ہر مرتبہ نیا سانحہ ہوتا ہے
27 May 2019 2019-05-27

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جاوید اقبال پر ایک خاتون طیبہ گل کی طرف سے لگائے گئے الزامات خطرناک، افسوسنا ک اور تشویشناک ہیں ۔ یہ الزامات احتساب کے پورے عمل کے سامنے سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں کیونکہ احتساب کے عمل میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری کا عمل چیئرمین نیب کے گرد گھومتا ہے اور اگر چیئرمین نیب پر یہ الزام لگا دیا جائے کہ وہ ذاتی خواہشات کے سامنے سرنڈر کر جاتے ہیں تو اس سے بہت خوفناک نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں لہٰذا اس ویڈیو سکینڈل کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانا اور چند بنیادی سوالوں کے جواب تلاش کرنا از حد ضروری ہے ۔

پہلا سوال پی ٹی آئی کے حامیوں کی طرف سے چیئرمین نیب کے دفاع کے دلائل سے نکلتا ہے کہ کیا یہ جناب جاوید اقبال کا ذاتی معاملہ ہے ۔ ہم انسانی نفسیات کا مطالعہ کریں تواس میں کسی بھی مرد کا کسی خاتون کی طرف راغب ہونا کوئی غیر معمولی عمل نہیں مگر یہ اس وقت غیر معمولی بن جاتا ہے جب اس کے لئے ریاست کے کسی بہت ہی بااختیار ادارے کی طاقت، دفاتر اور وسائل کا استعمال کیا جائے۔ ایک بااثر شخص کسی بُری عورت سے پیسہ خرچ کر کے اپنی ضرورت پوری کرلے تو اس کے بھی اپنے مضمرات ہیں مگر جہاں الزامات کے مطابق مقدمہ ہی اس لئے بنایا گیا ہو کہ کچھ مقاصد حاصل کئے جا سکیں تو یہ ذاتی معاملہ نہیں رہتا۔ یہ بالکل ایک غصیلے ایس ایچ او جیسا عمل نظر آتا ہے جب آپ الزام لگنے کے اگلے ہی روز ریفرنس دائر کردیں۔ یہ بات بھی حوالے کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے کہ جب جناب جاوید اقبال پر الزامات لگے تو ان کی وضاحت اور تردید بھی نیب کی طرف سے بطور ادارہ کی گئی حالانکہ بہت مناسب ہوتا کہ ان کا کوئی ذاتی ترجمان اس کی صفائی پیش کرتا کیونکہ اس عورت کے ناراض ہونے پر منانے کے لئے جس قسم کے الفاظ اور طریقے کا استعمال کرنے کا عندیہ دیا جا رہا تھا وہ ہرگز سرکاری نہیں تھا بلکہ میرے خیال میں تو ایک ریفرنس میں ملوث عورت سے احتساب کے سربراہ کے ادارے کو سرکاری ہی نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں بھی دور رہنا چاہئے تھا۔

اس خاتون کے بیان کے مطابق اسے اور اس کے خاوند کوایک بلیک میلر گروہ قرار دیا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ عورت اور اس کا شوہر اپنے کردار و افعال میںا یسے ہی ہوں مگریہ الزامات اس عورت سے جنسی تعلقات کو جائزیت عطا نہیں کرتے کہ اگر ایسا ہو تو اس ملک میں جتنی بھی عورتیں جتنے بھی مقدمات میں نامزد ہیں وہ متعلقہ ایس ایچ او، ایس پی سے آئی جی تک کی رکھیلیں ہوں، ہاں، یہاں دوسرا سوال اہم ہے جس کا ذکر وفاقی وزرا تک کر رہے ہیں کہ یہ ویڈیو جعلی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی دوسرے دفتر کو چیئرمین کا دفتردکھا کر اور کسی دوسرے مرد کو چیئرمین نیب کے طور پر ظاہر کر کے ریکارڈنگ کی گئی ہے تواس کی حقیقت تک ویڈیوز کے فرانزک آڈٹ کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے ۔

عورت کی رضامندی تیسری بہت بڑی دلیل ہے جس کی بنیاد پرمعاملے کو غیر اہم کہا جا رہا ہے اور یہ دلیل بھی ذاتی معاملے جیسی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ عورت رضامند تھی تو پھر وہ ویڈیوز کیوں بنا رہی تھی تو جہاں وہ اپنے دعوے میں سچی نظر آتی ہے کہ وہ چیئرمین نیب کو ایکسپوز کرنا چاہتی تھی وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک سازش کر رہی تھی اور عین ممکن ہے کہ اس نے خود پہلے چیئرمین نیب کو خود لبھایا ہو۔ سوال یہ ہے کہ یہ عورت اتنے اہم اور بااختیار عہدے پر بیٹھے ہوئے شخص کے خلاف سازش کیوں کر رہی تھی، کیا وہ یہ اتنا بڑا کام خود اپنے طور پر کر رہی تھی یا اس کے پیچھے کوئی گرو ہ تھا۔ا س حقیقت تک پہنچنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ کل کسی دوسرے عہدے پر بیٹھے ہوئے کسی بااختیار شخص کی ویڈیو آ سکتی ہے جیسا کہ معروف صحافی اور اینکر حامد میر کے حوالے سے یہ بات گردش کر رہی ہے کہ آپ عورت کے ساتھ تعلقات کی ویڈیو پر بات کر رہے ہیں، یہاں مرد کی مرد کے ساتھ ویڈیو موجود ہے ۔

