کسان خوشحال،پنجاب خوشحال
27 May 2021 2021-05-27

 کسان کا کام مٹی نرم کر کے بیج بونا،وقت پر کھیت سیراب کرنا،کھاد ڈالنا اور فصل کی نگہداشت کرنا ہے، موسم کی موافقت یا عدم موافقت قدرت کی کاریگری ، ہمسایہ ملک سمیت اکثر ملکوں میں بیج پانی کھاد حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر فصل کی مناسب نرخوں پر فروخت کی ذمہ داری بھی اٹھاتی ہے،بہترین فصل ہونے پر بھی کسان کو مارکیٹ اچھی نہ ملے تو قصور وارحکومت ہوتی ہے،ہم وہ بد قسمت قوم ہیں جن کی سیاسی قیادت اور وقت کی حکومتوں نے قدرت کے عطا کئے ہوئے عطیہ کی قدر نہ کی اور ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم ماضی قریب میں اجناس درآمد کر تے رہے،وجہ ماضی کی حکومتوں کی نا اہلی،عاقبت نا اندیشی اور زراعت کے شعبے کو نظر انداز کر کے ساری توجہ صنعت اور تجارت پر مرکوز کرنا تھی نتیجے میں خدا ہی ملا نہ وصال صنم، زراعت بھی تباہ ہو گئی اور صنعت بھی ترقی نہ کر سکی ماضی کے حکمرانوں کی چند صنعتوں کے سوا قومی صنعت کا بیڑہ غرق ہو گیا،کپاس کی فصل میں نہ صرف ہم خود کفیل تھے بلکہ کپاس برآمد کیا کرتے تھے،ملکی پیداوار میں کپاس کا حصہ 23فیصد سے زیادہ تھا،مگر شہباز شریف دور میں کپاس زون میں شوگر ملیں نصب کرنے کی اجازت دی گئی جس کے باعث کپاس کی کاشت کے بجائے زمینداروں کو گنے کی کاشت پر مجبور کیا گیا،نتیجے میں جنوبی پنجاب کی نفع بخش فصل کپاس کی پیداوار اتنی کم ہو گئی کہ ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضروریات کیلئے درآمد کرنا پڑی،ٹیکسٹائل انڈسٹری بند کرنا پڑی،پاور لومز کی صنعت تباہ ہو گئی،کھڈیاں جو پنجاب کی ثقافت تھی وہ صنعت بھی برباد ہو گئی۔

کسان کو گنا اور گندم کی کاشت کیلئے مجبور کیا جاتا مگر گنے کی قیمت سرکاری طور پر اتنی کم رکھی جاتی کہ کسان کی لاگت بھی پوری نہ ہو پاتی حکمران طبقہ کی شوگر ملیں اس سرکاری ریٹ پر بھی گنا خریدنے سے اجتناب کرتیں ،کٹوتی کی جاتی،فصل وصول کر کے سالہا سال ادائیگی نہ کی جاتی،دوسری طرف پولٹری فیڈ والوں نے مکئی نقد خریدنا شروع کر دی،اور کسان نے دیگر فصلوں پر مکئی کی کاشت کو اہمیت دی جس سے گندم کی قلت پیدا ہو گئی اور گندم بھی درآمد کرنا پڑ گئی،گندم کا کاشتکار بھی سابق ادوار میں پستا رہا،حکومت اول تو گندم کا نرخ ہی ظالمانہ طریقے سے مقرر کرتی،سرکاری ادارے براہ راست کسان سے مقررہ قیمت پر گندم خریدنے میں تساہل کرتے تو کسان پیداوار خراب ہونے سے بچانے کیلئے حکومتی ذمہ داروں کے مڈل مینوں اورآڑھتیوں کو گندم کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے،باردانہ کی فراہمی میں بھی ایسا رویہ اپنایا جاتا کہ کاشتکار کومرضی یا مقررہ قیمت پر گندم فروخت کرنے میں دشواری ہوتی اور مڈل مین کو ان کی مرضی کی قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے اور یہ مڈل مین کچھ گندم سرکاری محکموں کو مقررہ ریٹ پر اور باقی فلور ملوں کو مرضی کی قیمت پر فروخت کرتے جس کے نتیجے میں آٹے کی قلت کیساتھ قیمت میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا۔

