ملائیشیا کے تاریخی انتخابات
27 مئی 2018

9مئی کو ہونے والے عام انتخابات ملائیشیا کی تاریخ کے 14ویں عام انتخابات تھے یہ انتخابات دو لحاظ سے تاریخی نتائج کے حامل تھے۔ گزشتہ 13 عام انتخابات میں حکمران اتحاد مسلسل کامیاب ہوتا رہا تھا، انتخابات میں عمومی دلچسپی کی بات یہی ہوتی تھی کہ حکمران اتحاد کتنی برتری سے کامیاب ہو گا اور حزب مخالف کو کتنی نشستیں ملیں گی، مگر یہ انتخابات اس لحاظ سے تاریخی اور مختلف تھے کہ ان انتخابات میں حکمران اتحاد بی این (بارسیان نیشنل) کو پہلی مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا بی این نہ صرف ملائیشیا بلکہ دنیا کے طویل ترین حکمرانی کرن والے حکمران اتحاد میں سے ایک تھا۔ آخر کار ملائیشیا کے ووٹروں نے اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے حکمران اتحاد کو شکست سے دوچار کیا۔
یہ عام انتخابات اس لحاظ سے بھی تاریخی تھے کہ ان میں حزب مخالف کے اتحاد پی ایچ (امید کا اتحاد) کو واضح کامیابی ملی، یہ ملائیشیا کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ جب حزب مخالف نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہو۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کی قیادت میں حزب مخالف کے اتحاد نے تاریخی کامیابی حاصل کر کے حکمران اتحاد کی 61 سالہ حکمرانی کا خاتمہ کر دیا، ان انتخابات کو تمام انتخابات کی ماں قرار دیا جا رہا تھا اور نتائج نے یہ ثابت کر دیا آخر کار وہ ہو گیا جس کے لئے کی بڑی تعداد نے طویل عرصے تک انتظار کیا۔آخرکار ملائیشیا میں کثیرالجماعتی جمہوریت اور جمہوری احتساب کی داغ بیل ڈال دی گئی ہے ملائیشیا میں ووٹ کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کا دیرینہ خواب پورا ہو گیاہے جس وقت انتخابی مہم شروع ہوتی تو بہت کم انتخابی ماہرین اور سروے کرن والوں کو یقین تھا کہ حزب مخالف کامیاب ہو گی، زیادہ تر انتخابی ماہرین اور سروے کا خیال تھا کہ حکمران جماعت ایک بار پھر کامیاب ہو جائے گا اگرچہ اس کی اکثریت کم ہو جائے گی، مگر عام انتخابات سے ایک ہفتہ قبل چند ماہرین نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ حزب مخالف انتخابات جیت جائے گی۔
حکمران اتحاد کے خلاف آخری چند برسوں میں عوام کے بڑے حصے میں غصہ بڑھتا جا رہا تھا اور کرپشن سکینڈلوں نے اس کی ساکھ کو بری طرح مجروع کیا تھا وزیراعظم نجیب پر بھی اربوں ڈالر کی کرپشن کے الزامات لگ رہے تھے جس سے ان کی مقبولیت میں کمی آئی، ملائیشیا کی جہوری تحریک کو مسلسل جبر، تشدد تے آمرانہ حکمرانی کا سامنا کئی دہائیوں تک کرنا پڑا مگر ملائیشیا کے نوجوانوں،محنت کشوں، درمیانے طبقے کی پرتوں اور حزب مخالف نے تمام رکاوٹوں کا سامنا اورآخرکار فتح یاب ٹھہرے، اس سارے معاملے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے بحیثیت وزیراعظم 22 سال تک جمہوری تحریک اور حزب مخالف کو سختی سے دبایا، جمہوری حقوق پر قدغنیں لگائیں، عدلیہ کی آزادی کو سلب کیا اور آمرانہ طرز حکمرانی کومستحکم اور مضبوط کیا مگر مہاتیر محمد کی قیادت میں ہی اس آمرانہ طرز حکمرانی کا خاتمہ ہوا، انہوں نے 22 سالہ اقتدار میں بی این کو مضبوط کیا اور پھر حزب مخالف کے ساتھ مل کے اس حکمران اتحاد کو حکومت سے نکال باہر کیا۔ حکمران اتحادی شکست اور حزب مخالف کے اتحاد کی جیت ایک غیرمعمولی واقعہ ہے جو کہ ملائیشیا میں جمہوری حقوق اور کلچر کو فروغ دینے کا باعث بنے گا اس سے سیاسی جماعتوں، مزدور تحریک اور طلباء تنظیموں کو منظم ہونے اور اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے زیادہ مواقع ملیں گے۔ مگر یہ محض ایک طویل سفر کا آغاز ہے ملائیشیا کو اس جانب ایک لمبا سفر طے کرنا ہے۔
