ریاست مدینہ صرف 2 ماہ دور
27 May 2019 2019-05-27

اسلام آباد کے کوفے میں محنت کش کی 10 سالہ بیٹی فرشتہ کے ساتھ ہونے والے سانحہ نے درندگی کو مات دے دی۔ میڈیا نے خوب توجہ دلائی کچھ دنوں بعد جناب آرمی چیف، وزیراعظم و دیگر اکابرین مملکت نے بھی نوٹس لے لیا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ درندے اپنے انجام کو ضرور پہنچیں گے۔ ہمارے ہاں اقدامات کا عمومی طور پر یہ اندازہے کہ اگر ضلع کچہری میں کوئی ملزم ہتھ کڑیوں میں قتل ہوا تو گھنٹے بعد چاروں طرف ناکے لگ جاتے۔ یہی حالت دیگر جرائم کی ہے۔ واردات ہو جانے کے بعد اقدامات ہوتے رہے۔ پرانی بات ہے ایک درندے نصیر نے ایک لڑکی کی میت قبر کشائی کر کے زیادتی کی پھر مردوں کو قبروں سے نکال کر کھانے والے بھی ہماری تاریخ چھوٹی سی 20، 25 سالہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ وکلاء کو زندہ جلانا، مخالفین کو قتل کر کے لاشوں پر بھنگڑے ڈالنا۔ مجھے یاد ہے کہ جب بجلی عروج پر تھی لائٹ آنے پر موبائل پہلے چارج کرنے کے تنازع پر بھائی نے بھائی کو مار ڈالا۔ باپ کی میت سے انگوٹھے کاٹ کر جائیداد کے کاغذات پر لگا نے کے لیے رکھنے والے بیٹے بھی دیکھے ۔ دنیا میں بہت ظلم ہے لیکن سورج اور چاند نے جو ظلم منافقت ، عیاری، انسانی شکلوں میں درندگی ہماری سر زمین پر دیکھی ، ہم وطنوں اور ہم نسلوں ہم مذہبوں کے ساتھ کسی اور خطے پر نہ دیکھی ہو گی۔ ریاست مدینہ کے دعویداروں کی خدمت میں عرض ہے یہ ریاست مدینہ کہیں ایسی تو نہیں جیسے مدینہ ریسٹورنٹ اورمردہ مرغے پکتے ہوں۔ مدینہ بک سٹورPiracy Books مہنگے داموں بکتی ہوں، مدینہ شادی ہال، مدینہ میڈیکل سٹور اور جعلی ادویات اسی طرح ریاست مدینہ مگر ایسی ویرانی ایسا قحط الحق کہ جس کی مثال نہ ملے۔ اللہ کی نعمتیں بھری پڑی ہیں مگر انسانوں کی پہنچ سے دور ہیں۔ یہی عذاب ہے اور یہ تھر سے زیادہ بدتر صورت حال ہے۔

