بھارت میں مودی دوبارہ الیکشن جیت گئے
27 May 2019 2019-05-27

جیساکہ امید تھی مودی دوبارہ لوک سبھا کا الیکشن جیت کر بھارت کے دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں گے۔ان کا شمار اب نہرو اور اندرا گاندھی کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی بھارت کے دو دفعہ لگاتار وزیر اعظم بنے تھے۔

لیکن جتنی بھاری اکثریت مودی کو ملی ہے اس کی توقع نہیں کی جاتی تھی۔اس دفعہ تو بی جے پی نے ہر ریاست میں اپنا لوہا منوا لیا ہے حتیٰ کہ راہول گاندھی کو اس کے خاندنی حلقہ میں ہرا دیا ہے ۔اسی طرح بی جے پی نے کمونسٹوں کو بھی بہت بری شکست دی ۔ مغربی بنگال میں بھی پہلے سے زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں۔

مودی صاحب سیاست میں کوئی نئے وارد نہیں ہوئے وہ کئی سال تک گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے اور اپنے دور اقتدار میں وہاں اقتصادی ترقی کے جھنڈے گاڑ دئے ۔اب وہ 2014سے بھارت کے وزیر اعظم ہیں لہذا ان کی شخصیت، کردار، ماضی اور سیاسی وابستگی کے بارے میں کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے ۔ان کی اچھائیاں،برائیاں، کمزور اور مضبوط پہلو سب پر عیاں ہیں۔وہ یقینناً بھارت کے ہندو انتہا پسند تنظیم کے ورکر تھے جن کو RSSنے ایک آدمی یا ’چائے والا‘ کی تربیت کرکے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا وزیر اعظم بنا دیا۔ان کا ’ہندو یائی فلسفہ ‘کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ مودی نے بھی اپنے سرپرستوں کو مایوس نہیں کیا اور اپنے عمل سے یہ بات ثابت کی کہ وہ اس بات کے اہل تھے اور پھر اپنے کردار اور عمل سے وہ آج بھارت کی سب سے مقبول شخصیت بن چکے ہیں۔پچھلے پانچ سالوں میں بھارت نے اقتصادی ترقی کی رفتار میں کمی نہیں آنے دی۔انہوں نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی بھی کوشش کی (گو پاکستان کے زمرے میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے)۔

