بھلا یہ بھی کوئی ”جینا“ ہے
27 May 2021 2021-05-27

 چند قارئین نے میرے کالم پڑھ کر اپنی رائے مجھ تک پہنچائی کہ یہ کیا آپ ”سیاست“ کی دُھول میں خود کو گم کررہے ہیں ہم تو آپ کے کالم میں وہی پرانا اسلوب اور وہی متصوقانہ موضوعات پسند کرتے ہیں، اور انہی موضوعات کے باعث ڈھونڈ کر آپ کی تحریریں پڑھا کرتے ہیں۔ چاہے اخبار ہو یا فیس بک آپ کی تحریریں کچھ نہ کچھ سوچنے پر مائل کرتی ہیں۔ میں انہیں کیا جواب دیتا، بس اتنا کہا کہ کبھی کبھی اردگرد کے حالات پر تبصرہ کرنے کو بھی جی کرتا ہے وگرنہ میرا کوئی سیاسی دھڑا نہیں، نہ کوئی مفاد وابستہ ہے کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کی ترجمانی کروں یا سیاسی رہنماﺅں سے تعلق بناتا پھروں، میں تو صحافیوں اور کالم نگاروں سے بھی کم ملتا ہوں اور اب تو کرونا نے ہمیں گھر میں” نظربند“ کررکھا ہے۔ دوسرا میں کون سا داد لینے کے لیے کچھ لکھتا ہوں۔ میں تو اس سلسلے میں دل کی مانتا ہوں کہ دل ہی ہمارا سب سے بڑا دوست مشیر اور رہنما ہے بشرطیکہ دل مختلف عوارض سے پاک ہو۔ دل کی بیماریوں میں غصہ، کینہ، حرص وہوس لالچ ،غرور تکبر شامل ہیں۔ یہ بیماریاں ساری عمر ہماری جان نہیں چھوڑتیں۔ ہمارے بابا جی فرماتے ہیں:

انسان جوں جوں عمر رسیدہ ہوتا ہے اس کی حرس وہوس ”جوان“ ہونے لگتی ہے۔ آخری عمر میں لالچ زیادہ بڑھ جاتی ہے بلکہ یہ حرص وہوس تو مرنے تک ہی نہیں”قل خوانی“ تک ساتھ چپکی رہتی ہے۔ 

مَن مارنا ایک مشکل عمل ہے بہت پڑھ لکھ کر بھی دل دنیا سے بھرتا نہیں، مرنا تو کوئی بھی نہیں چاہتا۔ بلکہ ”موت“ برحق ہے اور سب کو علم ہے کہ ہمیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا اس کے باوجود بھی ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ابھی بہت عرصہ پڑا ہے۔ اور ہم مسلمانوں کے ذہن میں تو یہ گمان بھی تروتازہ رہتا ہے کہ ، زندگی میں ہیرا پھیری، چالاکی اور گناہوں کا کیا ہے کہ عمرے اور حج کریں گے تو سارے گناہ معاف ہو جائیں گے اور ہم ایک معصوم بچے کی طرح بالکل ”پوّتر“ہو جائیں گے۔ سو ہمارے بڑے بڑے متمول حضرات ، تاجر، صنعت کار زمیندار، سیاسی اکابرین کئی کئی بار حج کرتے ہیں عمرے کرتے ہیں اوربعض تو رمضان کے آخری عشرے مدینے کی فضاﺅں میں عبادات کرتے گزارتے ہیں۔ صرف اور صرف اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے۔ واپس آکر وہ پھر سے انہی دھندوں میں غرق ہو جاتے ہیں۔ نام کے ساتھ ”الحاج“ لگانے والے کئی پتھر دل تاجر حضرات کا اپنے ملازمین اور عام لوگوں سے رویہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ رکھا ہے۔ حالانکہ حج عمروں سے صرف اور صرف حقوق اللہ کی معافی ممکن ہے حقوق العبادکا حساب اپنی جگہ ہے۔ جب تک بندوں سے معاملات درست نہیں ہماری عبادات اور ریاضتیں بھی رائیگاں ہیں۔

