شہباز شریف، چودھری نثار اور پرویز الٰہی کی کہانی؟
27 May 2021 (12:21) 2021-05-27

آج کل مسلم لیگ ن کے اندر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے خلاف ایک محاذ کھڑا ہوا ہے اور بظاہر لگتا ہے وہ اپنے گھر میں ہی اجنبی بن گئے ہیں۔ انہیں چیلنج کر رہے ہیں پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور مریم نواز صاحبہ ان کے ہر بیانیہ کی بھرپور حمایتی ہیں۔ عباسی صاحب مختلف ٹی وی شوز اور میڈیا ٹاکس میں شہباز شریف کی صدارت کو کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔ عام انتخابات کے بعد جیت کی صورت میں وہ شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار بنانے پر بھی شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔ چودھری نثار کا معاملہ ہو یا پی ڈی ایم کے فیصلے، عباسی صاحب جاری کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں، شہباز شریف کو وزیر اعظم کا امیدوار پارٹی نامزد کرے گی اور دوسری طرف بطور نائب صدر چودھری نثار پر پارٹی کے دروازے بند کرنے کا فرمان بھی جاری کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی کو پارٹی میں شامل کرنا ہے تو وہ پارٹی سے رابطہ کرے۔ اگر شہباز شریف بطور صدر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے تو پھر وہ صدر کس بات کے ہیں۔ مریم نواز بھی کہتی ہیں کہ چودھری نثار کا ن لیگ سے کوئی تعلق نہیں وہ ایک آزاد امیدوار ہیں۔

عباسی صاحب کہتے ہیں اس بات کا فیصلہ پارٹی کرے گی تو پھر آپ کس حیثیت سے یہ شاہی فرمان جاری کر رہے ہیں۔ پارٹی صدر شہباز شریف اگر پیپلز پارٹی اور اے این پی کو پی ڈی ایم میں واپس لانے میں کوشاں ہیں تو شاہدخاقان عباسی کہہ رہے ہیں، اگر ایسا کیا گیا تو وہ پی ڈی ایم کے سیکرٹری کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ سوال یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان اس ساری صورتحال پر خاموش کیوں ہیں؟ ان کو بطور سربراہ پی ڈی ایم فعال ہونا چاہیے۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ فیصلے پی ڈی ایم کے اجلاس میں ہوں گے لیکن ایک فرد واحد پی ڈی ایم کو اپنی خواہش کے مطابق کیوں چلا رہا ہے اور کس حیثیت سے وہ پی ڈی ایم کے فیصلے سنا رہا ہے۔ مولانا کی خاموشی سے لگتا ہے سب کچھ ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ اس سارے کھیل میں شاہد خاقان عباسی کو مریم نواز کی بھر پور تائید حاصل ہے اور وہ کہتی ہیں کہ شاہد خاقان عباسی کا بیانیہ ہی مسلم لیگ ن کا بیانیہ ہے تو پھر پارٹی کے صدر کا بیانیہ کس کا ہے؟ مریم نواز یہ بھی کہتی ہیں کہ شہباز شریف کے  پاس پی ڈی ایم کا کوئی عہدہ نہیں شاید اس لیے ان کے بیانات سے لاتعلقی اختیار کی جا رہی ہے۔ البتہ شہباز شریف یا حمزہ شہباز ابھی تک اس حوالے سے خاموش ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مریم نواز کا بیانیہ نواز شریف کا بیانیہ ہے۔

مریم نواز کا عشائیے میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے کہنا تھا کہ شہباز شریف کا اپوزیشن لیڈران کو دیا گیا عشائیہ پارلیمانی اپوزیشن کو تھا اسی لیے مہمانوں کی لسٹ کو ’’پارلیمانی ممبران‘‘ تک محدود رکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں۔ ان کے پاس پی ڈی ایم کا کوئی عہدہ ہے نہ ہی ان کے عشائیہ کا پی ڈی ایم سے کوئی تعلق تھا۔ صحافی بھائی ذرا کان کھول کر سن لیں۔ کیا یہ شہباز شریف سے لا تعلقی کا اظہار نہیں؟

