اعلیٰ تعلےم ۔۔۔۔مسئلہ معےار اور مقدار کا ۔۔۔!
27 May 2019 2019-05-27

ہمارے ہاں معےار تعلےم کا معاملہ بے حد اہم بھی ہے اور توجہ طلب بھی۔ اس ضمن مےں آئے روز کوئی نہ کوئی قصہ سننے کو ملتا رہتا ہے۔ چند دن پہلے ےہ خبر پڑھنے کو ملی کہ ہائر اےجوکےشن کمےشن آف پاکستان نے جامعہ پنجاب کے اےم۔فل اور پی۔اےچ۔ڈی کے درجنوں پروگرام بند کر دئےے ہےں۔ اور جامعہ کو ان شعبہ جات مےں مزےد داخلوں سے روک دےا ہے۔ ہائر اےجوکےشن کمےشن ، پولےس کی کوئی چھاپہ مار ٹےم نہےں ہے۔ نہ ہی کوئی فوڈ اتھارٹی کہ فوری طور پر مضر صحت کھانے کی دکانےں بند کرتی پھرے۔ کمےشن مےں ملک بھر کے چنےدہ اعلیٰ تعلےم ےافتہ افراد براجمان ہےں۔ اےک طرف تو کمےشن نئے تعلےمی ادارے بنانے اور جامعات مےں نئے شعبہ جات متعارف کروانے پر زور دےتا ہے۔ دوسری طرف ےکاےک درجنوں پروگراموں کی فوری بندش؟۔سو اس خبر پر تشوےش لازم تھی۔ تحقےق کی تو معلوم ہوا کہ خبر جزوی طور پر درست سہی۔ حقائق مگر ےکسر مختلف ہےں۔

اےک تو ےہ کہ پنجاب ےونےورسٹی کے علاوہ ، کچھ دےگر جامعات کے حوالے سے بھی کمےٹی نے اپنی رپورٹ دی ہے۔ تاہم صحافتی توجہ کا مرکز فقط جامعہ پنجاب ٹھہری۔ اےچ۔ای۔سی حکام سے بات ہوئی۔ کہنا ان کا ےہ تھا کہ ےہ جائزہ رپورٹ ہرگز کوئی حکمنامہ نہےں ہے۔ نہ ہی ہداےت نامہ۔ ےہ محض مشاہدات (observations) ہےں۔ پتہ ےہ چلا کہ کمےشن باقاعدگی سے اےسی رپورٹےں مختلف جامعات کو بھجواتا رہتا ہے۔ متعلقہ ےونےورسٹی کو استحقاق حاصل ہوتا ہے کہ وہ رپورٹ کے مندرجات سے اتفاق کرئے۔ ان پر تنقےد کرے۔ ےا انہےں مسترد کر دے۔ ےونےورسٹی کے جواب کے بعد ( اور اسکی روشنی مےں) کمےشن کوئی فےصلہ کرتا ہے ۔لہٰذا اس ابتدائی رپورٹ سے کوئی حتمی نتےجہ اخذ کر لےنا قطعا درست بات نہےں ۔

جامعہ پنجاب کے وائس چانسلرڈاکٹر نےاز احمد کا موقف ےہ ہے کہ وہ خود احتسابی پر ےقےن رکھتے ہےں۔ پنجاب ےونےورسٹی مےں عہدہ سنبھالنے کے بعد جو معاملات انکی اولےن ترجےح ٹھہرے، ان مےں سے اےک معےار تعلےم ہے۔ تمام شعبہ جات کی صورتحال کا جائزہ لےنے کے بعد انہےں اندازہ ہوا کہ صورتحال اصلاح احوال کی متقاضی ہے۔ لہٰذا فوری طور پر فےصلہ کےا گےا کہ جامعہ مےں مزےد داخلے روک دئےے جائےں۔ صرف ان شعبوں مےں نہےں ، جن کا ذکر کمےشن کی رپورٹ مےں ملتا ہے۔ بلکہ جامعہ کے تمام شعبہ جات مےں۔ بلاشبہ مالی لحاظ سے ےہ اےک مشکل فےصلہ تھا ۔2018 کے آخر تک ، ےہ فےصلہ اور اس پر عمل درآمد ہو چکا تھا۔ ےہی وجہ ہے کہ نہ تو داخلوں کے لئے اخبارات مےں اشتہارات شائع ہوئے اور نہ ہی (جنوری2019 مےں)نئے داخلے کےے گئے۔ ہائر اےجوکےشن کمےشن کی جائزہ ٹےم نے 2019 مےں ےونےورسٹی کا دورہ کےا۔ اور اس دورے کے کم و بےش دو ماہ بعد اپنی مرتب کردہ رپورٹ وائس چانسلر صاحبان کو بھجوائی۔

