”ڈاکٹرز،وکلا تنازعے کا پائیدارحل“
27 نومبر 2019 2019-11-27

معاملہ کچھ یوں ہوا کہ تین وکیل ایک بزرگ خاتون کے ساتھ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دل کی ادویات لینے کے لئے گئے، وہاں دو کھڑکیاں بنی ہوئی ہیں، ایک غریبوں کے لئے اور دوسری ’ این ٹائیٹلڈپرسنز‘کے لئے، انگریزی اردو ڈکشنری میں اس لفظ کا مطلب حقدار ہے اور یہاں مراد ہے کہ سرکار نے بیوروکریٹوں کے ساتھ ساتھ وکلا کو بھی وہاں سے ادویات لینے کا حق دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وکلا غلط ونڈو پر چلے گئے جہاں فارماسسٹ ظفر کے ساتھ غلط فہمی اور تلخی کا آغاز ہوا جو بہت جلد دونوں اطراف سے بدتمیزی اور پھر تصادم میں بدل گیا۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ جس طرح کچہریاں اور عدالتیں وکلا کی جاگیریں ہیں بالکل اسی طرح ہسپتال ڈاکٹروں اورپیرامیڈکس کی راج دہانیاں ہیں جہاں کوئی دوسرا چیں ، چوں اور چاں نہیں کر سکتا۔ میں نے وہ ویڈیو دیکھی ہے جس میں سیکورٹی گارڈوں کے علاوہ سادہ لباس والے بھی وکلا کی درگت بنا رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سادہ لباس والے مریض اور ان کے لواحقین ہیں جنہوں نے وکلا کے نامناسب روئیے پر ان کے خلاف اپنا غصہ نکالا مگر وکلا کہتے ہیں کہ ان میں ڈاکٹروں سمیت پورا عملہ شامل ہے۔ میاں نوید سینئر ہیلتھ رپورٹر ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے اس موقعے پر کردار ادا کیا ور صلح کروا دی۔

ڈاکٹروں کے بعد وکلا کی باری تھی جو جتھے کی صورت میں ہسپتال پہنچے اور پوری طرح بدلہ لیا ۔ ہمارے موقع بے موقع ہڑتال کر دینے والے ڈاکٹروں کی طرح ہمارے وکلا کی سیاست بہت ظالم ہے کہ پنڈدادن خان میں بھی کسی وکیل کی مرغی چھین لی جائے تو لاہور میں کچہری بند ہوجاتی ہے تو اس موقعے پر کیوں نہ ہوتی۔ عدالتوں کی تالہ بندی ہوئی اور آئی جی آفس کے سامنے مظاہرہ۔ حکومت پہلے ہی ایم ٹی آئی ایکٹ پر ڈاکٹروں کے لئے تتے توے پر بیٹھی ہے لہٰذا حکومتی حکم پر پولیس والوںنے ڈاکٹروں پرپرچے میں دہشت گردی کی دفعات بھی ٹھوک دیں۔ میں نے سوشل میڈیا پر وکلا اور ڈاکٹروں کا رویہ دیکھا تو میرا ماتھا ٹھنکا۔ ڈاکٹر وں کے کچھ سوشل میڈیا پیجز پر کہا جا رہا ہے کہ لاشیں بچھا دی جائیں گی مگر گرفتاری نہیں دی جائے گی تو دوسری طرف وکلا ڈاکٹروں کو کتے قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں تمہیں اب پتا چلے گا۔مجھے اعزازحاصل ہے کہ دونوں برادریوں میں میری سلام دعا ہے۔ میں نے دونوں سے ہی درخواست کی کہ افراد کی لڑائی کو افراد تک محدود رکھا جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور انہیں قرارواقعی سزا دلوائی جائے مگر مجھے افسوس ہے کہ جب آن دی ریکارڈ بات ہوتی ہے تو دونوں ہی جھکنے کے لئے تیار نہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ دہشت گردی کی دفعہ ناقابل قبول ہے، ہم اس دھونس میں نہیں آئیں گے۔ وکلا کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں کا پالا پہلی بار کسی مضبوط شعبے سے پڑا ہے، وکلا اتحاد زندہ باد کے نعرے لگتے ہیں اور ڈاکٹروں کو سبق سکھانے کے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔

میں نے ہاتھ جوڑ کر بھی کہا کہ اسے چند افراد کے بجائے وکلا اور ڈاکٹروں کی لڑائی نہ بنایا جائے مگر کوئی بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ وکلا سوشل میڈیا پر کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر عدالت میں پیش ہوں گے تو تمام وکیل وہاں پہنچ جائیں اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ اس قسم کی کال کیوں دی جاتی ہے۔ جب دونوں ہی ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں تو میرے ذہن میں اس کا مستقل اورپائیدار حل آگیا ہے۔ میںا یک صحافی ہوں او ر اس معاشرے میں رہتا ہوں جہاں ’مائیٹ از رائیٹ‘ کا اصول چلتا ہے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ کسی قانونی اور اخلاقی جواز کے بغیر وکلا عدالتیں اور ڈاکٹر ہسپتال بند کرنے کی پوری طاقت رکھتے ہیں مگر اس سے متاثر صرف عوام ہوتے ہیں۔ جب ڈاکٹرز کچھ کم اور وکلا کچھ زیادہ جوش وخروش کے ساتھ اس لڑائی کو باقاعدہ سفید اور کالے کوٹ کی لڑائی بنانا چاہتے ہیں ،دونوں کی قیادتوں نے حکمت اور تدبر کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اپنے اپنے دھڑوں کی سیاست ہی کرنے پر تُلی بیٹھی ہیں تو پھر فیصلہ ہوجانا چاہئے کہ کون تگڑا ہے اور کون ماڑا ہے تاکہ ماڑے کی ایسی تیسی کی جاسکے۔

