے انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کی، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے ان غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ میڈیا کو سمجھ نہیں آئی، اس معاملے پر ہم نے ازخود نوٹس نہیں لیا، ہم کیس ریاض راہی کی درخواست پر ہی سن رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کابینہ نے کل کیا منظوری دی ہے ہمیں دکھائیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل بھی میں نے بتایا کہ توسیع کے نوٹی فکیشن پر متعدد وزرا کے جواب کا انتظار تھا، چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ اگر جواب نہ آئے تو کیا اسے ہاں سمجھا جاتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں قواعد کے مطابق ایسا ہی ہے۔

اٹارنی جنرل کے جواب پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ایسا صرف اس صورت میں سمجھا جاتا ہے جب مقررہ مدت میں جواب دینا ہو، آپ نے مدت مقرر نہیں کی تھی لہذا آپ کے سوال کا جواب آج بھی ہاں تصورنہیں کیاجاسکتا۔اٹارنی جنرل نے کابینہ کے گزشتہ روز کے فیصلوں کے بارے میں دستاویز عدالت میں جمع کرائیں۔اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا کل رولز میں تبدیلی کے وقت کابینہ کو رولز پربحث کےلئے وقت دیا گیا، اس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ کابینہ ارکان کو وقت دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر اوپن مینڈیٹ تھا تو چھوڑ دیتے ہیں، کابینہ نے ہماری غلطیوں کی نشاندہی کو مان لیا اور یہ بات طے ہے کہ کل جن خامیوں کی نشاندہی کی تھی ان کو تسلیم کیا گیا، خامیاں تسلیم کرنے کے بعد ان کی تصیح کی گئی۔ چیف جسٹس کے ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ خامیاں تسلیم نہیں کی گئیں اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر خامیاں تسلیم نہیں کی گئیں تو تصحیح کیوں کی گئی؟اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ میں اس کی وضاحت کرتا ہوں ،توسیع سے متعلق قانون نہ ہونےکا تاثر غلط ہے، یہ تاثر بھی غلط ہے کہ صرف 11 ارکان نے ہاں میں جواب دیا تھا۔

معزز چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کے موقف پر ریمارکس دیے کہ اگرباقیوں نے ہاں میں جواب دیا تھا تو کتنے وقت میں دیا تھا یہ بتا دیں، کل جو آپ نے دستاویز دی تھی اس میں 11 ارکان نے یس لکھا ہوا تھا، نئی دستاویز آپ کے پاس آئی ہے تو دکھائیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اب تو حکومت اس کارروائی سے آگے جاچکی ہے، اس پر اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ کابینہ سے متعلق نکتہ اہم ہے اس لیے اس پر بات کروں گا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مکالمہ کیا کہ اگر کابینہ سرکولیشن میں وقت مقرر نہیں تھا تو اس نکتے کو چھوڑ دیں، جو عدالت نے کل غلطیاں نکالی تھیں انہیں تسلیم کرکے ٹھیک کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے ایک بار پھر موقف اپنایا کہ حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا کہ ان سے غلطی ہوئی، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کابینہ کے ارکان کے مقررہ وقت تک جواب نہیں دیا گیا تھا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ رول 19 کے مطابق جواب نہ آنے کا مطلب ہاں ہے، اس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ رول 19 میں وقت مقرر کرنے کی صورت میں ہی ہاں تصور کیا جاتا ہے، اگر حالات پہلے جیسے ہیں تو قانون کے مطابق فیصلہ کردیتے ہیں۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کابینہ کی نئی منظوری عدالت میں پیش کردی۔

سمری پیش کرنے کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ازسرنو اور توسیع سے متعلق قانون دکھائیں جن پرعمل کیا، تسلی سے سب کو سنیں گے، کوئی جلدی نہیں، پہلے یہ سوال اٹھایا نہیں گیا، اب اٹھا ہے تو اس کے تمام قانونی پہلوں کا جائزہ لیں گے، ماضی میں پانچ 6 جرنیل خود کو دس دس سال ایکسٹینشن دیتے رہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آرمی چیف ملٹری کو کمانڈ کرتا ہے، تعیناتی صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر کرتا ہے۔اٹارنی جنرل کے موقف پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 243 میں تعیناتی کی مدت کی بات کی گئی ہے، آرمی چیف کتنے عرصے کے لیے تعینات ہوتے ہیں؟ کیا آرمی چیف حاضر سروس افسر بن سکتا ہے یا ریٹائرڈ جنرل بھی، قواعد کو دیکھنا ضروری ہے، 243 تو مراعات اور دیگر معاملات سے متعلق ہے۔

