چینی کمیشن رپورٹ کو نظر نہ لگ جائے
27 May 2020 2020-05-27

پاکستان شاید دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جہاں مختلف ادوار میں حمودالرحمان کمیشن سے لے کر سانحہ ماڈل ٹاون تک مختلف قومی معاملات پر کمیشن بنائے جانے کی فہرست بہت طویل ہے لیکن یہ ایک ایسی ہنڈیا رہی ہے جو کبھی بھی پک کر دسترخوان کی زینت نہ بن سکی۔

اب شاید صاحب دستر خوان نے اعتماد اور یقین کا کوئی ایسا دم کرایا ہے کہ اسے تسلی کہ یہ ہنڈیا مزے دار چٹخارے دار ہونے کے ساتھ ساتھ مہمانوں کو خوب لبھائے گی۔اسی لیے تو وہ اپنی زعفرانی ڈش کو سب کے سامنے لے آئے ہیں۔ چینی تحقیقاتی کمیشن نے عوام کا خون چوسنے والے بڑے کردار بے نقاب کر دیئے ہیں۔ کمیشن نے نہ صرف بحران کا زمہ دار ریگولیٹرز کو ٹھہرایا ہے بلکہ ساتھ ہی واشگاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ کین کمشنر سے لے کر ایس ای سی پی، مسابقتی کمیشن، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک سب ہی نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

بلاشبہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے اتنے بڑے مافیا کو بے نقاب کیا ہے۔ایسا مافیا جو ہر دور میں حکومت کے ساتھ چمٹا ہوتا ہے، یہ نہ صرف قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالتے ہیں بلکہ لوگوں کی جیبوں بھی مہارت کے ساتھ صفایا کرتے ہیں۔حکومت کے ویژن کے مطابق تحقیقاتی کمیشن نے طے شدہ طریقہ کار کے تحت معاملہ کی چھان بین کی اور وزیراعظم کو پیش کی جانے والی فرانزک رپورٹ میں بتا دیا کہ کون ہے جو لوٹ مار کرتا ہے۔ کمیشن نے پیداوار سے خریدوفروخت کا معاملہ بتا دیا ہے۔جمعرات کی شام سے اس پر ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں میڈیا پر بیانات دینے میں مصروف ہے۔سبھی کے تجزیہ اور تبصرے ان کی سیاسی جماعتوں اور اداروں سے وابستگی کا بھی پتہ دے رہے ہیں۔فرانزک آڈٹ کے بعد تاثر یہ قائم کر دیا گیا تھا کہ اب سب پکڑے جائیں گے ہتھکڑیاں لگیں گی۔اس کو بڑھا چڑھا کر حکومت کے وزرا اور مشیرپیش کر رہے ہیں جس کا عوام پر بھی منفی اثر پڑ رہاہے۔ کوئی وزیراعظم پر انگلیاں ا±ٹھا رہا ہے تو کوئی تحقیقاتی کمیشن سے سوالات کر رہا ہے ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں بحث میں حصہ لے کر دراصل اپنے دل کی بھڑاس نکالنے میں مصروف ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے رہنماو¿ں کا ردعمل تو اس رپورٹ پر بنتا ہی تھا اور اس میں کوئی حیرانی اور اچھنبے کی بات نہیں۔ حیرانی تو اس بات پر ہے کہ حکمراں جماعت کے رہنما اور وزرا بھی اپنے تند و تیز بیانات کے ذریعے اس رپورٹ کو مشکوک بنا رہے ہیں۔اس سے حکمراں جماعت کے اندر کی گروپ بندی بھی عیاں ہو رہی ہے۔کسی کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگانے اور سڑکوں پر کھینچنے سے مسائل حل نہیں بلکہ مزید بگڑتے ہیں۔ عوام کا پیسہ ہر دور میں لوٹا جاتا رہا ہے اب عوام اس بات کو اپنا مسئلہ سمجھتی ہے کہ جو دولت غیر قانونی طریقے سے لوٹی گئی ہے وہ فوری طور پر واپس لائی جائے تاکہ مہنگائی کم ہو سکے۔

ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کی سربراہی میں کمیشن نے انتہائی قلیل وقت میں فرانزک رپورٹ تیار کر کے کارنامہ انجام دیا ہے۔عموماً اس طرح کی رپورٹ تیار کرنے میں کم از کم 6 ماہ سے ایک سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ایسے میں ہمیں وزیر اعظم عمران خان اور اس کمیشن کی کاوش کو غیر ضروری بحث کے ذریعے ضائع ہونے سے بچانا ہوگا۔واجد ضیا کی تیار کردہ ابتدائی رپورٹ اپریل کی پانچ تاریخ کو پیش کی گئی۔ وزیر اعظم نے اس رپورٹ کا فرانزک تجزیہ کرنے کے لیے 25 اپریل تک کا وقت دے دیا۔

اب جبکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو چکا ہے ، شوگر مافیا کو مافیا بنانے والوں کو بھی ہمیں تلاش کرنا ہو گا۔ کمیشن نے سب کچھ واضح کر دیا ہے اب حکومت کی زمہ داری ہے کہ جن اداروں کی مدد سے یہ مافیا مضبوط ہوا ہے ان لوگوں کے چہروں سے نقابیں اتاری جائیں۔ نیب، ایف بی آر، مسابقتی کمیشن، سیکیورٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن، اسٹیٹ بینک اور شوگر ایڈوائزری بورڈ میں چھپی کالی بھیڑوں کو بھی سامنے لانا ہو گا۔ ایف آئی اے پر مزید بے جا دباو¿ نہ ڈالا جائے ان سے دوسرے کام لیے جائیں۔ کمیشن رپورٹ پر کام آگے بڑھانے کے لیے متعلقہ اداروں کو متحرک کیا جائے۔ صوبائی حکومت کو گنے کی خرید و فروخت میں اپنا سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا۔ گنے کی خریداری کے لیے نیا نظام یا فوڈ کنٹرولر کو بااختیار بنانا ہوگا۔ اسٹیٹ بینک، شوگر ایڈائزری بورڈ، ایف بی آر، مسابقی کمیشن، ایس ای سی پی، وفاقی اور صوبائی اداروں سے کرپٹ عناصر کو پاک کر کے ان اداروں کو فعال کرنا ہو گا۔ کمیشن رپورٹ کی پیش رفت پر نظر رکھنے کے لیے وزیر اعظم کو خود ہفتہ روزہ یا پندرہ روز اجلاس کرنا ہو گا۔ اگر ایسا نہیں کیا تو نامزد ملزمان محکمہ کے بااثر افراد سے مل کر اسٹے لے کے بیٹھ جائیں گے۔ حکومت کو ادھر بھی چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہو گا بہت سے لوگ عدالتوں کا رخ کریں گے۔ اور یہ بات بھی واضح ہے کہ متعلقہ ادارہ کے افسرن ہی کی مشاورت سے ملزمان عدالت سے اسٹے لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

میڈیا پر کوئی وزیر اور غیر متعلقہ افراد اس موضوع پر غیر ضروری بیانات نہ دیں۔ غیرضروری باتوں سے ملزمان کو معاملہ الجھانے کا موقع فراہم ہو گا اور اچھے کام میں بھی بلاوجہ رکاو¿ٹیں حائل ہو جائیں گی۔

بے محل کی گفتگو کے دوران آپ کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ سے غیروں سے پہلے کسی اپنے ہی کی نظر لگ جائے گی۔


ای پیپر