تکبر کی زد میں آئے شخص کی المیہ کہانی
27 May 2019 2019-05-27

سپریم کورٹ میں نیب سے متعلق کوئی مقدمہ ایسا نہیں ہوتا جس میں نیب کے ادارے کی کارکردگی پر سوال نہ اٹھتا ہے۔ ۔ جاوید چودھری کو دیے گئے انٹرویو کی ایک جھلک جسٹس ریٹائر جاوید اقبال کی 19 مئی کی وہ تقریر تھی۔ جس میں وزیر اعظم کے مخالفوں کے خلاف للکار تھی ۔ چند ہی دن بعد قدرت کی لاٹھی آواز بن کر چیئر مین پر ا یسی برسی کی چیئر مین نیب کو معلوم ہی کہ ان کہ ایک مبینہ محبوبہ کی یکے بعد دیگرے مبینہ آڈیو اور ویڈیو بارہ مسالوں سے بھر پور جاری ہوئی تو ایک تہلکا سا مچ گیا۔حکومت کے وزیروں اور مشیروں نے نیب کے حق میں فتوے داغنے شروع کیے۔یہ بھی تو کپتان کی طرح صادق اور امین ہیں۔مگر کپتان کی حمائت سے تو اپوزیشن کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہو رہا ہے کہ اپوزیشن ہی اصل ٹارگٹ ہے۔ بہت سے مقدمات جو گئی سالوں سے چل رہے ہیں ان پر مسلسل خاموشی ہے۔ نہ جانے اس معاملے میں حکومت اتنی ڈپریشن میں کیوں ہے ۔ میڈیا جو کہنے کو تو آزاد ہے مگر اس وقت میڈیا کو ایوب خان کے سخت دبا سے زیادہ مشکل کا سامنا ہے ۔ کپتان کے منصوبہ سازوں کو یقین ہے ان کے ترجما نوں کی کوئی کریڈبیلٹی نہیں رہی یہ بحث روکنے کے لیے کچھ تو قومی مفاد کو واسطہ بھی دیتے نظر آتے ہیں۔ بے خبر حکمرانوں کو اندازہ نہیں سوشل میڈیا کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ اگر یہ ویڈیو جعلی ثابت نہ ہوئی تو جناب کا رہنے کا اخلاقی اور قانونی جواز باقی نہیں رہے گا۔ معاملہ ایسے رکنے والا نہیں با با رحمتا بھی نہیں ہے۔ انکا واسطہ ایک مدبر چیف جسٹس سے ہے۔ جو اپنی کارکردگی سے بول رہا ہے اور اپنا کام کرتا ہے اور دوسروں کو بھی یہی کہتا ہے۔استعفیٰ کا آپشن ہے۔اس میں عزت سادات والا معاملہ بھی ہے۔اپوزیشن کی جماعتیں ان کے استعفیٰ کا سوال اٹھا رہی ہیں۔ بھارت کی سپریم کور ٹ کی ایک پراسیکوٹر نے اپنے چیف جسٹس پر ایسے ہی زبانی الزام لگائے چیف جسٹس نے اپنی کرسی اسی وقت خالی کر دی اور اعلان کیا کہ وہ تحقیقات ہونے تک اپنی سیٹ پر نہیں بیٹھیں گے ،میڈیا نے اس پر رپورٹس شایع کیں ۔ اور ایسا ہوا بھی سب نے دیکھاکی ججوں نے اپنے چیف کو کہڑے میں دیکھا مگر انصاف سے فیصلہ ہوا۔ مگر یہاں تو حکومت گلا پھاڑ کر پہلے اور اگلی صفوں میں آکر کر اس معاملے میں جج بن گئی ہے ۔ چیئرمین نیب کی کسی وضاحت سے پہلے حکومت نے اس سکینڈل ا کو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی سازش قرار دیا۔اور نیب کے مقدمات سے بچنے کی سازش قرار دیا۔اس کے بعد نیب کے ادارے کی طرف اس آڈیو ٹیپ کو جھوٹا قرار دیا۔اس کے بعد اور وڈیو اپ لوڈ ہوتی ہیں۔اس میں جو دیکھا گیاکانوں کو ہاتھ لگانے کو جی چاہتا ہے۔اب معاملہ اتنا آسان نہیں رہا جب ہم بیسویں صدی کی طرف مڑ کر دیکھتے ہیں بڑے رومان ہماری نظروں کے سامنے کھومنے لگتے ہیں۔ مگر کسی کو کسی کی پرائیویٹ زندگی میں جھانکنے کا حق حاصل نہیں۔گر ایسے معاشرے میں جہاں ’’کامن لا‘‘ کے تحت اس کام کو تحفظ بھی حاصل ہو وہاںبیسویں صدی کے آخری سال امریکی صدر بل کلنٹن کے ایک سکینڈل کا چرچا ہوتا ہے ۔بل کلنٹن اورمونیکا لیونسکی کا ایک ایسا افسانہ تھا جس نے امریکی جسد سیاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔صدر نے ابتدا میں اس سے انکار کیا بعدازاں اقرار کرنا پڑا۔۔اسی جھوٹ نے بل کلنٹن کو امریکی عوام کے سامنے کہٹرے میں لاکھڑا کیااور ان کے خلاف معاملہ مواخذے تک جا پہنچا۔یہ بھی منظر دنیا نے دیکھا کہ دنیا کی طاقت ور اور حکمران قوم نے اپنے صدر کو کس طرح سزا دی۔ مواخذے کی تحریک انجام کو پہنچی کو کلنٹن کا امیج ایک جھوٹے اور دھوکے باز کا تھا جو اپنی بدکاری پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹ بول رہا تھا۔