حماس کا ایک پر اسرار اور گمنام کیریکٹر
27 May 2021 (12:09) 2021-05-27

اس وقت مغربی میڈیا میں فلسطین اسرائیل جنگ کے حوالے سے ایک پر اسرار فلسطینی کے بارے میں طوفان مچا ہوا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ اس انتظار میں ہیں کہ دنیا کو کب اس کی شہادت کی خبر ملتی ہے۔ یہ انتظار بہت کٹھن اور طویل ہے۔ یہ بندہ اس وقت اسرائیل کی Hit list میں پہلے نمبر پر ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ پاکستان میں کوئی اس کا نام تک نہیں جانتا۔ 2018ء میں امریکہ نے اسے Global Terrorist قرار دیا۔ گویا یہ ایک عالمی دہشت گرد ہے جو دنیا بھر کو مطلوب ہے۔ یہ کسی جاسوسی ناول کا کردار نہیں ایک جیتا جاگتا حقیقت پر مبنی کردار ہے۔ آپ کی حیرت میں مزید اضافہ کرنے کے لیے یہ کافی ہو گا کہ2001ء، 2002ء، 2003ء، 2004ء، 2006ء، 2014ء، 2018ء اور 2021ء کی حالیہ لڑائی سمیت اس پر 8 دفعہ قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے مگر یہ ہر دفعہ بچ جاتا ہے اور بعض دفعہ تو شدید زخمی حالت میں فرار ہو جاتا ہے۔ 2014ء کے ایک اسرائیلی حملے میں اس کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کی بیوی اور دو بچے اس حملے میں شہید ہو گئے۔ اسرائیل نے اس کی ہلاکت کی تصدیق بھی کر دی جو بعد میں غلط ثابت ہوئی۔ پے در پے حملوں میں زخمی ہونے کی وجہ سے اس کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی ہے۔ ایک بازو ناکارہ ہے دونوں ٹانگیں زخمی ہو چکی ہیں اور لنگڑا کر چلتا ہے مگر اس کے باوجود بقول شاعر

جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر یہ پر اسرار شخصیت میڈیا پر جلوہ افروز نہیں ہوتی نہ بیان جاری کرتی ہے حتیٰ کہ اس کی حالیہ تصویر بھی کسی میڈیا ہاؤس کے پاس نہیں ہے۔ مغربی میڈیا کے پاس اس کی 30 سال پرانی تصویر ہے جب 25 سال کی عمر میں اس نے حماس میں شمولیت اختیار کی تھی اس وقت اس کی عمر 55 سال ہے اور یہ حماس کے اس ملٹری ونگ، عز الدین قاسم بریگیڈ کا کمانڈر انچیف ہے جو اسرائیل پر راکٹ باری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس شخصیت کا نام محمد ضیف ہے یقینا یہ نام بہت کم لوگوں نے سنا ہو گا۔ یہ وہ شخصیت ہے جو اس وقت درمے سخنے حماس کی عسکری شعبے کی قیادت کر رہی ہے۔ 

محمد ضیف کی تھیوری یہ ہے کہ اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل سسٹم کی ایک بیٹری یا لانچر ایک وقت میں 20 میزائل فائر کرتا ہے جو حماس کے پھینکے گئے دیسی ساختہ راکٹوں کو ناکارہ بنا دیتے ہیں۔ حماس کی سٹریٹجی یہ ہے کہ اگر ہم بیک وقت 30 راکٹ ایک ساتھ چلائیں گے تو اسرائیل ان میں سے زیادہ سے زیادہ 20کو Intercept کر سکے گا جو باقی 10 ہوں گے وہ کسی نہ کسی جگہ دشمن کو نقصان کریں گے یہی وہ حکمت عملی ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کے پاس اپنا فول پروف ڈیفنس نہیں ہے۔ اسرائیل نے خود تسلیم کیا ہے کہ ان کا دفاعی سسٹم 90 فیصد Accuracy کا حامل ہے۔ 

