افغانستان کی جنگ پاکستان میں!
27 May 2021 (12:01) 2021-05-27

کیا پاکستان ایک مرتبہ پھر افغانستان میں امریکی جنگ کے فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ کیا آنے والے دنوں میں بھی امریکہ کو ملک افغاناں میں اپنے جنگی اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کے فضائی راستوں اور زمینی راہداری کی سہولتیں مہیا کی جائیں گے۔ اس طرح ماضی کی مانند آئندہ بھی ہم تمام تر دعاوی کے برعکس ہماری سرزمین وطن اور فضائی حدود کو امریکی جنگ کے اگلے مرحلے میں جھونک دیا جائے گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کے ایوان میں خطاب کے دوران سختی کے ساتھ تردید کی ہے اور کہا ہے وزیراعظم عمران خان کبھی اپنے وطن کی سرزمین کو امریکی جنگ کا اڈہ بننے نہیں دیں گےلیکن مسئلہ یہ ہے اعلیٰ تر امریکی حکام نے اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان یا وزیر خارجہ اور وزیر دفاع سمیت سویلین حکومت کے کسی بھی نمائندے سے کوئی بات یا مشورہ نہیں کیا۔ صدر جوزف بائیڈن جب سے وہائٹ ہائوس میں براجمان ہوئے ہیں یعنی 21 جنوری 2021 سے لے کر اب تک ان کے وزیر خارجہ انٹونی ڈومینکن اور وزیر دفاع لیوڈ آسٹن نے ٹیلیفون پر جو بھی رابطہ گفتگو یا مشورہ کیا ہے وہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دوسرے سینئر ترین فوجی حکام کے ساتھ ہوا ہے۔  وزیراعظم عمران خان یا ان کے کسی اعلیٰ درجے کے سویلین نمائندے کو تو صدر بائیڈن کی جانب سے بلائی جانے والی ماحولیاتی کانفرنس میں بھی مدعو نہیں کیا گیا جس میں بھارت سمیت پیشتر اہم ممالک کے صدور، وزرائے اعظم یا ان کی حکومتوں کے سینئر ترین نمائندے شریک تھے۔  ہماری عسکری قیادت کے ساتھ ٹیلیفون اور دوسرے ذریعوں سے استوار ہونے والے روابط میں وہ مفاہمت طے پائی ہے جس کا اگلے روز امریکہ کے نائب وزیر دفاع ڈیوڈ ہالوے اور بریگیڈیئر جنرل میتھیو ٹالنگٹن نے اپنے ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکہ افغانستان سے گیارہ ستمبر کو اپنی افواج کے انخلا کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا کیونکہ اس کی جانب سے ہمیں اپنی فضائی حدود اور زمینی راہداری کے استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے… یہ بہت اہم انکشاف ہے جس کے سامنے آ جانے کے بعد گزشتہ پیر 24 مئی کو اسلام آباد میں پاکستان کی سب سے بڑی سراغ رساں ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ کے صدر دفتر میں ہماری چوٹی کی عسکری اور سویلین قیادت کا اجلاس ہوا… جنرل باجوہ سمیت چاروں مسلح افواج کے سربراہوں اور وزیراعظم عمران، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر داخلہ شیخ رشید وغیرہ نے اس میں شرکت کی…اجلاس میں اعلیٰ عسکری حکام کی جانب سے سویلین قیادت کو افغانستان کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر اعتماد میں لیا گیا… قرائن بتاتے ہیں کہ امریکی فوج کو پاکستان کے فضائی راستے اور زمینی راہداری دینے کا فیصلہ پہلے ہو چکا تھا… وزیراعظم بہادر اور ان کی ٹیم کو بعد میں مطلع کیا