جہاں تک معےار تعلےم کا تعلق ہے تو اس مےں راتوں رات بہتری لانا ممکن نہےں ۔ اسکے لئے مستقل اور مسلسل جدوجہد درکار ہے۔ بہت سے دےگر عوامل اس معاملے سے جڑے ہوئے ہےں۔ مثال کے طور پر جائزہ ٹےم نے رپورٹ مےں نشاندہی کی ہے کہ پنجاب ےونےورسٹی نے کچھ اےسے اےم۔فل اور پی۔اےچ۔ڈی پروگرام شروع کر رکھے ہےں، جن کو پی۔اےچ۔ڈی اساتذہ کی مطلوب تعداد مےسر نہےں ۔ رپورٹ مےں طلباءاور اساتذہ کے تناسب(student-teacher ratio) کا بھی تذکرہ ہے۔ ےہ دونوں باتےں درست ہےں۔تاہم اس معاملے کا اےک اہم پہلو ےہ ہے کہ 2017 کے آغاز مےں کم وبےش چالےس سےنئر پروفےسر صاحبان کو بےک جنبش قلم ےونےورسٹی سے نکال دےا گےا تھا۔ ان اساتذہ کی خدمات جامعہ نے انکی رےٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر حاصل کر رکھی تھےں۔ (دنےا بھر مےں اےسا ہی ہوتا ہے)۔ ان مےں سے کچھ تو شعبہ تعلےم کی نامور شخصےات تھےں۔ 2018 مےں بھی پنجاب ہائر اےجوکےشن دےپارٹمنٹ کے ہداےت نامہ کی روشنی مےں اڑھائی سو سے زائد کنٹریکٹ اساتذہ کوفارغ کر دےا گےا۔ ان اساتذہ مےں تقرےبا 70 پی۔اےچ۔ڈی ڈگری ہولڈر تھے۔ لہٰذا ہائر اےجوکےشن کمےشن کی ٹےم نے بجا طور پر مطلوبہ تعداد مےں پی۔اےچ۔ڈی اساتذہ نہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ مگر اسکی ذمہ داری حکومتی پالےسیوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ تاہم بلاشبہ ان عوامل سے ہٹ کر بھی بہت سے معاملات مےں بہتری لانے کی گنجائش موجود ہے۔

اسی طرح تعلےمی بجٹ کا معاملہ بھی معےار تعلےم سے جڑا ہوتا ہے۔ اگرچہ مےرا ماننا ہے کہ کمرہ جماعت مےں استاد کی کارکردگی (جو براہ راست معےار تعلےم سے جڑی ہے) کا تعلےمی بجٹ سے کوئی واسطہ نہےں ہوتا۔ جو استاد محنت سے لےکچر کی تےاری کرتا ہے۔ وہ معےاری لےکچر دےتا ہے۔ تاہم ےہ حقےقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ استاد اور اسکی کارکردگی کو حکومتی پالےسےوں کےساتھ ساتھ ملک کے سےاسی، معاشی اور سماجی حالات سے علےحدہ نہےں کےا جا سکتا۔ اگر استاد کی تنخواہ کم ہو گی اور ملک مےں مہنگائی ذےادہ۔ تو لامحالہ وہ اضافی لےکچرز تلاش کرتا پھرے گا۔ اپنے ادارے مےں بھی اور دےگر تعلےمی اداروں مےں بھی۔ کام کے اضا فی بوجھ کے باعث اسکی کلاس روم پرفارمنس ےقےنا متاثر ہو گی۔اسی طرح جب اپنے اخراجات پورے کرنے کےلئے ےونےورسٹےاں اندھا دھند داخلے کرےں گی۔ اور استاد کو اےک وقت مےں ستر، اسی، طالب علموںپر مشتمل جماعت (بلکہ رےوڑ) کو پڑھانا پڑے گا۔ تب وہ طالب علموں کو انفرادی طور پر کتنی توجہ دے سکے گا؟ بالکل اسی طرح جب ےونےورسٹی استاد کی ترقی کو( اور اسکے علمی رتبے کو )تھوک کے حساب سے تحقےقی مقالہ جات لکھنے اور مقالہ جات کی نگرانی سے جوڑ دےا جائے گا ، تب وہ کلاس روم سے زےادہ انہی کاموں پر توجہ دے گا، جن سے اسکا ذاتی مفاد وابستہ ہے۔ مجھے ےاد ہے کہ ہائر اےجوکےشن کمےشن کے سابق چےئرمےن ڈاکٹر مختار احمد اس صورتحال کے حوالے سے فکرمند تھے۔ وہ تدرےسی اور تحقےقی رحجان کے مطابق اساتذہ کی الگ الگ درجہ بندی کے حوالے سے کچھ منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ معلوم نہےں کہ اب ےہ معاملہ کہےں زےر غور ہے بھی ےا نہےں۔نہاےت ضروری ہے کہ استاد کی تدرےسی، تحقےقی اور انتظامی ذمہ دارےوں مےں توازن لاےا جائے۔