عدالت کے سوالات پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ میرے پاس ترمیمی مسودہ ابھی آیا ہے، اس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیال نے کہا کہ ہمارے پاس وہ بھی نہیں آیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آئین و قانون کی کس شق کے تحت قواعد تبدیل کیے گئے، آرٹیکل 255 ان لوگوں کے لیے ہے جو سروس سے نکالے جاچکے یا ریٹائر ہوگئے، اس آرٹیکل کے تحت ان کو واپس بلایا جاتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا مدت ملازمت 3 سال کے لیے ہے، 3 سال کے بعد کیا ہوگا، اس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ 3 سال تو نوٹی فکیشن میں لکھا جاتا ہے۔اٹارنی جنرل کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل کے نوٹی فکیشن میں 3 سال کی مدت کیسے لکھی گئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، اس میں سب کی بات سنیں گے، یہ سوال آج تک کسی نے نہیں اٹھایا، اگر سوال اٹھ گیا ہے تو اسے دیکھیں گے، جنرل چار 5 مرتبہ خود کو توسیع دیتے رہتے ہیں، یہ معاملہ اب واضح ہونا چاہیے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل 4 سال بعد ریٹائر ہوتا ہے اور آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر ہی نہیں ہے، اس پراٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ جی بالکل رول میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر نہیں۔اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا آرمی چیف کی تقرری کا نوٹی فکیشن ریکارڈ پر موجود ہے،؟ جو نوٹی فکیشن آرمی چیف کا جاری ہوا تھا وہ بتائیں کیا کہتا ہے، اگرریٹائرمنٹ سے 2 دن قبل آرمی چیف کی توسیع ہو توکیا وہ جاری رکھے گا، 3 سال کی مدت ہوتی ہے تو وہ کہاں ہے؟ عدالت کے سوال پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹرم کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کا تعین کہیں نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سب کو خاموشی سے سنیں گے، بہت سارے قواعد خاموش ہیں، کچھ روایتیں بن گئی ہیں، ماضی میں 6 سے 7 جنرل توسیع لیتے رہے کسی نے پوچھا تک نہیں، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کرلیتے ہیں ۔

معز ز چیف نے اٹارنی جنرل کو کہا کہ نارمل ریٹائرمنٹ سے متعلق آرمی کے قواعد پڑھیں، آرمی ایکٹ کے رول 262 سی کو پڑھیں، جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال دی گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ قمرجاوید باجوہ کی تعیناتی کا پہلا نوٹی فکیشن کیا کہتا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے اچھا نکتہ اٹھایا ہے، یہ معاملہ دوبارہ تعیناتی کا ہے، 1948 سے لے کر ابھی تک تقرریاں ایسے ہی ہوئیں ہیں۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے سابق آرمی چیف جنرل (ر)اشفاق پرویز کیانی کو جسٹس کہہ دیا اور کہاکہ جسٹس کیانی کی تقرری بھی ایسے ہی ہوئی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ رولز میں ریٹائرمنٹ اور ڈسچارج کا ذکر ہے، جب مدت مکمل ہوجائے تو پھر نارمل ریٹائرمنٹ ہوتی ہے، 253 کے ایک چیپٹر میں واضح ہے کہ گھرکیسے جائیں گے یا فارغ کیس کریں گے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس کے دوران اٹارنی جنرل درمیان میں بول پڑے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ جلدی میں تو نہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ نہیں میں رات تک یہاں ہوں۔دورانِ سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ایک بندہ ریٹائرمنٹ کی عمرکو پہنچ چکا تو اس کی ریٹائرمنٹ کومعطل کیا جاسکتا ہے، اگر جنگ ہورہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس کے ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ ریٹائرمنٹ کی حد کا کوئی تعین نہیں، اس پر جسٹس منصور نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ نہیں ہوسکتی؟ مدت پوری ہونے پر محض غیر متعلقہ قاعدے پر توسیع ہوسکتی ہے، یہ تو بہت عجیب بات ہے۔معزز چیف جسٹس نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ انگریز نے جو بنایا تھا وہ ایک اسکیم تھی، جو ترمیم کرکے آپ آگئے ہیں وہ آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ وفاقی حکومتی افسران سے متعلق رولز بنائے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ ابھی تک ہمیں یہ اسکیم ہی سمجھ نہیں آئی کہ کن رولز کے تحت توسیع ہوئی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ دیکھتے ہیں بحث کب تک چلتی ہے، ابھی تک تو ہم کیس سمجھ ہی رہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک بجے تک ملتوی کردی۔

