یونیورسٹیوں میں بحران کیوں؟
27 May 2019 2019-05-27

ملک کے مختلف جامعات میں ہراسمنٹ، فکری بنیاد پراساتذہ یا طلباء کے قتل، عدم برداشت کے واقعات کے سوال شدت اختیار کرگیا ہے کہ ملک کی اعلیٰ تعلیم کس نہج پر جارہی ہے؟ اس میں مزید اضافہ اور بجٹ میں کٹوتی نے کردیا ہے۔حکومت عملی طور اعلیٰ ٰ تعلیم کے لئے کتنی سنجیدہ ہے؟ اس کا بھی پتہ چلتا ہے۔ ذرا ان اعدادوشمار کو دیکھ لیجیئے۔ دنیا کی14 جامعات میں پاکستان چیئرز گزشتہ دس سال سے خالی ہیں۔ جامعات میں چیئرز متعلق ملک کا امیج بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ جبکہ دنیا کی تین سو یونیورسٹیز میں بھارتی چیئرز بھری ہوئی ہیں جو کہ اپنے ملک کا بہتر امیج بنانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔چیئرزحکومت پاکستان ان چیئرز کے لئے اعلیٰ تدریسی و تحقیقی پس منظر رکھنے والے اسکالرز کا انتخاب ہائر ایجوکیشن کے ذریعے کرتی ہے۔ لیکن گزشتہ کئی برسوں سے حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرسکی ہے۔ ٹائیمز ہائر ایجوکیشن کے مطابق دنیا کی بہترین 1000 میں پاکستان کے صرف 7 جامعات ہیں۔ جس میں سے ایک قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد ہے۔ چونکہ یہاں ملک کی ہر شرافیہ کے بچے پڑھتے ہیں اور وفاقی دارالحکومت کی وجہ سے ایک ایسا جزیرہ بنایا ہوا ہے جو شو کیس کے طور پر بھی کام کرتا ہے لہٰذا اس یونیورسٹی کو درست رکھنا حکمرانوں کی مجبوری اور ضرورت ہے۔

یہ بھی نوید آئی ہے کہ ملک کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو ایک اور جھٹکا لگنے والا ہے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اخراجات جاریہ کے لئے 103 ارب روپے دینے کا مطالبہ کیا تھا حکومت صرف 58 ارب روپے دینے کو تیار ہے۔ اگر ہائر ایجوکیشن کا یہ مطالبہ نہیں مانا جاتا تو سرکاری شعبے میں چلنے والی 117 جامعات شدید بحران میں چلے جائیں گے۔

رواں مالی سال کے لئے ہیک نے 82 ارب روپے مانگے تھے لیکن اسے تقریبا تیس ارب روپے کم ادا کئے گئے۔ نئے مالی سال کے لئے ہیک نے 30 ارب روپے کی فرمائش کی تھی لیکن حکومت بمشکل 28 ارب روپے دینے پر راضی ہوئی ہے۔ بلکہ وزارت خزانہ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ آنے والے تین سال کے دوران اس شعبے میںرقم میں مزید کمی ہوگی۔ جامعات طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد، ان کے لئے اساتذہ اور افرا اسٹرکچر، سائنسی آلات، تنخواہوں اور پینشنوں میں اضافے کے بوجھ تلے دبے چلے جارہے ہیں۔کم بجٹ کی فراہمی کے بعد ہیک نے ملک کی تمام سرکاری یونیورسٹیز میں تحقیق کی مد میں رقومات کم کردی ہیں اور بعض پروگرام بند بھی کردیئے ہیں۔ سائنسی آلات، غیر ملکی کانفرنسز میں شرکت کے لئے سفری اخراجات، غیر ملکی وظائف، میں کمی کردی گئی ہے۔ مزید بجٹ میں کٹوتی کے نتیجے میں کئی پروجیکٹس بند کردیئے جائیں گے۔ جب پیسے نہیں ہونگے تو کئی خراب چیزیں سامنے آناشروع ہونگی۔ لامحالہ طلباء کی فیس اور مختلف سرٹیفکیٹس کے اجراء کی فیس میں اضافے ناگزیر ہو جائیں گے۔ دیہی علاقوں کی یونیورسٹیز کے حصے میں خراب صورتحال زیادہ آئے گی۔

یونیورسٹی بنیادی طور پر ایسا ادارہ ہوتا ہے جو ایسے ذہن پیدا کرتا ہے جو فکر یا سوچ اور عمل میں آگے ہوں۔ جو صرف ملی ہوئی تعلیم تک محدود نہیں ہوتے بلکہ آگے کی سوچتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ پیدا کرتے ہیں جو سوچتے ہیں ، سوال اٹھاتے ہیں، تجزیاتی ذہن رکھتے ہیں تخلیق اور ایجادات کرتے ہیں۔بعض یونیورسٹیوں میں سخت قواعد و ضوابط ہیں لڑکیوں کا اسکارف پہننا ضروری ہے۔ اساتذہ کو اپنے مضمون کے بارے میں ہی کم جانکاری ہوتی ہے۔ دیکھا جائے تو اہلیت کا فقدان تدریس سے لیکر انتظامیہ اور بعض اوقات وائیس چانسلرز تک نظر آتا ہے۔