تجویز یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں ڈاکٹر اور وکلا ایک دوسرے کا سماجی بائیکاٹ کر دیں اور اگر کوئی وکیل کسی ڈاکٹر کے گھر اور کوئی ڈاکٹر وکیل کے گھر خاندانی، سماجی یا کاروباری تعلق کی بنیاد پر بھی دیکھا جائے تو اس کی برادری اس کا منہ کالا کر ے اور گدھے پر بٹھا کے عدالتوں اور ہسپتالوں کے چکر لگوائے کہ غدار کے لئے کوئی معافی نہیں ہونی چاہئے۔ دوسرے وکیل کسی بھی ڈاکٹر کا مقدمہ نہ لڑیں بلکہ اگر کوئی ڈاکٹر کسی چھوٹی یا بڑی کچہری میں نظر آئے تو اسے پکڑ لیاجائے اور پھر اس کی لاش ہی واپس جانی چاہئے۔ دوسری طرف ڈاکٹروں کا فرض ہے کہ وہ فوری طور پر تمام ہسپتالوں میں چیک کریں کہ کسی وکیل خود یا اس کا کوئی قریبی عزیز داخل تو نہیں اور جہاں جہاں داخل ہے اسے پیرامیڈکس اور سیکورٹی اہلکاروں کی مدد سے اٹھا کے کم از کم باہر پھینک دیا جائے۔ اسی موقعے پر اگر دونوں دھڑوں کی قیادت اعلان کر دے کہ اگر ایک دھڑے کے کسی شخص کی کوئی رشتے داری دوسرے دھڑے کے کسی شخص کے گھر ہے تو پھر وہاں طلاق ہی ہو گی، اس سے کم کچھ نہیں ہو گا کہ برادری کی عزت اور غیرت کا مسئلہ ہے۔

میرے خیال میں جب ہم علم ، عقل اور تحمل کے بجائے عصبیت اور نفرت کو اپنی انتہا پر لے جانا ہی چاہتے ہیں تو پھر یہ سب کچھ بھی کافی نہیں ہے۔ اس وقت لاہور بار میں تئیس ہزار وکیل ہیں مگر ان میں سے آدھے غیر متحرک ہیں یعنی و وٹ تک ڈالنے نہیں آتے جبکہ دوسری طرف ڈاکٹر بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ دونوں طرف کی فوجیں تیار کی جائیں اور گریٹر اقبال پارک میں یا مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے ایک دوسرے کے سامنے صف بندی کر وا دی جائے۔ دونوں طرف سے فیصلہ کر لیا جائے کہ کون سے ہتھیاروں سے مقابلہ کرنا ہے کہ ا گر بندوقیں اور بم وغیرہ نہ بھی ہوں تو کم از کم چھریاں، ڈنڈے اور ہتھوڑے تو ضرور ہونے چاہئیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر ایک صبح فجر کی نماز کے بعد اس جنگ کا آغاز کیا جائے تو مغرب تک حتمی فیصلہ ہوجائے گا کہ کس لشکر کو کامیابی ملتی ہے۔ اگر وکیلوں کو کامیابی ملے تو وہ لاہور کے تمام ہسپتالوں پر قبضہ کر لیں اور اس کے بعد وہ اپنا اور اپنے پیاروں کا ہی نہیں بلکہ عوام کا علاج بھی خود ہی کریں لیکن اگر ڈاکٹر وں کا لشکر کامیاب ہوجائے تو وہ تمام کچہریوں اور باروں میں اپنے جھنڈے لہرا دیں اور بچے کھچے وکلا کو اپنے غلام ڈیکلئیر کر دیں۔

وکلا اور ڈاکٹروں کی طرف سے بہت ہڑتالیں ہوچکیں، بہت بڑھکیں لگ چکیں، اب انہیں کچھ ایسا کر کے دکھانا چاہئے کہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی اولادوں کو پڑھانے لکھانے سے توبہ کرلیں اور اگر بنانا ہی ہے تو مولا جٹ بنائیں، نوری نت بنائیں جن کے ہاتھوں میں گنڈاسے ہوں اور وہ مخالفین کے کشتوں کے پشتے لگانا جانتے ہوں کہ جب ہم نے پڑھ لکھ کر بھی امن اور انصاف کے بجائے دما دم مست قلندر ہی کرنا ہے تو پھر پندرہ، پندرہ اور بیس ، بیس برس علم جیسی فضول شے میں ضائع کرنے کا کیا فائدہ ہے؟


ای پیپر