گیا… اس دوران البتہ ایک پیش رفت یہ ہوئی کہ جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں پاکستان کے چند روز پہلے متعین کیے جانے والے مشیر برائے سلامتی امور معید یوسف صاحب اور ان کے امریکی ہم منصب جیک ساولین کے مابین مذاکرات ہوئے جن میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور دیگر روابط بڑھانے پر غور ہوا… یہ سویلین سطح پر دونوں ملکوں کے اعلیٰ تر حکام کے درمیان پہلا رابطہ تھا… خبروں کے مطابق جناب معید یوسف نے امریکی مذاکرات کار سے شکایت کی کہ بائیڈن انتظامیہ نے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی عمران حکومت سے بے اعتنائی برتی ہے جس کے جواب میں انہیں کہا گیا کہ باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر غور ہو گا… معلوم ہونا چاہئے کہ معید یوسف صاحب کی پاکستان کے حکومتی ایوانوں میں آمد عمران خان کے وزیراعظم بننے کے کچھ عرصہ بعد ہوئی ہے… اور مشیر برائے سلامتی امور کا عہدہ تو موصوف کو چند روز پہلے دیا گیا تھا… اس سے قبل معید یوسف کے کیریئر کا تمام تر عرصہ امریکہ کے تھنک ٹینکس اور اسی نوعیت کے دوسرے اداروں میں خدمات بجا لاتے ہوئے گزرا… ان کی تمام تر ذہنی ساخت وپرداخت امریکی اداروں میں ہوئی ہے… یوں سمجھئے کہ جنیوا کے مذاکرات کے دوران امریکی حکومت کا مشیر برائے سلامتی امور جیک سیولوین اپنی ہی ایک جانی پہچانی شخصیت کے ساتھ شریک گفتگو تھا۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ امریکہ ہمارے شمال مغرب میں اپنے جنگی اہداف کے حصول کی خاطر مکمل طور پر پاکستان کی فوجی قیادت پر انحصار کر رہا ہے… اس نے 1958 میں پہلا مارشل لا نافذ کرنے پر جنرل ایوب کو مبارکباد کا خط ہی اس بنا پر لکھا تھا کہ اس کو ہمارے خودساختہ فیلڈ مارشل سے توقع تھی وہ اسے سرزمین پاک پر خفیہ فوجی اڈے فراہم کرے گا… ایسا ہی ہوا… قوم کو ان اڈوں کے بارے میں اس وقت علم ہوا جب پشاور کے نزدیک بڈھا بیر کے مقام سے  یو ٹو نامی جاسوس طیارہ سابق سوویت یونین کی حدود میں داخل ہوا۔  انہوں نے اس پر نشانہ باندھ کر نیچے گرا لیا… امریکی پائلٹ نے برملا اعتراف کیا اس نے پاکستان میں اپنے ملک کے خفیہ جاسوسی اڈے سے اڑان بھری تھی۔  کہتے ہیں اس وقت کے سوویت حکمران خروشچیف نے اپنی میز پر پڑے گلوب پر پاکستان کے نقشے کے گرد سرخ دائرہ کھینچ دیا تھا۔ 1971 کی جنگ میں سوویت یونین نے ہمارے ملک کو دولخت کرنے اور ہماری بہادر افواج کو شکست فاش سے دوچار کرنے کے مذموم عمل میں بھارت کا اسی بنا پر کھل کھلا کر ساتھ دیا تھا… وہ تو جو ہوا سو ہوا لیکن فوجی ڈکٹیٹر نے ان خدمات کی بدولت اپنا اقتدار پکا کر لیا… دس سال بلاشرکت غیر دندناتا رہا… آئین مملکت کو اس نے پہلے دن سے بوٹوں تلے روند ڈالا تھا… فروری 1969 کے عام انتخابات نہیں ہونے دیئے تھے… سول راج کا مکمل طور پر خاتمہ کر ڈالا تھا… لیکن امریکہ خوش تھا کہ پاکستانی فوجی جرنیل نے اس کے اہداف کی تکمیل میں تساہل سے کام نہیں لیا… تب سے اب تک ہمارے ملک میں ایک کے بعد دوسرے مارشل لا کی رسم چل نکلی… جنرل یحییٰ ، ضیا ء الحق اور پرویز