حضرت عمرؓ کا دور ہے۔ رات کو مدینہ میں گھوڑے پر گشت ہے ایک تنہا خاتون پیدل جا رہی ہے۔ امیر المومنین نے سوچا کہ اس کاکیا مسئلہ ہو گا کہیں کسی مسئلے سے دو چار نہ ہو استفسار کیا آپ کا کوئی مسئلہ آپ کی کوئی مشکل تو نہیں؟ اس عورت نے جواب میں کہا عمر مر گیا ہے کیا ؟ امیر المومنین فرمایا کہ نہیں ۔۔تو عورت نے پھر کہا آپ کون ہوتے ہیں پھر اپنی راہ لیں وہ مسائل پوچھنے کو کافی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا کہ دریا کے کنارے کتا بھی پیاسا مر گیا تو قیامت کے روز میں ذمہ دار ہوں گا۔ اللہ اللہ! انسان تو انسان حاکم پر جانوروں اور دیگر مخلوقات کی بھی ذمہ داری ہوا کرتی ہے جبھی تو میرے آقا کریمؐ نے لشکر کی روانگی کے وقت نصیحت فرمائی کہ سر سبز درخت نہ کاٹنا، فتح مکہ کے راستے میں اپنے عظیم لشکر کو سینکڑوں گز راستہ بدل دیا کہ آگے کتیا نے بچے دیئے ہوئے تھے کہ وہ تکلیف نہ اٹھائے۔ ان گنت مثالیں جو دینا تو نہیں چاہئیں مگر دعوے کا جواب دعویٰ ہوتا ہے۔ اس لیے ریاست مدینہ کی ایک آدھ بات لکھ دی۔ یہ لکھنا مناسب نہیں مگر وضاحت کر دوں کہ میں نے کبھی بھی میاں صاحبان کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا مگر میں سمجھتا ہوں جب ملک میں ایک ہی ملک میں کراچی جیسے شہر میں کوئی شخص قیمتی شرٹ نہیں پہن سکتا تھا۔ کوئی بڑی گاڑی نہیں رکھ سکتا تھا۔ جرائم، بھتہ خوری، انسان سوزی عروج پر تھی مگر ہم پنجاب میں بہت تحفظ محسوس کرتے تھے۔ آج سیف سیٹی اور کیمروں کی تنصیب کی وجہ سے جرائم پر قدرے گرفت ہے۔ 99 ء کی بات ہے فیملی کے ساتھ آبائی شہر گوجرانوالہ گیا ہوا تھا میرے گھر ڈکیتی ہوگئی۔ اگلے روز میرے بڑے بھائی گلزار بھائی نے پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے کسی ذریعے سے وقت لیا۔ ہم صبح 8 بجے اُن کے دفتر پہنچے۔ شہباز شریف کا پی اے ہمارے پاس آیا کہ آپ نے وزیراعلیٰ سے وقت لیا ہے اگر آپ اپنا مسئلہ بتا دیں تو ہم انہیں بریف کر دیں ہم نے بتایا کہ ڈکیتی ہوئی ہے اور ہم داد رسی کے لیے آئے ہیں۔ اس نے کہا کہ ابھی فائل باہر آ رہی ہے وہ دیکھ لیں اس کے بعد پھر آپ اُن کے پاس چلے جائیے گا۔ وہ فائل ایک رجسٹر تھا جس پر مختلف خبروں کے تراشے اور ان میں میرے گھر ڈکیتی کی خبر تھی۔ پنجاب میں موجود شہباز شریف بزدار صاحب، شہباز گل ، چوہدری پرویز الٰہی ، گورنر چوہدری سرور، جہانگیر ترین صاحبان وہ خبر سبز رنگ کے مارکر سے سرکل کی ہوئی اور ایس پی ماڈل ٹاؤن ایس پی ٹاؤن شپ کی ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی اس ہدایت کے ساتھ کے 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کر دی جائے اور 17 ویں دن داد رسی ہو چکی تھی۔ ریاست مدینہ تو بہت دور کی بات ہے۔ حکومت کرنا آسان کام ہے کہنے والو انتظامی اعتبار سے شہباز شریف کا دور ہی دہرا دو۔ روز قیامت حکمرانوں کے ہاتھ کھڑے ہوں گے۔ یہ حکمرانوں کی نشانی ہو گی ہاتھ نیچے نہیں آئیں گے جب تک حکمرانی کا حساب نہ ہو گا۔مجھے یاد ہے 2012ء میں احقر کو عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ میرے ایجنٹ نے مکہ میں حرم کے قریب ایک تکونی چٹیل سی جگہ دکھائی میں نے پوچھا یہ کون سی جگہ ہے، دل کو ویران کیے دے رہی ہے۔ اس نے بتایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں کفار اپنی بیٹیوں کو دفن کیا کرتے تھے۔ اف میرے خدایا! میری چشم تصور میں وہ سب مناظر گھوم گئے جن کو پڑھا ہوا تھا اور صحابہ کی وہ محفل بھی جس میں ایک صحابی دور جاہلیت میں اپنی بیٹی کو زندہ دفن کرنے کے واقعے کو سناتا جا رہے تھے اور روتے جا رہے ۔ صحابہ بھی رو رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ اگر یہاں پر مدفو ن بچیاں سرکار کریم ؐکے تشریف لانے کے بعد پیدا ہوئی ہوتیں تو بچ جاتیں۔ بس ایسا سوال ابھرا مگر اب تو میرے آقا ؐکے ہم امتی ٹھہرے اور اسلام کے قلعے میں ’’محفوظ‘‘ ہیں۔ جہاں پولیس والوں کو فون کرو تو پتہ چلتاکہ مساجد، دربار، امام بارگاہوں کے باہر تعینات ہیں۔ وطن عزیز کی معروف شاعرہ محترمہ ناز بٹ فرشتہ کے اس دکھ کو اپنی روح سے محسوس کرتے ہوئے اپنی نظم ’’فرشتے مت اُتارا کر زمین پر‘‘ میں نوحہ کُناں ہیں۔۔۔نظم کیا ہے ۔۔۔جانسوز اظہاریہ ہے ۔۔۔ہر لفظ گریہ ۔۔۔ہر سطر ماتم ! ’’فرشتے مت اُتارا کر زمین پر‘‘

خدایا…!! کیوں اُتارا تھا مجھے ایسی زمیں پر …

جہاں وحشی دَرندے گھات میں بیٹھے ہوئے تھے…

مرے سائے سے لپٹے جانور میرے بدن کو نوچنے کے منتظر تھے…!

مجھے کیوں تو نے خون آشام جنگلی بھیڑیوں کے پاؤں میں روندا؟؟؟

تو ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے… ترا دعویٰ ہے اور میرا یقیں بھی…

بتا پھر میری چیخیں آسماں تک کیوں نہیں پہنچیں۔۔۔؟؟

خدایا کیوں زمیں چپ تھی…؟؟؟

اگر مٹی ہی قسمت تھی تو پھر اس دور میں پیدا کیا ہوتا کہ دھرتی پر جنم لیتے ہی اپنے باپ کے ہاتھوں، اِسی تیری زمیں میں دفن ہو جاتی…!

میں ان کتوں سے بچ جاتی…!!

میں ان کتوں سے بچ جاتی…!!

’’وزیراعظم‘‘ کا دعویٰ ہے کہ 2 ماہ مشکل ہیں گویا ریاست مدینہ 2 ماہ دور ۔۔۔


ای پیپر