چینی صدر نے خطرناک جنگ کیلئے تیار رہنے کا حکم دیدیا
27 May 2020 (21:26) 2020-05-27

چینی صدر شی جن پنگ نے پیپلز لبریشن آرمی سے کہا ہے کہ ملک کے دفاع کیلیے تیار رہا جائے،بد ترین حالات سے نمٹنے کے لیے فوج اپنی مشقیں مکمل کرلے۔

پیپلز لبریشن آرمی کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ پوری طاقت کے ساتھ قومی خود مختاری، سیکیورٹی اورترقی سے منسلک مفادات کی حفاظت کی جائے گی، چینی صدر نے کہا کہ تمام حالات سے فوری اور موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے فوج اپنی ٹریننگ کو بڑھائے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شی جن پنگ کی طرف سے فوج کو تیار رہنے کے حکم کو بھارت کیساتھ فوجی ٹکراؤ کے بڑھتے خدشات کے پیش نظرغیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پنگ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، اس لیے یہ غیر معمولی ہے،قابل ذکر بات یہ ہے کہ کچھ عرصے سے لداخ اور شمالی سکم میں حقیقی کنٹرول لائن پر بھارت اور چین نے اپنی اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔

گزشتہ دنوں ممالک کی افواج کے درمیان ہاتھا پائی کے متعدد واقعات پیش آئے۔ چینی فوج کے ذریعہ بھارتی فوجی جوانوں کو گرفتارکرنے کی خبریں بھی آئی تھیں۔

بھارتی میڈیا نے سیٹلائٹ تصویروں کے ثبوت کے ساتھ دعویٰ کیا ہے کہ چین لداخ کے قریب ایک ایئر بیس کی توسیع کررہا ہے اوراس نے وہاں جنگی طیارے بھی تعینات کردیے ہیں۔

ادھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 26 مئی کو ایک اعلیٰ سطح اجلاس بلایا تھا جس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور تینوں افواج کے سربراہوں نے انھیں صورتحال کے بارے میں بریف کیا۔

خیال رہے کہ علاقے کا جغرافیہ بدلنے کی کوشش پر چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے لداخ میں متنازع ایریا کا کنٹرول حاصل کرلیا جبکہ سکم بارڈر پر بھی مزید فوج تعینات کر دی گئی ہے۔


ای پیپر