ےقےن جانےے اگرہم تعلےمی درسگاہوں اور استاد کو وہ عزت و وقار دےنے لگےں، جسکے وہ مستحق ہےں ، تو معےار تعلےم پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ ےہ کےا کہ نےب کسی بھی استاد کو کان سے پکڑ کر دھر لے اور کوئی شنوائی نہ ہو (ڈاکٹر اکرم چوہدری کا معاملہ ہمارے سامنے ہے)۔ مےڈےا بھی ذرا سی لغزش پر تعلےمی اداروں کو لتاڑنے لگے۔ دےگرمتعلقہ ادارے اور حکام بھی جامعات کو کٹہرے مےں کھڑا کےے رکھےں۔ہاں مگر ےہ خصوصی سلوک صرف سرکاری اداروں کےساتھ خاص ہے۔ نجی ادارے عام طور پر جوابدہی سے مستثنیٰ ہوتے ہےں۔ ہمارے ہاں جعلی مےڈےکل کالج، غےر قانونی لاءکالج، اور ہائر اےجوکےشن کمےشن کی طرف سے بلےک لسٹ کئے گئے تعلےمی ادارے کھلے عام کام کرتے ہےں۔ دھڑلے (بلکہ ڈھٹائی) سے اخبارات مےں اشتہارات دےتے ہےں۔ کسی کی مجال نہےں کہ ان اداروں کا نام لے کر کوئی خبر چھاپ دی جائے۔ اےسی مثالےںموجود ہےں کہ وزےر، مشےر اور گورنر صاحبان(صوبے کی تمام جامعات کے چانسلر ) ان تعلےمی اداروں کے کانووکےشن اور دےگر تقرےبات مےں شرکت کرتے رہے ہےں۔ کسی کو آج تک جرا¿ت نہےں ہوئی کہ پوچھا جائے کہ اےک غےر قانونی تعلےمی ادارے مےں اعلیٰ حکومتی عہدے دار کے جانے کا کےا جواز ہے؟ ۔

اےچ۔ای۔سی سے دست بستہ درخواست ہے کہ اپنا رخ نجی تعلےمی اداروں کی طرف بھی مرکوزکرے۔ بہت سے نجی تعلےمی ادارے ڈگری بےچنے والی دکانوں کے طور پر مشہورہےں۔ تاہم اس گرفت کا مقصد کسی ادارے ےا شعبہ کو بند کروانا نہےں ہونا چاہےے۔ اگر student-teacher ratio قواعد کے مطابق نہےں ہے، تو داخلے روک کرطالب علموں کی تعداد کو کم کرنے کے بجائے، اساتذہ کی تعداد بڑھانی چاہےے۔ کسی شعبہ مےں اگر مطلوبہ تعداد مےں پی۔اےچ ۔ڈی اساتذہ موجود نہےں تو شعبہ بند کرنے کے بجائے،مزےد استاد بھرتی ہونے چاہئیں۔ تعلےمی ادارے کا معےار تعلےم ناقص ہے تو ان کا معےار بہتر کروانے کےلئے ضروری اقدامات ہونے چاہئیں۔دراصل معےار تعلےم مےں بہتری کا معاملہ توجہ بھی مانگتا ہے اور وسائل بھی۔ حکومت ، ہائر اےجوکےشن کمےشن اور جامعات کے سربراہان اور اساتذہ کو مل کر معےار تعلےم مےں بہتری کا بےڑا اٹھانا ہو گا۔ تب ہی اصلاح کی کوئی صورت نظر آئے گی۔ ورنہ ڈھلوان کا ےہ سفر جاری رہے گا۔


ای پیپر