حکمران اتحاد بی این کو 222 میں سے صرف 79 نشستیں حاصل ہوئیں جبکہ 92 سالہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کی قیادت میں حزب مخالف نے 112 نشستوں کے ساتھ حکومت سازی کے لئے درکار سادہ اکثریت حاصل کر لی، ڈاکٹر مہاتیر محمد نے وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا ہے وہ اس سے پہلے 1981ء سے 2003ء تک ملائیشیا کے وزیراعظم رہے، انہوں نے 2003ء میں رضاکارانہ طور پر حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی مگر اب 15 سال کے بعد وہ ایک بار پھر وزیراعظم بن گئے ہیں۔
سابق وزیزاعظم نجیب رزاق کی حکومت کی شکست میں حکمران اتحاد کی سب سے بڑی اور غالب جماعت متحدہ ملا قومی تنظیم (یو این ایم او) میں 2015ء میں ہونے والی تقسیم نے بھی اہم کردار ادا کیا، 2015ء میں ڈاکٹر مہاتیر محمد اور دیگر رہنما یو این ایم او سے علیحدگی اختیار کر کے حزب مخالف سے جا ملے تھے، اس تقسیم نے حکمران اتحاد کو کمزور کر دیا، اس تقسیم کی بنیاد کرپشن، اقربا پروی اور بدعنوانی کے الزامات بنے تھے۔ حزب مخالف نے ضروریات زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کے خلاف اور حکومتی بدعنوانی پر حکومت کے خلاف مہم چلائی اور لوگوں کی حمایت حاصل کی۔
حزب مخالف کے اتحاد نے پاپولسٹ پروگرام پر کامیابی حاصل کی ہے حزب مخالف پی ایچ نے نوجوانوں، محنت کشوں اورغریب عوام سے ایسے وعدے کئے جو کہ بہت مقبول تھے۔ حزب مخالف نے ان مسائل اور خدشات پر بات کی تھی جو کہ طلباء، نوجوانوں، درمیانے طبقے دیہی غریب محنت کشوں اور حکمران طبقے کے اک حصے کے جذبات اور خواہشات کی عکاسی کرتے تھے۔
پی ایچ نے اپنے انتخابی منشور میں پہلے 100 دنوں میں اصلاحات متعارف کروانے کا وعدہ کیا (جیسا کہ عمران خان نے پاکستان میں کیا ہے، عمران خان ڈاکٹر مہاتیر سے بہت متاثر ہیں اور ان کے طرز حکمرانی کو پسند کرتے ہیں، اس لئے انہوں نے بھی 100دن کا پروگرام دیا ہے) مگر پی ایچ کا پروگرام اور اصلاحاتی ایجنڈا عمران خان کے ایجنڈے اور پروگرام سے کہیں زیادہ ایڈریکل ہے انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ بہت سارے میگا تعمیراتی منصوبوں پر نظرثانی کریں گے، جی ایس ٹی اور ٹول ٹیکس ختم کریں گے، کم از کم تنخوا میں اضافہ کریں گے، ایک لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کریں گے، تعلیم کو اعلیٰ سطح تک مفت فراہم کریں گے اور فیول پر سبسڈی کو بحال کریں گے، انہوں نے انتہائی جابرانہ قوانین پرنٹنگ پریس اینڈ پبلی کیشنز ایکٹ ،نیشنل سکیورٹی کونسل ایکٹ، یونیورسٹی اور کالج ایکٹ اور غداری ایکٹ کو ختم کرنے کا بھی وعدہ اور اعلان کیا۔