مشرف امریکی جنگی خدمات بجا لانے میں کسی سے پیچھے نہ رہے… سویلین راج معدوم ہو چکا تھا… کوئی اکتیس سال کا عرصہ باری باری کے مارشل لائوں کی نذر ہو گیا… قوم نے مگر جب بھی انگڑائی لی انتخابات ہوئے… پارلیمنٹیں بنیں اور ٹوٹیں… تاہم فوج کی پس پردہ مداخلت جاری رہی… اس نے اپنے راج میں خواہ براہ راست حکومت کر کے یا پس دیوار ڈوریاں ہلانے کا عمل کر کے سویلین سیاستدانوں کو دبا کر رکھا… یوں ہمارے سپوتوں نے مگر امریکی جنگیں لڑنے میں کوئی کسر روا نہ رکھی… جنرل یحییٰ کو امید تھی کہ تابع مہمل ہونے کی بنا پر امریکہ 1971 کی جنگ میں ساتواں بحری بیڑہ بھیجے گا جو پوری نہ ہوئی… ملک کی لٹیا البتہ ڈبو دی گئی… ضیاء الحق کا افغان جہاد ہو جس کی بنا پر امریکہ نے اسے گیارہ سال کا اقتدار بخشا یا جنرل مشرف کا ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ جس نے واشنگٹن سے آنے والی ٹیلیفون کال پر سب کچھ صدر امریکہ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا… بش اور مش ایک ہو گئے تھے… امریکہ کو پاکستان کے سویلین یا جمہوری لیڈر کبھی ایک آنکھ نہ بھائے… جنرل مشرف جیسے غاصب جرنیل نے دو مرتبہ آئین توڑا… سویلین راج کو پامال کر کے رکھ دیا… امریکہ نے سب کچھ برداشت کیا… چوتھا فوجی ڈکٹیٹر صدر بش کے ہر مطالبے کے آگے سر تسلیم خم کر چکا تھا… اس کے آٹھ سالہ عہد میں پاکستان کی سرزمین اور ہوائی حدود بری طرح سے پامال کیا گیا… سرجیکل سٹرائیکس ہوئیں… ہمارے فوجی امریکی جنگ میں کام آئے… سویلین آبادیاں بار بار کی بمباری کی وجہ سے برباد ہوئیں… پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ چکنا چور ہو کر رہ گئی… یہ سب سویلین راج کے بدلے فوجی حکومت کی بالادستی کے شاخسانے کے طور پر ہمیں بھگتنا پڑا… تب امریکہ سے چھپنے والے معروف جریدے نیوز ویک نے ایک تجزیے میں لکھا واشنگٹن کی حکومت کو اپنے ستاروں کا سپاس گزار ہونا چاہیے کہ اسلام آباد میں ایک آزاد و خودمختار پارلیمنٹ اپنا وجود نہیں رکھتی ورنہ کسی خودمختار ملک کی حکومت اپنی حاکمیت اعلیٰ کو اس برے طریقے سے پامال نہ ہونے دیتی…

اب زمانہ بدل چکا ہے… ننگے مارشل لائوں کا دور ماضی کا قصہ بن چکا ہے… فوج براہ راست حکمرانی کے دعووں سے دست بردار ہو چکی ہے… پاکستان میں نام نہاد جمہوریت بحال کر دی گئی ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس ہوتے ہیں… اٹھتے بیٹھتے آئین کے حوالے دیے جاتے ہیں… انتخابات بھی کرائے جاتے ہیں  مگر معاملہ وہی ڈھاک کے تین پات… عسکری قیادت کی مرضی کے بغیر امور ملک و ریاست کا ایک پتا نہیں ہلتا… سیاستدان آپس میں لڑتے ہیں، ہوس اقتدار میں اندھے ہوئے جا رہے ہیں مگر کسی ایک کو حکومت و اقتدار کی کرسی اس وقت تک نصیب نہیں ہوتی جب تک اوپر والوں کی اشیرباد حاصل نہ ہو… خارجہ پالیسی ان کے ہاتھ میں ہے… دفاع کے امور کو وہ نبٹتے ہیں… یہاں تک کہ بنیادی اقتصادی اور معاشی پالیسیاں بھی ان کی مرضی کے بغیر طے نہیں ہوتیں… عمران خان وزیراعظم ہے… ان کا سلیکٹڈ کہلاتا ہے… اسی لیے صدر جو بائیڈن نے وہائٹ ہائوس کی کرسی پر براجمان ہونے کے