28مئی یوم تکبیراور ایٹمی دھماکے
27 May 2019 2019-05-27

ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر قوت بنایا ، چین کی طرف 46ارب ڈالر کی تاریخی سرمایہ کاری کی گئی ، امن و امان قائم کیا ، دہشت گردی کا خاتمہ کیا، موٹر ویز کا جا ل بچھایا ، اندھیروں کا خاتمہ کیا ، ملک کی معیشت کو مستحکم کیا ، معاشی بحران کا خاتمہ کیا ۔ وہ لیڈر محمد نواز شریف ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی اور سول بالادستی کی جرم کی پاداش میں پابند ِ سلا سل کیا ہے۔8مئی یوم تکبیر ہماری عظمت ،شان ، وقار، قومی تاریخ اور 14اگست 1947ء کے بعد دوسرا قومی دن ہے اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف ہیں جنہوں نے عالمی دباؤکو یکسر مسترد کرتے ہوئے امریکی صدر بل کلنٹن کے پانچ ٹیلی فون کال کرنے اور پانچ ارب ڈالر پیکج کے علاوہ محمد نواز شریف اورمحمد شہباز شریف کے ذاتی اکاؤنٹ میں 10ارب روپے خفیہ طور پر ڈالنے کی پیشکش کر کے آپ کو خریدنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ لوگ یقینا اس بات سے نا واقف تھے کہ محمد نوازشریف کو خریدا نہیں جا سکتا اور ان کے لیے پاکستان کے مفادات سب سے افضل ہیں۔ اس کا اعتراف خود ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 19اگست 1998ء کو محمد نواز شریف کے نام خط میں کیا تھا۔ ’’بل کلنٹن نے اپنی کتاب (My Life)میں لکھا ہے کہ مئی کے وسط میں بھارت نے زیر زمین ایٹمی دھماکے کئے تو جوابی دھماکوں سے روکنے کیلئے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف پر دبائو ڈالا لیکن انہوں نے دبائو قبول کرنے سے انکار کر تے ہوئے دو ہفتے بعد انڈیا کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کئے ،،۔11مئی 1998ء کو بھارتی جوہری دھماکوں کی اطلاع وزیر اعظم محمد نواز شریف کو قازقستان کے دارالحکومت میں ملی تو انہوں نے فوری طور پر کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس 13مئی طلب کرنے کی ہدایت کر دی اور دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں بری، فضائیہ اور نیوی کے سربراہان نے جوابی دھماکے کرنے کی مخالفت کی کہ اس سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے جبکہ وزارت خارجہ نے دھماکے کرنے کی حمایت کی کہ قومی سلامتی اور خود مختاری کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا موقف تھا کہ پاکستان کے پاس اس سے بہتر موقع نہیں ہوگا کہ پہل بھارت نے کی ہے اور جواباً پاکستان کوجوہری دھماکے کرنے چاہئیں۔ 28مئی1998کے روز سہ پہر 3:16پر بلوچستان کے اندرونی علاقے چاغی میں ایک بٹن دبا کر پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنا دیا اور نیو کلیئر کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا۔ ایٹم بم کا بٹن دباتے ہی چاغی کا پہاڑ دہک اٹھا جیسے اندر بہت سی سفید آگ روشن ہو گئی ہو۔ دھماکے ہوتے ہی چند لمحوں میں پیروں کے نیچے زمین نے تھر تھرانا شروع کر دیا اور پہاڑیوں نے اپنا رنگ بدل لیا ۔ محمد نواز شریف نے وطن عزیزکو ناقابل تسخیر بنانے کا یہ دلیرانہ قدم اُٹھا کر مسلم امہ کو بھی راہ دکھائی کہ وہ بھی اس تاریخ ساز قدم اُٹھا کر دنیا میں فخر سے سر بلند کر سکیں یہ پاکستانی قوم کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا جس کا کریڈٹ محمد نواز شریف اور قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کے علاوہ پوری قوم کو جاتا ہے جنہوں نے ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کے لیے ہر قربانی پیش کی زندہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں محمد نواز شریف نے وطن کو نا قابل تسخیر بنانے کے لیے دلیرانہ قدم اُٹھا کردنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار اسلامی ملک ہے اور وہ نہ کسی سے ڈکٹیشن لیتا اور نہ ہی دباؤ قبول کرتا ہے قومی لیڈر وہ ہوتے ہیں جو فیصلے