ترجمان پی آئی اے نے حقائق سے پردہ اُٹھا دیا
27 May 2020 (18:06) 2020-05-27

اسلام آباد: ترجمان پی آئی اے عبداﷲ حفیظ نے کہا ہے کہ طیارہ حادثے کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والی تمام باتیں غلط ہیں‘ پی آئی اے کے پاس فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ اور بلیک باکس کی ڈی کوڈنگ کا انتظام نہیں ہے‘ ڈی کوڈ صرف مینو فیکچرنگ کمپنی یا ایکسپرٹ ادارہ ہی کرتا ہے۔

بدھ کے روز ترجمان پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز عبداﷲ حفیظ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے لئے قائم گیارہ رکنی ایئربس ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیئے ہیں۔ منگل کے روز ایئرپورٹ رن وے اور سائیٹ کا جائزہ لیا گیا ٹیم کی جانب سے تمام چارٹس اور نقشے بنا لئے گئے ہیں۔ جبکہ طیارے کے ملبے کو علاقہ سے اٹھانے کا بھی عمل شروع کردیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اب تک 97 میں سے 41میتوں کے لواحقین کی شناخت کردی گئی ہے اور مزید دو کی بھی جلد شناخت ہوجائے گی۔ تمام میتوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھیجا جاچکا ہے جبکہ لواحقین کو ہر طرح کی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔

ترجمان پی آئی اے نے مزید کہا کہ طیارے کے پائلٹ کی جانب سے ایمرجنسی لینڈنگ سروسز نہیں مانگی تھیں اصل حقائق کے لئے دیگر ریکارڈز جمع کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ کو پی آئی اے کی جانب سے ڈی کوڈ کرنے کی تمام باتیں غلط ہیں پی آئی اے کے پاس فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ کرنے کی سہولت ہی نہیں ہے اور دنیا بھر میں بلیک باکس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ کی ڈی کوڈنگ طیارہ بنانے والے ادارے ہی کرتے ہیں۔ ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ حادثے کی تحقیقات کا سارا کام تحقیقاتی کمیٹی کررہی ہے اس سے پی آئی اے کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی بعد میں کوئی ہوگا۔


ای پیپر