امریکی قوم سمجھتی تھی کہ ان کا صدرغیر معمولی دانش کا مظاہرہ کرے گا،بحران کے دور میں قوم کو اعتماد میں لے گا۔اور سب سے بڑھ کر سچ بولے گا۔سا بق ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے بریگیڈیر (ر)اسد منیر نے نیب کے رویے سے تنگ آکر خود کشی کر لی تھی اس سکینڈل کے پس منظر میں اسد منیر کی بیٹی نے ایک جذباتی میسج لکھا ہے۔’’ میں کسی سے بدلہ لینے پر یقین نہیں رکھتی۔ مگر چیئرمین نیب کے سکینڈل کے منظر عام پر آنے سے مجھے منفی قسم کی خوشی محسوس ہو رہی ہے کیوں کہ اس شخص نے ہماری چھوٹی سی فیملی سے تمام خوشیاں چھین لیں‘‘ پاکستان میں سیاسی عدم برداشت کی جو سیاست ہمارے کپتان نے شروع کی تھی اب وہ پودہ تنا ور درخت بن چکا ہے۔نواز شر یف سے دشمنی ایسی کہ اب یہ ذاتی رقابت میں تبدیل ہو چکی ہے۔نواز شریف کے خلاف قائم ہونے والے مقدمات میں نیب سے زیادہ مدد گار بابا رحمتا ہی نہیں اور لوگ بھی ان کے پیچھے تھے۔ کیسی نے ایسی پٹی پڑھائی کہ حدیبیہ پیپر ملز کا کیس ایسا ہے جس کو تمام مقدمات کی ماں سمجھا جا تا ہے ۔مگر یہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ سے ختم ہو چکا تھا۔ اس وقت کے چیئرمین نیب قمر اللہ چودھری نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کوٹ میں اس لیے اپیل نہ کی کہ اس میں کامیابی کے کوئی امکا نات نہیں تھے۔ کپتان نے نواز شریف کے خلاف جلسے جلوسوں اور دباؤ کا حربہ استعمال کیا تاکہ چیئرمین نیب کو دباؤ میں لایا جائے ۔ کپتان نے تو نیب کی تاریخ کی پہلی مثال پیش کی جب 24پریل2017 کو نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد تحریک انصاف نے قومی احتساب بیورو کے سربراہ قمر زمان چوہدری کے خلاف ریفرنس دائر کردیا، جو کسی بھی چیئرمین نیب کے خلاف دائر کیے جانے والا پہلا ریفرنس تھا اور یہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر کیا گیا تھا جو عدلیہ کے ججوں کو اُن کے عہدوں سے ہٹانے کے لیے بھی دائر کیا جاتا ہے۔وجہ یہ بھی ہے کہ نیب آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کو سوائے آئین کے آرٹیکل 209 کے ان کی مدت ملازمت پوری ہونے سے قبل عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔قمر زمان چوہدری نے اکتوبر 2013 میں چیئرمین نیب کا عہدہ سنبھالا تھا ریفرنس ایسے وقت دائر کیا گیا جب چیئرمین نیب کی مدت ملازمت ختم ہونے میں صرف چھ ماہ باقی تھے پاکستان تحریک انصاف کو ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا۔ -1 چیئرمین نیب پاکستان میں احتساب کے نظام کو نافذ کرنے کے ذمہ دار تھے لیکن پی ٹی آئی کے مطابق نیب ملک کے کرپٹ ترین اداروں میں سے ایک ادارہ بن گیا ہے۔(’’کرپشن کے خاتمے کیلئے نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) کھڑا کیا گیا اور ایک سخت قانون بنا، جو نہایت مؤثر تھا۔ شروع میں نیب کی کارروائی تیز تھی، لوٹے ہوئے اربوں روپے واپس آئے ۔ پھر کچھ ہی عرصے میں شوکت عزیز صاحب کا محکمہ پریشان ہونے لگا۔ کہنے لگا کہ سارا پیسہ ملک سے باہر جا رہا ہے، اگر نیب کو نہ روکا گیا تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ پیسے والوں سے یہ پوچھنا چھوڑ دیں کہ اتنی دولت کہاں سے کمائی۔ اس خوف سے لوگ فیصلے کرنے سے گھبراتے ہیں اور یوں حکومت کا کاروبار نہیں چل سکتا۔ اس طرح حکومت کا کام رک جائے گا اور معیشت ڈوب جائے گی جس کی وجہ سے عوام ہی خسارے میں رہیں گے، غریب کا نقصان ہو گا۔ نیب کے سربراہ جنرل امجد کو ہٹا دیا گیا۔ سب نے سکھ کا سانس لیا اس کا بعد میں یہ ادارہ طیبہ فاروق سکینڈل اور سیاست کے گرد گھوم رہا ہے‘‘۔


ای پیپر