شاہدخاقان عباسی کا یہ بیان کہ پیپلز پارٹی اگر دوبارہ پی ڈی ایم اتحاد کا حصہ بنی تو پی ڈی ایم اپنا نیا سیکرٹری جنرل ڈھونڈ لے بہت معنی خیز تھا اور ان کی یہ دھمکی مولانا فضل الرحمان سے زیاہ شہباز شریف کو تھی۔ دوسرے معنوں میں شاہد خاقان عباسی اپنے پارٹی صدر شہباز شریف کے بیانیے کی ببانگ دہل مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ سب وہ کس کے کہنے پر کر رہے ہیں اور اس سوال کا جواب تلاش کرنا اتنا مشکل نہیں ہے۔مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال فرماتے ہیں مسلم لیگ ن میں کوئی اختلاف نہیں اور نواز شریف کی قیادت پر کسی کو اعتراض نہیں۔ سوال نواز شریف کی قیادت کا نہیں، چیلنج تو شہباز شریف کو درپیش ہے۔

اس ہفتے کا دوسرا واقعہ پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کی طرف سے چودھری نثار علی خان کو بھونڈے طریقے سے حلف اٹھانے سے روکنے کی کوشش تھی۔ جو بالآخر ناکام ہوئی۔ سیکرٹری اسمبلی نے جو وجہ بیان کی کہ پینل آف چیئرمین کسی ممبر کا حلف نہیں لے سکتا۔ چودھری نثار نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی کو اسمبلی رولز کا حوالہ بھی دیا کہ پینل آف چیئرمین کے پاس حلف لینے کے مکمل اختیارات ہیں۔ لیکن مسئلہ رولز کا نہ تھا بلکہ کسی کی انا کا تھا جو چودھری نثار سے ماضی کا کوئی سکور سیٹل کرنا چاہتے تھے۔

دنیا نیوز کے لیاقت انصاری نے اسمبلی سیکرٹری کے اس جھوٹے دعوے کا بھی پول اپنی ایک رپورٹ چلا کر کھول دیا۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں پینل آف چیئرمین حلف اٹھانے کا مجاز ہے۔ پنجاب اسمبلی میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے موجودہ دور میں ہی پینل آف چیئرمین کے ایک نو منتخب ممبر سے حلف لینے کی اہم قانونی مثال سامنے آ گئی۔ لیاقت انصاری نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا کہ 12 جون 2020 کو تحریک انصاف کی ایم پی اے ثانیہ کامران نے اپنی رکنیت کا حلف اٹھایا اور یہ حلف پینل آف چیئرمین میاں شفیع محمد نے لیا۔ کرونا کی صورتحال کی وجہ سے یہ حلف فلیٹیز ہوٹل کے ہال میں ہوا، فلیٹیز ہوٹل کے ہال کو کورونا کے باعث اسمبلی ہال کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی صورتحال چودھری نثار کے حلف والی ہی تھی میاں شفیع نے یہ حلف سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی عدم موجودگی میں لیا۔ اب اس کی وضاحت تو سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی ہی دے سکتے ہیں کہ چودھری نثار کے حلف کے حوالے سے ایسا کیوں ہوا۔ کیونکہ کچھ انگلیاں ان کی طرف بھی اٹھائی جا رہی ہیں گو کہ اس دن وہ بطور قائم مقام گورنر فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ 

حلف کی تقریب میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت بھی موجود تھے۔ راجہ صاحب نے ایک ویڈیو بیان میں بڑی کمزور دلیل کے ساتھ فرمایا کہ پینل آف چیئرمین کے علاوہ چودھری نثار کے خلاف مختلف عدالتوں میں ان کے حلف نہ اٹھانے کے حوالے سے عدالتی پٹیشن بھی موجود ہیں جن کے فیصلوں یا سٹے آرڈر کے متعلق اسمبلی سیکرٹریٹ کو علم نہ تھا۔ راجہ صاحب آپ وزیر قانون ہیں اور اگر آپ یا اسمبلی سیکریٹریٹ کو اس کا علم نہ تھا تو اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اصل میں چودھری غلام سرور کی طرح راجہ صاحب بھی چودھری نثار کے حلقے کی سیاست کے حوالے سے مخالف ہیں اور یہ سارا ڈراما انہیں زچ کرنے کے لیے رچایا گیا تھا۔ سیاسی مخالفت میں اگر آپ اخلاقیات اور قانون و ضوابط کا ہی جنازہ نکال دیں گے تو ایک دن آپ کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ماضی قریب میں ایسا ہوا بھی ہے۔ بہتر ہے سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں نہ بدلا جائے۔

قارئین اپنی رائے کا اظہار 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔


ای پیپر