چوتھا سوال ویڈیو کے مقاصد اور حکومت کی ساکھ کے حوالے سے ہے کہ یہ ویڈیو اس وقت لیک ہوئی جب چیئرمین نیب کے کے ایک مبینہ انٹرویو میں کہا گیا کہ ان کے پاس حکومتی وزرا ءاور اتحادیوں کے خلاف بھی ریفرنسز اور ثبوت موجود ہیںا ور وہ گرفتار ہو سکتے ہیں اوراس کے بعد وزیراعظم کے مشیرطاہر اے خان کے نیوز چینل سے اس ویڈیوسکینڈل کابریک ہونا شک ظاہر کر رہا ہے کہ اس میں حکومت براہ راست ملوث ہو سکتی ہے تاکہ موجودہ چیئرمین کو عہدے سے ہٹا کے اپنی مرضی کے سربراہ کے ساتھ مدت پوری کی جا سکے۔ سینئر صحافی نجم سیٹھی اس سکینڈل کے آنے سے پہلے ہی اس بارے انکشاف کر چکے ہیں لہٰذا دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے ۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس حوالے وزیراعظم عمران خان کو کھلے عام بلیک میلر کہہ کے پکارا ہے ۔ یہ تمام باتیںتاریخ کا حصہ بن رہی ہیں اور اگر حقائق تک نہ پہنچا گیا تو مو¿رخ انہیں ہی حقیقت کے طور پر لکھے گا۔

پانچواں سوال احتساب کے عمل کی شفافیت کا ہی نہیں بلکہ جناب چیئرمین کے اب تک اپنی پروفیشنل زندگی میں کئے گئے تمام فیصلوں کا ہے کہ اگر وہ اس بزرگانہ عمر میں بھی ایک عورت کی خاطر اپنے عہدے اور وقار کی پروا کئے بغیر یہ سب کچھ کر سکتے ہیں تو پھر جوانی میں کیا کچھ نہ کیا ہو گا جب طاقت بھی موجو د تھی۔پوری دنیا میں ویڈیو کی تردید نہیں ہوسکتی مگر ہم میں یہ’ اخلاقی جرا¿ت‘ موجود ہے کہ ہم اسے جھوٹ اور الزام کہہ سکتے ہیں۔اوپر بیان کی گئی تمام باتوں کے باوجود یہ کیسے ثابت ہوسکتا ہے کہ یہ عورت نہ صرف جھوٹ بول رہی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اثرات کی حامل ویڈیوز کی موجودگی کے بارے میں بلف کر رہی ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ تحقیقات ہیں۔ یہ تحقیقات ماہر تفتیش کاروں کو کرنی چاہئیں اور کم سے کم مقررہ مدت میں پوری کرنی چاہئیں اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ فی الوقت اس عورت اوراس کے خاوند کے خلاف تمام کارروائیاں روکتے ہوئے ریاستی اداروں کو مزید مقدمات کے اندراج سے بھی روکا جائے۔

میری نظر میں پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کو اس معاملے پر کردارادا کرنے کی اس لئے بھی زیادہ ضرورت ہے کہ اگر ہم نے اسے نظرانداز کرتے ہوئے روایتی اقدامات جاری رکھے تو اس خاتون کے ویڈیو بیان کے بعد یہ معاملہ اگر انسانی حقوق اور قانون کی عالمی تنظیموں نے اٹھا لیا توبڑی جگ ہنسائی ہو گی اور پاکستان کی عالمی برادری میں دوکوڑی کی بھی عزت نہیں رہے گی کیونکہ معاملہ صرف ایک خاتون کا نہیں جسے احتساب کے عمل کے ذریعے قابو کیا گیا بلکہ معاملہ ان ہزاروں افراد کا ہے جنہیں احتساب کے نام پر اٹھایا گیا اور جیلوںمیں ڈال دیا گیا۔ احتساب کے اسی عمل پرکسی بھی معاشرے کے سب سے باعزت افراد یعنی اساتذہ بھی شرمناک انکشافات کر چکے ہیں۔ہم اسی احتساب کے مشکوک عمل کے ذریعے ملک کے وزیراعظم کو اس کے عہدے سے ہٹانے کے بعد جیل بھیج چکے ہیں اور اس وقت بھی بہت سارے موجودہ وزیراحتساب کے ریڈار پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان پر رحم کرے کہ اسے ہر مرتبہ ایک نئے قسم کے سانحے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔


ای پیپر