 تحریک انصاف اور بزدار حکومت نے اس مرتبہ پنجاب میں کسان کو حقیقی ریلیف فراہم کرتے ہوئے گنے اور گندم کی قیمت کسان تنظیموں کے مشورے سے مناسب ترین مقرر کی،فصل کی مقررہ سرکاری نرخوں پرخرید کو یقینی بنایا،سرکاری اہلکار باردانہ لے کر گاﺅں گاﺅں گھومتے رہے،اسی طرح گنے کی بھی مناسب قیمت مقرر کی گئی اور کسان کو فروخت میں سہولت کیساتھ قیمت کی بر وقت ادئیگی پر بھی شوگر ملوں کو مجبور کیا گیا،کئی سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسان کا استحصال کرنے والے آڑھتیوں اور مڈل مینوں کی ایک نہ چلنے دی گئی،اس حوالے سے محکمہ فوڈ کی کار کردگی بھی بہتر رہی اور محکمہ نے کسان کی بھر پور سرپرستی کر کے انہیں مافیاز سے بچائے رکھا،یہی نہیں سالہا سال سے کسانوں کی گنے کی ادائیگی کیلئے شوگر ملوں کو مجبور کیا گیا جس سے کسان خوشحال ہوا۔سیکرٹری فوڈ شہر یار سلطان ،ڈائریکٹر فوڈ دانش افضال اور کین کمشنر پنجاب زمان وٹو کی اس معاملے میں جتنی تعریف کی جائے کم ہے ویسے ان تینوں افسروں کا سروس ٹریک بھی بہت اعلیٰ ہے ،یہ تینوں اپ رائٹ،محنتی اور عوام دوست مانے جاتے ہیں۔

 وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کسان کی بہتری اور زرعی شعبے کو خود کفیل بنانے کیلئے کسان کارڈ کے اجراءسے کسان پیداواری اخراجات کیلئے آڑھتیوں کے رحم و کرم پر نہیں رہا،اب وہ بینک سے آسان شرائط پر فوری قرضہ لیکر بیج کھاد ادویہ خرید سکتا ہے،اس اقدام سے کسان میں اعتماد آیا جس سے پیداوار میں اضافہ ہوا،اس کیساتھ ہی بیوروکریسی پر بھی اعتماد نے معاملات کو بہتر کرنے میں مدد دی، اب شائد تحریک انصاف کے حکمرانوں کو اس حقیقت سے آشنائی مل چکی ہے کہ بیوروکریسی کے تعاون کے بغیر حکومتی اقدامات کے ثمرات عوام تک پہنچانا ممکن نہیں،گندم اور گنے کی خریداری اور کسان کو ریلیف دینے میں بیوروکریسی کا کردار ناقابل فراموش ہے،جس کی ایک جھلک ایک کسان کی سوشل میڈیا پر لائیو کلپ سے ہوتی ہے کہ کسان کتنا خوش اور خوشحال ہے،یہ کسان کہتا ہے نواز شریف دور میں ہماری فصلیں رل گئیں ہم 60روپے من گنا فروخت کرنے پر مجبور تھے،چاول کی فصل ڈیڑھ ہزار من بیچنا پڑی،کسان دہائی دیتا ہے کہ مڈل مین مافیا ہمیں دونوں سے لوٹتے رہے اور ہم زمینیں بیچنے پر مجبور ہو گئے،کسان کہتا ہے دوستوں اب آیا ہے دور زمیندار کا،اب ہماری فصل قدر سے فروخت ہو رہی ہے،کماد جو ہم 60روپے من بیچتے رہے آج 300روپے من فروخت ہوا،دھان ماضی میں ڈیڑھ ہزار روپے من بیچا آج ڈھائی ہزار روپے من فروخت ہوا،گندم کی فصل 900روپے اورایک ہزار من بیچنے کیلئے بھی منت سماجت کرنا پڑتی تھی بار دانہ کا حصول دودھ کی نہر کھودنے کے مترادف تھا مگر آج محکمہ فوڈ کے اہلکار موقع پر باردانہ دیکر جاتے ہیں اور ہمیں 1800روپے من نقد قیمت ملتی ہے،کسان کہتا ہے موجودہ پنجاب حکومت اور وزیر اعظم عمران خان کسانوں اور زراعت کیلئے منافع بخش پالیسیاں متعارف کرا رہے ہیں لہٰذا کسان ان کا ساتھ دیں ان کے ہاتھ مضبوط کریں،کسان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہم اپنی قابل کاشت اراضی فروخت کر کے بیٹیوں کی شادیاں کرتے تھے مگر اب ہماری فصل مناسب قیمت پر فروخت ہو رہی ہے،ہماری محنت کا صحیح معاوضہ مل رہا ہے اور یقین ہے کہ جلد ملک کا کسان خوشحال ہو گا اور ملک زرعی اجناس میں خود کفیل ہو جائیگا۔

 یہ تو ایک کسان کی کہانی ہے مگر اس وقت اگر صوبہ کے دیہی علاقوں کا جائزہ لیں تو یہ کہانی گھر گھر کی ہے، کسانوں،کاشتکاروں میں اعتماد کی فضا ءہے،اب وہ ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے پر عزم ہیں،دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے سفر خوشحالی پر نگاہ دوڑائیں تو معلوم ہوتاہے کہ جس ملک کا شعبہ زراعت خود کفیل تھا اس ملک نے مختصر وقت میں کامرانی کے زینے طے کئے، امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان بھی اب خود کفالت کی راہ پر چل نکلے گا،انشاءاللہ


ای پیپر