سماعت کے دوبارہ آغاز پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم آرمی ایکٹ اور رولزکا شق وار جائزہ لیتے ہیں تاکہ آرمی چیف کی تقرری اور توسیع کے قانون کی روح سمجھ سکیں۔ چیف جسٹس کے ریمارکس پر اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ بہتر ہے کہ عدالت کیس سے متعلق سوال پوچھے، میں جواب دونگا اور آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی سے متعلق عدالت کو مطمئن کروں گا۔ جسٹس منصور نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 243 کے تحت ریٹائرڈ جنرل کو آرمی چیف تعینات کیا جاسکتا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی چیف کی تعیناتی اور مدت 1975 کے کنونشن کے تحت ہے۔معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیےکہ یہ ایک قانون کی عدالت ہے، ہمارے سامنے قانون ہے شخصیات نہیں، اگر قانون کے مطابق کوئی چیزغلط ہوتو اس کو ٹھیک نہیں کہہ سکتے، اگر قانون کے مطابق درست نہیں تو پھر ہم فیصلہ دیں گے۔اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ جنرل قوم کا افسر ہوتا ہے، عدالت کو میں تعیناتی کی دیگر مثالیں بھی پیش کروں گا،اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے سوال چیف کا ہے جنرل کا نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ پہلے قانون سے دلائل کا آغاز کریں، ہم آپ کو اجازت دیتے ہیں جو بولنا چاہتے ہیں بولیں، پھر ہم قانونی نکات پر بات کریں گے، ہم آپ کی دلائل کی تعریف کرتے ہیں، ہم ان رولز اور ریگولیشن کو پڑھتے ہیں، جو کہنا ہے کہیں ایک ایک لفظ نوٹ کر رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف آرمی کے کمانڈنگ افسر ہیں، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف میں اسٹاف کا مطلب کیا ہے، خالی چیف آف آرمی بھی تو ہوسکتا تھا، اٹارنی جنرل نےجواب دیا کہ اس بارے میں مجھے علم نہیں، پڑھ کر بتا سکتا ہوں، کمانڈنگ افسر وہ ہوتا ہے جو آرمی کے کسی الگ یونٹ کا سربراہ ہو۔

جسٹس منصور نے مزید کہا کہ آرمی چیف کا تقرر وزیراعظم کا اختیارہے یہ بات واضح ہے، ابہام نہیں کہ وزیراعظم کسی کوبھی آرمی چیف مقررکرسکتے ہیں، آپ یہ بتائیں ریٹائرڈ آرمی چیف کو دوبارہ لگایاجاسکتا ہے یانہیں، اس سوال کا واضح جواب آئے تو مسئلہ حل ہوگا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ میں کمیشنڈ افسر کی تعریف نہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ تعریف ہے، اعلی افسر کمیشنڈ افسر کہلاتے ہیں، جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ کہیں گڑبڑ ہے، ہم سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ پہلے یہ بتائیں آرمی ایکٹ میں کہاں لکھا ہےاچھے افسرکو توسیع دے دیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ رولز 176 میں یہ چیزیں بتائی گئی ہیں، اس پر معزز جج نے کہا کہ 176 میں تو صرف رولز ہیں، اچھا کام کرنے والے افسران کی مدت میں توسیع کا ذکر نہیں۔ چیف جسٹس نے انورمنصور سے سوال کیا کہ بتائیں اچھی کارکردگی والے افسر کو کس قانون کے تحت عہدے پر برقرار رکھا جاتا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکشن 176 میں قواعد بنانے کے اختیارات موجود ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ آرمی آفیسر کے حلف میں ہے کہ اگر جان دینی پڑی تو دے گا، یہ بہت بڑی بات ہے، "میں خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کروں گا" یہ جملہ بھی حلف کا حصہ ہے، بہت اچھی بات ہے اگر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نا لیا جائے۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آرمی ایکٹ میں کسی بھی افسر کی مدت سروس کا ذکر ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مدت ملازمت کا ذکر رولز میں ہے ایکٹ میں نہیں۔

اٹارنی جنرل کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں مدت اور دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا بھی ذکر ایکٹ میں نہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سمیت کسی بھی آرمی افسر کو حکومت ریٹائرڈ کر سکتی ہے، حکومت رضاکارانہ طور پر یا پھر جبری طور پر ریٹائر کرسکتی ہے، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس میں کسی مدت کا ذکر نہیں ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف فوجی معاملات پرحکومت کا مشیر بھی ہوتا ہے، فوج کے نظم ونسق کی ذمہ داری بھی آرمی چیف پر عائد ہوتی ہے، ہم فوج کے سارے ریگولیشنزدیکھ رہے ہیں تاکہ آپ کے دلائل کو سراہ سکیں۔


ای پیپر