لوگ وہی جہاں میں اچھے
27 May 2019 2019-05-27

جو لوگ انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں وہ عظیم ہیں کیونکہ اس وقت جب نفسا نفسی کا عالم ہے اور انسانی اقدار لمحہ یہ لمحہ شکست و ریخت کے عمل سے دو چار ہیں تو ایسے میں وہ دوسروں کے دکھوں میں شریک ہیں۔ان سے بہتے آنسو دیکھے نہیں جاتے۔ لہٰذا آگے بڑھ کر وہ انہیں پونچھ رہے ہیں۔ زندگی کا مقصد ہے ہی یہی کہ انسان ، انسان کے ساتھ بہتر برتائو کرے۔ اسے مصائب و آلام سے نجات دلائے۔ جہاں ایسی سوچ و فکر نہ ہو وہاں انسانی حیات تڑپ رہی ہوتی ہے اسے آہیں اور سسکیاں اپنے حصار میں لے لیتی ہیں۔ اس صورت میں ذہنوں میں نفرتوں ، کدورتوں اور عداوتوں کی آندھیاں چلنے لگتی ہیں۔ پھر پورا معاشرہ لرز لرز جاتا ہے۔!

صد شکر کہ ابھی انسان باقی ہیں۔ جن کے دلوں میں انسانوں سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور وہ انسانیت کو تڑپتا بلکتا اور سسکتا ہو ا نہیں دیکھنا چاہتے ۔ انہیں جینا ہے تو اپنے ہم نفسوں کے لیے ، انہیں ان مشکلات کو دور کرنا ہے جنہوں نے چہروں پر خزاں ایسی زردی پھیلا دی ہے اور ان کی رگوں میں خون کی حرکت تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ ابھی انسانیت زندہ ہے اس نے غموں کی آنچ سے رخ نہیں موڑا ، تو پھر کیوں نہ اسے سلام کیا جائے اس کے لیے لفظوں کی پھلواڑی مہکائی جائے۔!جی ہاں! انسانی خدمت میں پیش پیش ایک تنظیم ’’ المصطفیٰ‘‘ جو بین الاقوامی سطح پر متحرک ہے اس کی مستحق ہے اس کے سر پرست اور بانی عزت مآب الحاج محمد حنیف طیب ہیں وہ وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

یہ تنظیم دو ہزار چھے میں برطانیہ میں قیام عمل میں آئی اس کے سر براہ جناب عبد الرزاق ساجد ہیں۔ جو دنیا بھر میں خدمت انسانی کے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ انہیں دوسروں کے دُکھ بانٹ کر بے پناہ سکون قلب میسر آتا ہے ۔ میرے مخلص دوست نواز کھرل جو اس سے منسلک ہیں بتا رہے تھے کہ اس رفاہی تنظیم کے پلیٹ فارم سے اب تک اٹھاسی ہزار آپریشن کیے جا چکے ہیں دو ہزار بیس تک اس نے ایک لاکھ آپریشن مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے یہ تنظیم ایک برس میں دوبار مفت آنکھوں کے کیمپوں کی مہم چلاتی ہے جس میں پاکستان ، بنگلہ دیش گیمبیا، کینیا سمیت مختلف ممالک کے پسماندہ اور غریب علاقوں میں فری آئی کیمپ لگائے جاتے ہیں۔یوں یہ ’’روشنی سب کے لیے ‘‘ کے مشن کے تحت اندھے پن کے خلاف جہاد کر رہی ہے ۔ لاہور میں بھی ایک ہسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ ایمبولینس سروس بھی یہاں کے شہریوں کو مہیا کی جا رہی ہے۔

روہنگیا کے بے گھر مسلمانوں کی امداد بھی کی جا رہی ہے ۔ وہاں کی بری فوج نے ان کے گھر جلا دیے ہیں۔ فصلیں اجاڑ دی گئی ہیں، اور ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیاگیا ہے ۔ جو اپنی جانیں بچا سکے وہ بنگلہ دیش میں پناہ گزیں ہو گئے ان کی تعداد آٹھ لاکھ بتائی جاتی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی برما سے بنگلہ دیش ہجرت کے بعد برطانیہ سے امداد لے کر وہاں پہنچنے والی پہلے رفاہی و فلاحی تنظیم المصطفیٰ تھی اس نے ہجرت کرنے والوں میں ادویات خیمے، کپڑے، نقد رقوم، جرسیاں ، اور دوسرا سامان تقسیم کیا ہے۔صاف پینے کے پانی کی بھی فراہمی کے لیے ہزاروں ہینڈ پمپس نصب کیے جا چکے ہیں۔!