اس پروگرام اور وعدوں کی وجہ سے عوام کو نئی حکومت سے بہت ساری توقعات وابستہ ہیں، انہیں یقین ہے کہ نئی حکومت ملائیشیا کو زیادہ جمہوری ملک بنائے گی 1957ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ملائیشیا ایک پولیس اسٹیٹ رہا ہے اور حکومت نے حزب مخالف کی ہرتحریک کو طاقت سے کچلا ہے، برطانیہ نے اپنے نو آبادیاتی عہد میں مخالفت کو کچلنے کے لئے جو قوانین بنائے تھے وہ 61 برسوں سے حزب مخالف اور حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہرآواز دبانے کے لئے استعمال ہوتے آتے ہیں۔ مہاتیرمحمد نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اقتدار انور ابراہیم کو منتقل کر دیں گے انور ابرہیم ملائیشیا میں حزب مخالف کے مرکزی رہنما ہیں اور اس وقت جیل میں بند ہیں۔ انہیں سابقہ حکومت نے جھوٹے الزامات پر جیل میں ڈالا تھا، جیل سے رہائی پانے کے بعد انور ابراہیم وزیراعظم بننے کے اہل ہو جائیں گے۔ حزب اختلاف کی ایک اور پارٹی اسلامی پارٹی ملائیشیا (پی اے ایس) کومحض 18 نشستیں ملی ہیں مگر وہ دو صوبوں میں اپنی حکومت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی۔ انہیں زیادہ نشستیں دیہی علاقوں سے ملی ہیں جہاں گزشتہ برسوں میں حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے غربت اور معاشی بدحالی میں اضافہ ہوامگر پی اے ایس صنعتی طور پر زیادہ ترقی یافتہ علاقوں میں خاطرخواہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔اس الیکشن کے نتیجے میں یو ایم این اور بی این میں نئے تضادات اور اختلافات جنم لے سکتے ہیں جو کہ بی این کے کمزور ہونے اور دائیں بازو کی نئی سیاسی قوت کے ابھار کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں بی این اور یو ایم این او ملایا قوم پرستی اور انتہائی دائیں بازو کی نعرہ بازی اور سیاست کا سہارا لے سکتے ہیں۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ماضی کے دو دشمن اکٹھے ہوئے اور حزب مخالف کو انتخابات میں متحد کر دیا، ڈاکٹر مہاتیر محمد اور انور ابراہیم کے درمیان محبت اور نفرت کا یہ رشتہ بہت پرانا ہے ایک وقت انور ابراہیم کو مہاتیر محمد کا جانشین قرار دیا جاتا تھا مگر 1998ء کے معاشی بحران کے بعد دونوں میں ٹھن گئی مہاتیر محمد نے انور کو برطرف کر کے جیل میں ڈال دیا مہاتیر محمد نے یو ایم این او میں انور ابراہیم کو اپنے لئے خطرہ سمجھنا شروع کر دیا جس کا نتیجہ انور ابراہیم کی ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے سے برطرفی اور گرفتاری کی صورت میں نکلا۔انور ابراہیم نے گزشتہ بیس سالوں کا زیادہ عرصہ جیل میں اور عدالتوں میں اپنے خلاف الزامات کادفاع کرتے گزارے ہیں آخرکار انور ابراہیم بی این کی حکومت کا خاتمہ کرنے اور اپنے لئے اقتدار کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔جب وہ جون میں اقتدار سنبھالیں گے تو ان کا نیا امتحان شروع ہو گا جو کہ ملائیشیا میں کثیر الجماعتی جمہوریت کو مضبوط کرنے لوگوں کو جمہوری حقوق دینے اور انتخابی مہم میں کئے گئے وعدے پورے کرنے کے حوالے سے ہو گا۔ ملائیشیا کے عوام غیرجمہوری اور آمرانہ طرز حکمرانی اور نیو لبرل معاشی پالیسیوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں وہ غربت، معاشی مشکلات اور مہنگائی میں کمی اور آمدن میں اضافے کے خواہشمند ہیں۔


ای پیپر