پچاس کے عشرے کی بات ہے کہ سندھ کے وزیر تعلیم نے سندھ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر کو تار بھیجا کہ وہ ان سے کوٹری ریلوے اسٹیشن پر ملیں۔ وزیر موصوف کراچی سے سکھر جارہے ہیں، وزیر صاحب کے آنے سے ایک روز قبل متعلقہ ڈپٹی کمشنر نے وائیس چانسلر کو اس ملاقات سے متعلق آگاہ کیا۔ غالبا عالمہ آئی آئی قاضی وائیس چانسلر تھے۔ انہوں نے کوٹری ریلوے اسٹیشن پر جاکر وزیر سے ملنے سے انکار کیا، اور کہا کہ مجھے ویزر موصوف سے کوئی کام نہیں، میں کیوں ملنے جائوں؟البتہ انہیں کوئی مجھ سے کام ہے تو ضرر تشریف لے آئیں۔ آج یہ صورتحال ہے کہ اگر کوئی وزیر یونیورسٹی کے شہر یا اس کے کسی قریبی مقام کا دورہ کرتا ہے یا آتا ہے، تو وائیس چانسلر کی وہاں حاضری ضروری سمجھی جاتی ہے۔یہ تحقیقی صورتحال ملک بھر میں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سندھ میں کچھ زیادہ ہے۔ یہ قدم تحقیقی اور اعلیٰ تخلیقی ذہن پیدا کرنے والے ادارے کی حیثیت اور خود مختاری کم کرنے کے مترادف ہے۔ اب بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ پروچانسیلر اور پرو وائیس چانسیلر کے عہدے ایجاد کر کے سیاسی مداخلت کوقانونی شکل دیدی گئی ہے۔ جامعات کہنے کو خود مختار ہیں اور سینڈیٰکٹ کے تحت چلتے ہیں۔ اب یہ مداخلت اتنی حد تک ہے کہ اس عمل کو عیب نہیں سمجھا جاتا۔ عملا وہاں سیاسی مداخلت نے یونیورسٹی کے بنیادی تصور کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وائیس چانسیلر ہی نہیں بلکہ دیگر اہم عہدوں پر تقرریاں سیاسی اثر رسوخ پر ہوتی ہیں۔ چھوٹے موٹے ٹھیکے، یا دے کر کام متعلقہ علاقے کے رکن اسمبلی یا وزیراعلیٰ کے قریبی لوگوں کے کہنے پر دیئے جاتے ہیں۔ یہ کوئی آج کی یا ایک روز کی صورتحال نہیں۔ اب اس کو ڈیڑھ دو عشرے ہو چکے ہیں۔ یہ بھی نظر آیا کہ یونیورسٹیزاعلیٰ تعلیم دینے اور تحقیق کے اداروں کے بجائے حکمران جامعات کی سفارش پر روزگار فراہم کرنے کے ادارے بن گئے ہیں۔ جہاں اساتذہ اور ٹیکنیکل سپورٹ کے اسٹاف کی بڑے پیمانے پر کمی ہے لیکن لوئر اسٹاف تین چار گنا زیادہ ہے۔ جو یونیورسٹی کی تدریس یا تحقیق کو بہتر بنانے میں مدد کے بجائے اس کے خسارے میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

خود مختار اداروں میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے قوانین وضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے، یہاں سے غیر قانونی طریقوںاور کرپشن کا راستہ کھلتا ہے۔ پھر یہ مداخلت کرپشن کا باعث بھی بنتی ہے اور اس کی پناہ گاہ بھی۔ ان دو کاموں کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ خود کو بے بس محسوس کرتی ہے۔ نتیجتاً وہ بھی ان دو برایوں کی لپیٹ میں آجاتی ہے۔سیاسی مداخلت کے باعث انتظامیہ اساتذہ اور ملازمین کے مطالبات اور طلباء کی ضروریات کو صحیح طور پر دیکھنا اس کی ترجیح نہیں رہتی ہے۔ ایسے میں یہ سب اپنے مطالبات کے لئے دبائو ڈالنا شروع کرتے ہیں۔اور یوں ایک اور بحران شروع ہو جاتا ہے، جو آج کل سندھ کے جامعات کو درپیش ہے۔ اگر سندھ کے جامعات کا جائزہ لیا جائے تو کمزور انتظامیہ کے لئے یہ مشکل نظرآے گا کہ تدریسی عمل یا یونیورسٹی میں ایک سیکھنے کا ماحول پیدا کرسکیں یا اس کی مانیٹرنگ کر سکیں۔ مانیٹرنگ کے لئے الگ سے ٹیمیں بھی بنائی جاسکتی ہیں ۔ہم ہر سال لاکھوں گریجوئٹس پیدا کر رہے ہیں لیکن ان کی علمی صلاحیت میٹرک کے برابر بھی نہیں ہوتی، اس میں اساتذہ کا قصور بھی ہو سکتا ہے لیکن یونیورسٹی تک پہنچنے والے بچوں کی ابتدائی تعلیم میں کوئی کمی ہے۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بحرانی صورتحال اچھا شگون بھی ثابت ہو سکتی ہے کہ ہم سب سوچیں کہ اعلیٰ تعلیم کو آگے کس طرح سے بڑھایا جائے۔پاکستان کی اعلیٰ تعلیم بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پیسے اس پیچیدہ صورتحال کو حل نہیں کرسکتے۔ چار قسم کے بحران ہیں: اساتذہ اور طلباء میںدانش و رواداری کی کمی، اساتذہ اور طلباء میں اخلاقیات، سیاسی مداخلت، طلباء اور والدین دنوں کی کریئر کونسلنگ تاکہ بچے کو اس کے رجحان اور صلاحیت کے مطابق داخلہ مل سکے ۔


ای پیپر