ملائیشیا کے زلزلہ اور سونامی کے بعد المصطفیٰ کی ٹیم طویل سفر طے کر کے وہاں پہنچی اور متاثرین میں ایک ہفتہ مقیم رہ کر کھانا، کمبل خیمے وغیرہ تقسیم کیے گئے ابھی تک بھی المصطفیٰ کے رضار وہاں موجود ہیں۔ اس طرح شامی مہاجرین جو کئی ممالک میں پناہ گزیں ہیں ادھر جا کر یہ اپنا فرض پورا کر رہی ہے۔ ترکی اور فرانس کے بارڈر پر مجموعی طور پر پچیس ہزار خاندانوں کو فوڈ بیگ دے چکی ہے۔ ہنگری اور آسٹریا میں بھی اشیائے ضروریہ تقسیم کرچکی ہیں۔

نواز کھرل نے یہ بھی بتایا کہ المصطفیٰ پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والوں کے لیے صاف پینے کے پانی کا پروجیکٹ بھی کئی برسوں سے چلا رہی ہے۔

کراچی کے اندر بھی وہ اپنی خدمات پیش کر رہی ہے ۔ اس کا ایک بڑا ہسپتال المصطفیٰ میڈیکل سنٹر کے نام سے گلشن اقبال میں موجود ہے جس میں دل ، گردے، شوگر، ہیپا ٹائٹس ، تھیلسیمیا آئی سمیت تمام امراض کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔! یتیموں کی کفالت بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ دو ہزار پانچ میں یتیم ہو جانے والے تین سو بچوں کی کفالت کی گئی۔ اسلام آباد میں باقاعدہ رہائش کا بندو بست کیا گیا اور تمام ضرورتیں پوری کی گئیں۔ اب وہ بچے با روزگار ہیں۔ ’’میرا گھر ‘‘ جو کورنگی میں واقع ہے میں یتیم بچوں کو رکھا گیا ہے ان کے لیے تعلیم ، خوراک، اور لباس کا مکمل انتظام کیا گیا ہے ۔ اور لٹر ہومز بنائے گئے ہیں ۔ اجتماعی شادیوں کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔مصنوعی اعضاء اور طبی آلات کی فراہمی بھی غریب ملکوں کو جاری ہے۔ ابھی بہت کچھ ہے بتانے کو ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ المصطفیٰ جو ایک رفاہی فلاہی تنظیم ہے اسے کیا حاصل کہ وہ ملکوں ملکوں شہر شہر اور قربہ قربہ مصروف عمل ہے اس کا جواب ہے مفلوک الحالوں کی دعائیں لینا کہ اس سے انہیں وہ راحت ملتی ہے جو کسی کھرب پتی کو بھی میسر نہیں آتی کہ وہ صرف اپنی ذات پر خرچ کرتا ہے۔ اللہ کے نزدیک وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس کی مخلوق کی پریشانیوں کو اپنا سمجھتے ہیں انہیں محسوس کرتے ہیں اور پھر ان کو دور کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آج اکثر پیسے والے اپنی دولت میں اضافہ کرتے چلے جا رہے ہیں اور نہیں سوچتے کہ ان کے کام وہی کچھ آنا ہے جو انہوں نے انسانیت کے لیے کیا۔ لہٰذا المصطفیٰ سے جتنے افراد وابستہ ہیں وہ بے حد و حساب عزت و تکریم کے لائق ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو غریبوں کے دلوں میں بستے ہیں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب کسی کی فلاح و بہبود مقصود ہو تو اس کے لیے با اختیار ہونا ضروری نہیں کوئی بڑا عہدہ بھی نہیں چاہیے ہوتا مگر یہاں تو خدمت کے لیے اختیارات کے حصول کو لازمی تصور کیا جاتا ہے اور اس کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔ اس کے با وجود مطلوبہ نتائج بر آمد نہیں ہوتے کیوں؟ کیونکہ خلوص و جذبے کا فقدان ہوتا ہے مگر ایسے لوگوں میں نہیں جو زندگی کے فلسفے سے آشنا ہو چکے ہوں اور اپنے لیے نہیں دیگر ہم نفسوں کے لیے جینا چاہتے ہوں لہٰذا المصطفیٰ جس کی کارکردگی انتہائی اطمینان بخش ہے اور اس سے متعلق نواز کھرل کی آگاہی مہم کا آغاز قابل تحسین ہے۔ ایسے فکری لوگ اب خال خال دکھائی دیتے ہیں جنہیں ہر گھڑی دوسروں بارے سوچنا ہے کس کس کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے کسے دلاسہ دینا ہے اور کون ہے جو ان کی مددو تعاون کا طلب گار ہے کا معلوم کر کے اس تک پہنچنا ہے یقینا یہ بڑے ہیں ان کو میرا سلام!

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے


ای پیپر