”من مارنا“ آسان نہیں۔ ہمارے اشفاق احمد واصف علی واصف سے ”من مارنے“ کے علاج کا پوچھا کرتے تھے۔ ایک بار کہا : آپ ڈھول گلے میں ڈال کر گھر سے نکل کر لبرٹی لاہور کا چکر لگاﺅ اور اسی طرح واپس آجاﺅ تو ”خیر “ ہو جائے گی۔ اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ میں نے چارسو اسی روپے کا ڈھول خریدا اور ایک میراثی سے بجانا بھی سیکھا اور دفتر سے آکر گھر میں بجاتا بھی رہا مگر لبرٹی تک گلے میں ڈھول ڈال کر بجاتے ہوئے کیسے جاسکتا تھا۔ میرا تو ان دنوں طوطی بول رہا تھا۔ پھر واصف صاحب نے انہیں بوری کا سوٹ پہن کر نیلا گنبد سے لوہاری گیٹ تک جانے کا کہہ دیا کہ یہ کرکے دیکھ لومگر یہ ذلت اور رسوائی کا سامان اتنا بڑا آدمی عظیم ادیب ڈراما نگار اور مشہور شخص کیسے کرسکتا تھا؟۔ اصل بات یہ تھی کہ واصف صاحب عاجزی انکساری کی راہ دکھارہے تھے جو مشہور افراد کے لیے ایک نہایت مشکل کام ہے۔ واصف صاحب نے اشفاق احمد سے کہا کہ جب تک جھکو گے نہیں اس وقت ابلیس نہیں نکلے گا یعنی ابلیس کا سا تکبر ساتھ چلتا رہے گا۔ اس لیے جھکنا ضروری ہے۔“

ہمارے بہت سے لوگ بعض کام صرف اس لیے نہیں کرسکتے کہ :”لوگ کیا کہیں گے؟“۔ ہم اپنے من کو راضی نہیں کرتے ہمیشہ دوسروں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں کہ فلاں کیا کہے گا اتنا پڑھ لکھ کر ”فلاں نوجوان فٹ پاتھ پر دال چاول بیچنے لگ گیا یا معمولی سی ملازمت کرنے لگ گیا ہمارے اندر سے یہ ”میں“ اور اس کی ”بدبو“ ختم ہی نہیں ہوتی ہے۔ ہم میں سے ہرشخص مقام اور مرتبے کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے وہ دوسروں کی نظروں میں ”اہم“ دکھائی دینا چاہتا ہے۔ وہ عام انسانوں کی طرح جی نہیں سکتا۔ ہم غلطی کرکے بھی اس کی معذرت اس لیے نہیں کرسکتے کہ ہمارے، اندر کی ”انا“ ہمارے قد سے بڑی ہوتی ہے۔ ہم معاف کرنے سے ہمیشہ قاصر رہتے ہیں۔ آپ سڑک پر راستہ نہ دینے والے کو برداشت نہیں کرتے۔ گدھا گاڑی والا موٹرسائیکل والے سے نالاں ہے، موٹرسائیکل والا کارچلانے والے کو زہرآلود نظروں سے دیکھتا ہے۔ ہم دوسروں کو خوش نہیں دیکھ سکتے۔ دوسروں کی خوشی اور ترقی سے خوامخواہ حسد کرنے لگتے ہیں چاہے ہمارا اس کا کوئی دور کا تعلق بھی نہ ہو۔ ہمارے عوام میں بیشتر کا مائنڈ سیٹ ایسا ہی ہے کوئی کسی سے راضی اورخوش نہیں۔ ایک عجیب سا غصہ فتور حسد اور انتقام کا الاﺅ دل میں لیے پھرتے ہیں۔ ہمارے حکمران بھی ایسے ہی ہیں وہ ساری پالیسیاں بھی صرف اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کربناتے ہیں۔ یہاں تو سڑک پر جو ”بیریئر“ لگائے جاتے ہیں ناکہ ختم ہونے کے باوجود سڑک پر جُوں کے توں رہتے ہیں۔ کوئی بندہ یہ معمولی سی آسانی بھی دوسروں کو بخشنے سے قاصر ہے۔ ہم سب تنگ ہورہے ہوتے ہیں مگر گاڑی سے اتر کر اس رکاوٹ کو ایک طرف نہیں کرسکتے۔ ہماری زندگی آسان کیسے ہوسکتی ہے؟۔ ہم تو دن بھر غصے سے پھنکارتے ہیں گھر آکر بھی یہ رویہ ختم نہیں ہوتا پھر کہتے ہیں ڈپریشن ہوگیا ہے اور دوائیں استعمال کرنے لگتے ہیں بھلا یہ بھی کوئی جینا ہے ؟


ای پیپر