بعد اسے گھاس نہیں ڈالی کہ فیصلہ سازی کے اختیارات اس کے پاس نہیں… عسکریوں کی آج بھی پاکستان میں بالادستی ہے… لہٰذا کیوں نہ ان ہی سے بات چیت کی جائے اور مذاکرات کا ڈول ڈالا جائے… امریکہ طالبان کی زبردست قوت مزاحمت کا مقابلہ نہ کرتے ہوئے بیس سال جنگ کے بعد وہاں سے نکل جانا چاہتا ہے… 10 ستمبر سے اپنی افواج کے انخلا کا ارادہ باندھے ہوئے ہے… لیکن شکست اسے آج بھی تسلیم نہیں… اتنی بڑی ہزیمت اس سے برداشت نہیں ہو پا رہی… پاکستان کی فوج ان جنگوں میں اس کی پرانی اتحادی ہے… اس سے کام لینا چاہتا ہے اور ہماری سرزمین اور ہوائی حدود کو استعمال کرنا چاہتا ہے… راولپنڈی کے عسکری حکام نے معلوم ہوتا ہے اس کی خواہشات پر صاد کر دیا ہے… ہمارے وزیر خارجہ اسے کسی قسم کا اڈہ دینے سے بظاہر انکاری ہیں لیکن موصوف سویلین سیٹ اپ کے نمائندے ہیں… امریکہ نے ہمارے اصل حکمرانوں سے بات پکی کر لی ہے… اسی لیے امریکی نائب وزیر دفاع ڈیوڈ این ہیلووے کی اپنے ایوان نمائندگان کی آرمڈ کمیٹی کے سامنے دیئے گئے بیان کی اب تک کسی نے تردید نہیں کی… کہا جا رہا ہے نائن الیون کے بعد امریکہ کے پاکستان کے ساتھ جو معاہدے ہوئے تھے ایک زمینی راہداری کے لیے دوسرا فضائی حدود کے استعمال کی خاطر… انہی معاہدوں کے تحت اب کارروائیاں کی جائیں گی… مگر ماہرین کا کہنا ہے دبائو کے تحت کیے جانے والے یہ معاہدے نائن الیون کی جنگ کے خاتمے کے بعد ختم ہو چکے ہیں… دوسری حقیقت یہ ہے جنرل مشرف کے بعد جمہوریت بحال ہوئی… نئے انتخابات کے تحت وجود میں آنے والی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر طے کیا تھا آئندہ امریکہ سمیت کسی ملک کو پاکستان کے ہوائی یا زمینی اڈے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے گی… اس کے باوجود کیا ہماری عسکری قیادت کے ایما پر واحد سپر طاقت نے طے کر لیا ہے کہ افغانستان کی جنگ اگلے مرحلے میں پاکستان کی زمینی و فضائی حدود کے اندر لڑی جائے گی… ہماری جانب سے تو کچھ نہیں بتایا جا رہا… کسی میں شاید اس کی ہمت بھی نہیں… لیکن طالبان اس خطرے کو بھانپ چکے ہیں… ان کی جانب سے تازہ ترین بیان میں کہا گیا ہے انہیں ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ ہمارے پڑوس میں طالبان کے خلاف کارروئیاں کرنا چاہتا ہے… اگر ایسا ہوا تو سخت غلطی ہو گی… پڑوسی ممالک کو ایسا نہیں کرنا چاہئے… دوسرے الفاظ میں انہوں نے پاکستان کے حکمرانوں کو متنبہ کیا ہے اگر وہ ان کے خلاف امریکی جنگ کو اپنی سرزمین پر لے آئے تو نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں… دوسرے الفاظ میں انہوں نے پاکستان کے صاحبان اقتدار کو خبردار کیا ہے اپنے ملک کو ہمارے خلاف امریکی جنگ کا جہنم زار بنانے سے گریز کریں… اس اندیشے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ افغان طالبان ہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو پاکستانی طالبان بھی ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے… وہ خونریزی ہو گی کہ رہے نام اللہ کا۔ احتمالاً…اس آگ میں سارا خطہ جھلس کر رہ جائے گا…


ای پیپر