محمد ضیف کی بات ہو رہی تھی ۔ 2014ء میں اپنی بیوی اور 2 بچوں کی شہادت کے بعد اس کے حواس متاثر ہو گئے یہ ڈپریشن کا شکار ہو گیا مگر وقت کے ساتھ اس نے اپنے صدمے پر قابو پا لیا۔ خان یونس کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہونے والا یہ بچہ اس وقت جوانی کی دہلیز پار کر چکا ہے وہ گمنامی کی زندگی گزارتا ہے ایک ایک رات میں 3,3 بار اپنا ٹھکانہ تبدیل کرتا ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ موبائل فون استعمال نہیں کرتا اور نہ ہی  کوئی برقی آلہ اپنے پاس رکھتا ہے۔ یہ پیغام رسائی کے لیے اپنے با اعتماد ایجنٹ استعمال کرتا ہے۔ آج سے 30 سال پہلے جب اس نے حماس جوائن کی تھی تو اس کے پرانے ساتھی ایک ایک کر کے تمام شہید ہو چکے ہیں جن میں یحییٰ عیاش بھی شامل تھا جسے مغربی دنیا میں Bomb Maker کہا جاتا تھا۔ یہ پیشے کے اعتبار سے انجینئرتھا۔ اسرائیل نے اسے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ اس کے ساتھ صلاح شہادہ تھا وہ بھی شہید ہو چکا ہے۔ اس دور کا ایک اور حماس ہیرو حسن سلامہ تھا جو اس وقت اسرائیل کی قید میں ہے۔ 1994ء میں محمد ضیف کا نام عالمی میڈیا میں اس وقت مشہور ہوا جب یروشلم میں ایک ٹورسٹ بس پر حملہ ہوا اور اس میں 50 اسرائیلی مارے گئے ۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس حملے میں محمد ضیف خود شامل تھا۔ 

اس وقت BBC نیو یارک ٹائمز اور دیگر چوٹی کے مغربی اخباروں میں محمد ضیف کا نام گونج رہا ہے یہ پراپیگنڈا وار کا ایک Tactic ہے۔ مغرب اسرائیل کو توجہ اس جانب مبذول کرا رہا ہے کہ محمد ضیف کو نہ چھوڑنا۔ اسرائیلی جنرل نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں ہم نے محمد ضیف کی موجودگی کی اطلاع پر دوبار حملے کیے مگر وہ حملے سے چند لمحے پہلے وہاں سے جا چکا تھا۔ اسرائیلی کہتے ہیں کہ محمد ضیف اس جنگ کا اولین ہدف ہے مگر وہ اسے ڈھونڈنے سے قاصر ہیں۔ باوجودیکہ اس کی قیادت میں حماس نے اسرائیل پر 3000 سے زیادہ راکٹ پھینکے ہیں۔ اسرائیل کہتا ہے کہ جب تک راکٹ حملے جاری رہیں گے وہ جوابی ہوائی حملے جاری رکھیں گے۔ محمد ضیف کا جذبہ اور Stamina دونوں سمجھ سے باہر ہیں، اس کا ملک تباہ، اس کا گھر بار تباہ وہ خود تباہ حال مگر اس کے مشن میں تھکاوٹ کے آثار نہیں ہیں۔ یہ لوگ پتہ نہیں کسی مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ مغربی میڈیا میں محمد ضیف کے خلاف میڈیا ٹرائل کا مقصد یہ ہے کہ اس کی ہلاکت کو حق بجانب قرار دیا جا سکے مگر محمد ضیف جس نے 8 بار موت کو شکست دی ہے اب بھی ان کی پہنچ سے دور ہے۔ 

یہاں پر ٹیکنیکل سوال یہ ہے کہ جب 2014ء میں وہ شدید زخمی ہوا تھا تو اس وقت حماس کے اندر کھلبلی مچ گئی تھی جس کی تحقیقات منظر عام پر نہیں آ سکیں۔ ایک تھیوری یہ تھی کہ اس کی مخبری حماس کے اندر سے کی گئی تھی ۔ بات اب بھی وہی ہے زندگی اور موت کے فیصلے اسرائیل اور امریکہ نہیں بلکہ اللہ کرتا ہے۔ اگر اس کی جان کو نقصان پہنچا تو پھر ایک دفعہ یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ حماس کا میر جعفر کون ہے۔ محمد ضیف کی زندگی ایک بہت بڑا معمہ ہے وہ ہواؤں کے دوش پر جلتے رہنے والا ایک چراغ ہے جو اپنے وقت مقررہ تک روشن رہے گا۔


ای پیپر