وسیع ترقومی مفاد میں کرتے ہیں محمد نواز شریف کیساتھ پوری قوم اور عوامی قوت حاصل تھی سیاسی اور و اخلاقی پوزیشن مضبوط تھی بہادر تھے جتنے بھی دباؤ آئے ان کا باوقار انداز میں سامنا کیا اور قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے مقروض اسلامی ملک کو بھی ایٹمی قوت بنا دیا لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔سابقہ امریکی وزیر خارجہ کولن پائول نے کتاب (My American Journey)میں لکھا ہے نائن الیون واقعہ کے بعد پرویز مشرف نے ایک ٹیلی فون کال پر تمام امریکی مطالبات تسلیم کئے تھے جو ہماری بہت بڑی کامیابی تھی ،،۔ اور مشرف نے اپنی کتاب(In the line of Fire) میں اعتراف کیا ہے کہ ڈالروں کے عوض پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کئے ۔ بھارت نے پہلی بار سقوط ڈھاکہ کے بعد 1974میں ایٹمی دھماکہ کیا تھا اس وقت ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہالینڈ میں ملازمت کر رہے تھے مگر اپنے سینے میں پاکستان کو بھارت کے مقابل نہایت مضبوط کر دینے کی تڑپ رکھتے تھے۔اُنہوںنے اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط تحریر کیا تو بھٹو نے اُنہیں وطن واپس آنے کو کہا۔ 1975میں ڈاکٹرعبد القدیر خان نے ہالینڈ میں تیس ہزار ماہانہ تنخواہ چھوڑ کر پاکستان آ گئے ۔بھٹو نے کہوٹہ لیبارٹری کا سنگ بنیاد رکھ دیا او رڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پہلی تنخواہ چھ مہینے بعد دی گئی جو صرف تین ہزار ماہانہ تھی لیکن ملکی مفاد کے لیے قلیل تنخواہ پر کام جاری رکھا ۔1984میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ،انڈیا نے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالکلام کو ملک کا صدر بنا یاتھالیکن اس کے بر عکس محسن پاکستان اور قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکہ سی ۔ آئی ۔ اے کے دباؤ پر ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے 6سال تک پابند سلاسل رکھا اور ان سے اپنے اہل خانہ ، رشتہ داروں اور دوستوں سے ملاقات کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ پرویز مشرف ڈاکٹر قدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنا چاہتے تھے لیکن اُس وقت کے وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی کے دو ٹوک جواب پر مشرف نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ ’’امریکہ سنٹرل کمانڈ کے سابق کمانڈر جنرل زینی نے اپنی کتاب (BATTLE READY)میں لکھا ہے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لیے صدر کلنٹن نے اعلیٰ سطح وفد اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا وزیر دفاع ولیم کو ہن کی زیر قیادت میں اس وفد میں اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ کارل انڈر فرتھ اور جنرل زینی بھی تھے لیکن وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے اس وفد کو پاکستان کی سر زمین پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سنٹرل کمانڈ کابوئنگ707ٹمپا کے ہوائی اڈے پر تیار کھڑا تھا امریکیوں کے بار بار رابطے کے باوجود پاکستان کی طرف سے انکار جاری تھا آخرجنرل زینی نے وزیر دفاع کوہن سے کہا آپ اجازت دیں تو میں جنرل جہانگیر کرامت سے بات کرو ںمیں نے جنرل جہانگیر کرامت سے بات کی تو انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کیا اور چند ہی منٹ بعد ہم 22گھنٹے کی پرواز پر روانہ ہو چکے تھے پاکستان میں ہم وزیراعظم نواز شریف سے متعدد ملاقاتیں کیں لیکن ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی بات نہ منوا سکے‘‘۔ آج قوم اپنے ہیروز کی یاد تازہ کرنے اور اس دن کی مناسبت کو مدنظر رکھتے ہوئے 28مئی کو تاریخ ساز دن منا رہی ہے۔

زلزلوں کی نہ دسترس پہنچے

اے وطن تیری استقامت تک

ہم پہ گزریں چاہے ہزار قیامتیں

تو سلامت رہے قیامت تک


ای پیپر