پارلیمنٹ کو سلام

27 مئی 2018

طارق محمود چوہدری

دم رخصت آوٹ گوئنگ پارلیمنٹ تاریخ سا ز معرکہ جیت گئی۔قبائلی علاقہ جات کے عوام جن کو ستر سال سے غیر کا درجہ دیدیا گیا تھا۔وہ اپنے ہو گئے۔ ہمیشہ کیلئے۔ وہ فاصلے جو عشروں سے چھائی دو عملی،خود ساختہ بے عملی نے پیدا کر دیے تھے۔ وہ آن واحد میں مٹ گئے۔ آج سوموار کی گرم صبح تک کے پی اسمبلی قرار داد کی منظوری کے مشکل مرحلہ سے گزر گئی تو ماضی کے قبائلی علاقوں کے محروم عوام نئی صبح کا طلوع ہوتا سورج کھلی آنکھوں سے اپنے آنگنوں میں چمکتا دھمکتا دیکھیں گے۔ خدا نخواستہ اگر کے پی اسمبلی یہ قرار داد منظور نہ کر ا سکی تو ذمہ دار پی ٹی آئی کی قیادت ہو گی۔ جس کے پاس اب الوداع ہوتی صوبائی اسمبلی میں اکثریت نہیں۔ اسی لیے تو صوبائی حکومت بجٹ بھی منظور نہیں کرا سکی۔ شائد پارلیمانی تاریخ کی پہلی صوبائی اسمبلی ہو گی جو اپنے آخری سال میں بجٹ بھی پاس نہ کرا سکی۔ کے پی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 45ارکان تھے۔جو شائد اب بیس بھی نہیں رہے۔بہر حال اگر اتوار کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی آئینی ترمیم کے حق میں قرار داد منظور نہ کرا سکی تو یہ اہم ترین معاملہ عارضی طور پر کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ اگلی اسمبلی آتے ہی یہ ادھورا کام مکمل ہو جائے گا۔لیکن یہ محض اندازے ہیں۔ قومی اسمبلی سے منظوری ایوان بالا سے توثیق کے بعد صدر مملکت کے دستخط ہونے تک ایک آئینی تقاضہ ابھی باقی ہے۔ آئین پاکستان کہتا ہے کہ کسی صوبے کی جغرافیائی حدود میں کمی بیشی ہو کوئی ردوبدل ہو تو متعلقہ صوبہ کی منتخب اسمبلی اس تبدیلی کے حق میں دو تہائی اکثریت سے قرار داد پاس کر ے۔کے پی اسمبلی کی مدت ختم ہونے میں دو روز باقی ہیں۔آج جب یہ تحریر شائع ہو کر آپ تک پہنچے گی تو صوبائی اسمبلی کا آخری روز ہو گا۔ بہر حال کے پی کے اسمبلی کے ارکان کی تعداد 124 ہے۔ لہٰذا یہ قرار داد 83 ارکان کی تعداد سے منظور ہونا لازم ہے۔ مشکل کام ہے۔ لیکن ناممکن نہیں۔ خاص طور پر ایسی صورت میں جب محض نمبر ٹانکنے کیلئے 20 ارکان کو ووٹ بیچنے کے الزام میں دیس نکالا دیا جا چکا ہو۔ جے یو آئی (ف) کے پاس بہر حال اپنے ووٹ بنک کو متحرک کرنے کا اچھا موقع ہو گا۔ ان کا گھیراؤکا میاب ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اعتراض کرنے کیلئے کوئی دلیل یا بہانہ موجود نہیں۔کیونکہ وہ تو خود لشکر جرار کے ساتھ سالار اعلیٰ عمران خان کی قیادت میں پارلیمنٹ پر حملہ آور بھی ہو چکی۔اور ایک سو چھبیس روز کا دھرنا بھی دے چکی۔ اب جے یو آئی وہ جمہوری حق استعمال کر ے گی تو اعتراض کیسا۔ بہر حال عددی اکثریت کا معاملہ آڑے آیا تو یہ عارضی رکاوٹ ہو گی۔ جلد یا بدیر فاٹا کے عوام کو حقوق عملی طور پر ضرور ملیں گے۔ جس کی مخالفت صرف جے یو آئی (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے کی۔ ان دونوں جماعتوں کا موقف بہر حال غیر جمہوری تھا نہ غیر آئینی۔ مطالبہ ان کا تھا کہ صوبہ میں انضمام ہو یا نیا صوجے کا قیام۔ یہ فیصلہ فاٹا کی سات ایجنسیوں کے عوام خود کریں۔ یہ مطالبہ غیر عملی تو ہو سکتا ہے لیکن غیر جمہوری،غیر آئینی ہر گز نہیں۔ آج سوموار کی صبح تک سارا معاملہ نمٹ چکا ہو گا۔ امید ہے آج سے فاٹا کے عوام کیلئے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ جس کا کریڈٹ صرف اور صرف پارلیمنٹ کی اجتماعی دانش سیاسی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ (ن) کو جاتا ہے۔ جس نے یہ ناممکن کام ممکن کر دکھایا۔ ورنہ فاٹا کے عوام کو سبز باغ دکھانے والے
بہت تھے۔ لیکن محض دعوے، ارادے اور وعدے،منصوبے اور کاغذی کاروائیاں۔ ویسے تو تاریخ کے صفحات پر یہ بات ہمیشہ محفوظ رہے گی قومی زندگی میں تمام اہم ترین پیش رفت سیاسی ادوار میں ہوئی۔ 1973ء میں پہلے متفقہ آئین کی منظوری سے لیکر فاٹا کے انضمام تک وہ کون ساکام ہے جو جمہوری ادوار میں نہ ہواہو۔ایٹمی پروگرام کی داغ ببل ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں رکھی گئی۔ اور بالآخر 28 مئی 1998 کو نواز شریف نے پانچ ایٹمی دھماکے کر کے ناتواں ملک کے دفاع کو نا قابل تسخیر بنا دیا۔ میزائل ٹیکنا لوجی کے حصول کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی اور تکمیل بے نظیر بھٹو کے دور میں ہوئی۔ ضیاء الحق کے دور میں غیر جماعتی کٹھ پتلی اسمبلی کے ذریعے جمہوریت کش آٹھویں ترمیم منظور کرائی۔اس ترمیم کے ذریعے آنے والے دس سالوں میں چار مرتبہ منتخب جمہوری حکومتوں کے گلے پر چھری پھیری گئی۔ 1997ء کی اسمبلی میں پہلی مرتبہ دو تہائی اکثریت ملی تو پہلی فرصت میں اتفاق رائے سے اس ترمیم کا خاتمہ ہوا۔ 1973ء کے آئین میں بتدریج صوبائی خودمختاری کی ضمانت دی گئی تھی۔ لیکن غیر منتخب قابض حکمران حقوق پر قبضہ کر کے بیٹھے رہے۔ 2008ء میں منتخب ہوکر آئی پارلیمنٹ کی اجتماعی دانش نے یہ تاریخی کارنامہ بھی سر انجام دیا۔ طویل صلاح و مشورہ پیچیدہ آئینی پارلیمانی پیچیدگیوں سے گزر کر صوبوں کو ان کے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے حقوق ملے۔اب صوبے اپنے حقوق میں خود مختار ہیں۔ اسی آئینی خود مختاری کے نتیجے میں صوبہ پنجاب نے 3600 میگا واٹ بجلی پیدا کی جبکہ فیس بک،ٹوئٹر کی دنیا میں انقلاب لے آنے والے صوبے میں ایک میگا واٹ بجلی بھی پیدا نہ ہو سکی۔یہ اعزاز بھی پارلیمانی دور کو حاصل ہو اکہ آصف زرداری نے تمام صدارتی اختیارات منتخب پارلیمنٹ اور وزیر اعظم کو لوٹا دیے۔ پارلیمانی دور میں ہی انتقال اقتدار، نگران حکومت اہم تعیناتیوں کے فارمولے طے ہوئے پاکستان میں پانی کی تقسیم کا فارمولہ ہو یا محاصل کی تقسیم جب بھی کوئی پیش رفت ہوئی سہرا منتخب پارلیمنٹ کے سر پر ہی سجا۔پاکستان میں جب بھی مردم شماری ہوئی،جب بھی بلدیاتی انتخابات کے ذریعے عوامی حقوق منتخب نمائندوں کو ٹرانسفر کیے گئے۔ اعزاز صرف جمہوری حکومتوں کو حاصل ہوا۔ پاکستان بنا تو ایک صوبے کا نام شما ل مغربی سرحد ی صوبہ تھا۔نہایت بے سروپا غیر سنجیدہ اور تاریخی شعور سے محروم نام تھا۔ صوبے کے عوام نے طویل پارلیمانی جدو جہد کی۔ کنفیوزن کا شکار دانشوروں نے ان کی مخالفت کی۔ اس موضوع پر بات کرنے والوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دیے گئے۔نام کی تبدیلی کو پاکستان توڑنے کے مترادف قرار دیا گیا۔ 2008ء کی پارلیمنٹ نے پہل کی۔کریڈٹ پیپلز پارٹی کو جاتا ہے۔ آصف زرداری نے یہ فیصلہ کیا اور اس پر عمل درآمد کیا۔صوبے کے عوام کو شناخت مل گئی۔ پاکستان ٹوٹنے کی بجائے مزید مظبوط ہوا۔ وطن دشمنی اور غداری کی باتیں تحلیل ہو گئیں۔فاٹا کے عوام کے حقوق کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ صرف 25 سال قبل فاٹا کی سات ایجنسیوں کے عوام کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہ تھا۔ صرف منتخب عمائدین اور سرکاری خطاب یافتہ ملکوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل تھا۔1997ء میں پہلی مرتبہ نئے قوانین کے تحت فاٹا کے عوام کو بالغ حق رائے دہی ملا۔ عام آدمی کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوا۔ چند سالوں بعد سیاسی جماعتوں کو فاٹا میں انٹری ملی۔ ورنہ پہلے سیاسی جماعت کے نشان پر الیکشن نہیں لڑا جاسکتا تھا۔ اب وہاں سیاسی جماعتیں اپنے ٹکٹ جاری کرتی ہیں۔فاٹا کے عوام نے بے نظیر قربانیا ں دی ہیں۔ بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات کے تابع ماضی کے حکمرانوں نے قبائلی علاقہ جات کو یرغمال بنا کر رکھ دیا۔رشین افغان وار میں لڑنے کیلئے دنیا بھر سے بھگوڑے مفرور دہشت گرد ان علاقوں میں لا کر بسائے۔ عربی، مصری، تاجک، ازبک، بھانت بھانت کے لوگ۔یہ علاقہ دہشت گردی کی آماجگاہیں بن گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گردی کے ہر واقعہ کی تان فاٹاپر آکر ٹوٹی۔ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا فیصلہ ہوا تو قبائلی علاقہ جات کے سٹیٹس کا بھی تعین کر لیا گیا۔سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی بنی۔ جس نے عرق ریزی سے سفارشات تیار کیں۔اور چند سالوں میں یہ عشروں پرانا معاملہ حل ہو گیا۔ پارلیمنٹ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ موقع ملے تو وہ عوامی مفاد میں فیصلے کرتی ہے۔ رخصت ہوتی پارلیمنٹ نے صرف چند روز پہلے انقلابی فیصلہ کر کے تاریخ میں اپنا نام محفوظ کر لیا۔
فاٹا انضمام کا فیصلہ ایسا تھا کہ لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے کیلئے وہ بھی پارلیمنٹ میں پہنچ گئے۔ جو اسے لعنتی پارلیمنٹ کا ٹائٹل دے چکے تھے۔ جو چینی صدر ترک رہنما طیب اردگان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر بھی نہ آئے۔ جس پارلیمنٹ کا محاصرہ انہوں نے کیا۔جس پر حملہ آورہوئے۔اسی پارلیمنٹ نے عوام کو حقوق دیے۔پانچ سال تک یر غمال رہنے والی پارلیمنٹ کو مبارک ہو۔

مزیدخبریں