کانگرس کا یہ خیال تھا کہ اس طرح ہندوستان میں مذہب کی بنیاد پر فرقہ واریت،دنگا فساد اور قتل عام رک جائے گا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا اور آج بھی دونوں ملکوں میں مذہبی اقلیتوں کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو کہ ہونے چاہیں تھے۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکا ؟ چند سال پہلے میں دنیا کی ایک بہت ہی معتبر مورخ محترمہ رومیلہ تھاپر(جنہوں نے چھ سو دانشوروں کے ساتھ مل کر مودی کے خلاف بیان دیا) سے ملنے گیا تو میں نے ان سے استفسار کیا کہ بھارت میں بی جے پی(RSS)کی حکومت کی آپ کیا توجیہ پیش کرتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ 1947میں متحدہ ہندوستان میں تین سیاسی قوتیں ،کانگرس (سیکولر)مسلم لیگ اورRSS (ہندو انتہا پسند)اقتدار کی دعویٰ دار تھیں۔کانگرس، مسلم لیگ کو نہ روک سکی اور اسلام کے نام پر پاکستان معرض وجود میںآگیا مگر کانگرس نے بھارت میں RSS(ہندو انتہا پسند)کو اقتدار میں نہیں آنے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کانگرس حقیقی سیکولر ازم کو معتارف نہ کروا سکی۔سیکولر کے صرف یہ معنیٰ نہیں ہیں کہ ریاست کا کوئی مذہب نہ ہو بلکہ سیکولر ازم کے معنی ہیں کہ ہر شعبہ زندگی میں مذہب کا کوئی امن دخل نہ ہو لہذا ہم دیکھتے ہیں سماجی سطح پر کانگرس سکولرازم کا اطلاق نہ کر سکی اور آہستہ آہستہ ہندو انتہا پسند کانگرس کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ہر شعبہ زندگی میں داخل ہو گئے ۔ کانگرس اور دوسری سیکولر جماعتو ں کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر بی جے پی اقتدار میں آگئی۔پہلے اس نے کانگرس مخالف متحدہ محاذ میں شمولیت اختیار کر کے اپنے لئے ایک مقام بنایا اور پھر یہ بذات خود بر سر اقتدار آگئی۔بے جے پی اس لحاظ سے خوش قسمت تھی کہ اس کو باجپائی جیسا لیڈر مل گیا۔اس دفعہ ہندوستانی لوک سبھا میں 52 خواتین براہ راست الیکشن لڑ کر آئیں ہیں جو کہ ہندوستان کی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد ہے۔وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے کہا تھا کہ اگر بی جے پی کامیاب ہو گئی تو اس سے امن کے مذاکرات کرنے میں آسانی ہو گی ۔ ہم نے دیکھا کہ جس دن ہندوستان کے عام انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونا تھا اسی دن پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ششما سوراج کی ملاقات ہوئی اور ششما سوراج نے قریشی صاحب کو مٹھائی پیش کی۔ایک طرف بھارت ہے جہاں پر ایک سیاسی جمہوری نظام کا تسلسل ہے ، ہر پانچ سال بعد الیکشن ہوتے ہیں اور عوام اپنے حکمران خود چنتے ہیں۔دوسری طرف پاکستان میں سیاسی خلفشار ہے ۔نواز شریف جیل میں ہے ، زرداری روز مقدمات کا سامنا کر رہا ہے۔عمران خان ماضی کے سب حکمرانوں کو کرپٹ کہتا ہے ۔عید کے بعد اپوزیشن حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا سوچ رہی ہے۔ایسے حالات میں کیا ہم بھار ت سے جو کچھ نواز۔باچبائی اور جنرل مشرف۔من موہن ۔سے منوا سکے تھے ان سے بہتر شرائط حاصل کر سکیں گیں؟یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ ہم نے نوجوان بلاول سے یہ نعرہ بھی لگوایا تھا ’جو مودی کا یار ہے غدار ہے۔‘بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ پلوامہ کے واقعہ نے مودی کی اس سطح پر الیکشن میں کامیابی میں مدد کی ۔ میں نے ایک بہت بڑے سرمایہ دار سے پوچھا کہ آپ بھارت سے تجارت کے کیوں خلاف ہیں تو اس نے جواب دیا کہ بھارت ہمیں اقتصادی میدان میں کھا جائے گا۔ بھارت سے امن مذاکرات کرنے کے لئے ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ بھارت سے بہتر جمہوریت لانے ہوگی اور اقتصادی میدان میں بھارت کو پیچھے چھوڑنا ہوگا کیا یہ ممکن ہے؟یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ سیکولر قوتیں بھارت میں منظم نہیں ہیں اور ان کے پاس کو لیڈر بھی نہیں ہے۔اس کے علاوہ ہندستان کے شہریوں نے بہت دفعہ اور ایک لمبے عرصے تک سیکولر سیاسی جماعتوں کو بھارت پر حکومت کرنے کا موقعہ دیا مگر اب وہ عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں اور بھارتی عوام نے نریندر مودی اور ان کے اتحادیوں کو ووٹ دے کر مزید پانچ سال کے لئے حکومت کا مینڈیٹ دے دیا ہے۔ مودی نے الیکشن کے بعد اپنی پہلی تقریر میں 1857میں مسلمانوں اور ہندوں کے اتحاد کی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پہلی دفعہ بات کی ہے ۔جو کہ بہت خوش آئند بات ہے مگر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ محظ کھوکھلا اور دکھاوے کا نعرہ ہے۔ اب مودی 30مئی کو بھارت کے وزیر اعظم کا حلف اٹھائیں گے( مودی نے نواز شریف کو اپنی حلف وفاداری کی تقریب میں بلایا تھا اور وہ گئے ۔ مودی لاہور بھی آئے)۔۔عمران خان نے مودی کو فون پر مبارک باد دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ عمران کو حلف وفاداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دیدتے ہیں اور عمران خان اس میں جاتے ہیں ؟آنے والوں دنوں میں پاکستان اور بھارت میں تناو کم ہوگا؟


ای پیپر