خطرناک بیانئے، جارحانہ سیاست
27 مئی 2018 2018-05-27

جدہ ایئر پورٹ سے مکہ معظمہ جاتے ہوئے فیصل آباد کے ٹیکسی ڈرائیور محمد حنیف نے اچانک سوال کیا۔ ’’سرجی نواز شریف کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘ میں نے اس کا سوال ٹال دیا، احرام کی حالت میں کسی اور طرف دھیان دینا اچھا نہ لگا، ڈرائیور بھی جواب نہ پا کر خاموش ہوگیا، لیکن چار دن بعد مکہ معظمہ سے نبی رحمت ﷺ کے شہر مدینہ منورہ جاتے ہوئے اس نے پھر یہی سوال دہرایا میں نے جواب میں صرف منیر نیازی کا مصرع دہرا دیا۔ ’’کج سانوں مرن دا شوق سی وی‘‘ ڈرائیور مختصر اور شاعرانہ جواب سے مطمئن نہ ہوا، فیصل آبادی نوجوان تھاچپ کیسے رہتا، ہذیانی انداز میں خود ہی بولتا چلا گیا۔ ’’سر جی اصل مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف کو اتنا تنگ کیا گیا ہے کہ وہ اس قسم کے بیانات دینے پر مجبور ہوگیا ہے ملک کو ترقی دینا چاہتا تھا ایسی شاہراہیں اور موٹر ویز بنا رہا تھا دشمنوں نے راستہ روک دیا۔‘‘ مدینہ منورہ کے چار گھنٹے کے سفر کے دوران مزید کوئی گفتگو نہ ہوئی لیکن اس سے محمد حنیف کے دلی جذبات کا اظہار ضرور ہوگیا، نواز شریف نے پنڈورا بکس کھول دیا ہے سارے راز افشاء ہو رہے ہیں روز نت نئے تلخ حقائق سامنے آرہے ہین کوئی غدار کہے یا محب وطن حقائق کا پتا چل رہا ہے تین بار وزیر اعظم رہنے والا شخص چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے۔

چلو مجھ سے بچ کے کہ میں آئینہ ہوں

مجھے جھوٹ کہنے کی عادت نہیں ہے

جنرل (ر) اسد درانی کے انکشافات کیا بتاتے ہیں اس بد قسمت ملک کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے اقتدار کی غلام گردشوں میں کیاکھیل کھیلے جا رہے ہیں مفاد پرستی، اقتدار پرستی، ملک کیا خاک ترقی کرے گا۔ دیگر ممالک کہاں سے کہاں پہنچ گئے جن ممالک میں بادشاہت ہے ان کے بادشاہ بھی ملک و قوم سے پر خلوص، جہاں جمہوریت وہاں کے صاحبان اقتدار اپنے ملک کی ترقی کے لیے ہمہ تن کوشاں، ہم ابھی تک جمہوریت کی بکھری زلفیں سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں 70 سالہ جمہوریت کے بال سفید ہو گئے زلفیں نہ سنور سکیں، پاکستان واحد ملک ہے جس کے حکمران اور ارد گرد کے لوگ 70 سال سے ملک کی جڑیں کاٹ رہے ہیں ایک دور کا غدار دوسرے دور کا محب وطن، اگر کسی نے ملک کو ترقی دینے کی کوشش کی تو اس کی ٹانگیں کھینچنے لگے، خاموشی سے گھر بیٹھ گیا تو ٹھیک ورنہ ’’تختہ دار سلامت ہے تو ما شاء اللہ‘‘ ہمالیہ چالیس سال سے ایک شہید کو رو رہا ہے آئین کہاں گیا 31 ترامیم کے چیتھڑے باقی رہ گئے قانون کی حکمرانی کیا ہوئی جس کی لاٹھی اس کی بھینس، بلکہ پورا باڑہ اسی کے نام، بندوق کی نوک پر وزیر اعظم کو سرنڈر کیا جبکہ خود ایک فون کال پر سرنڈر ہوگئے ،کیا قومی کردار ہے، پنڈورا بکس کھلا ہے تو ’’پانی پت کی لڑائی‘‘ کی اصل وجوہات سامنے آرہی ہیں، شکر ہے نواز شریف نے ’’مجھے کیوں نکالا گیا‘‘ کا خود ہی جواب دے دیا کہا کہ مجھے نکالنے کی بڑی وجہ مشرف غداری کیس دھرنوں کا مقصد دباؤ میں لانا تھا‘‘ بعد کے واقعات اسی تنازع کا تسلسل ٹھہرے یہ تو ہونا تھا کیا پیپلز پارٹی والوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے اور دینے والوں کو معاف کردیا نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے والے وزیر اعظم کو چشم زدن میں ہائی جیکر بنا کر جیل میں ڈال دینے والے کو کیسے معاف کردیتے، جنرل (ر) اسد درانی نے کیسی کیسی کہانیاں سنا دیں، قابل تغریر وہی ٹھہرا جس پر ہاتھ ڈالنا آسان تھا، نواز شریف کے بیانیے خطرناک ، سیاست جارحانہ ، پیچھے دھکیل دیں، نا اہل قرار پائے اقتداردور دور نظر نہیں آتا لیکن بیانیے تو سامنے آرہے ہیں،تولہ ماشے کے سیاستدانوں نے کہا کہ ذہنی توازن بگڑ گیا ہے بگڑنا چاہیے۔

کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار

اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے دیوانہ پن نہیں تو اور کیا ہے، سسک سسک کر حکومت نے اپنی مدت پوری کی، آئندہ انتخابات کے لیے نگراں وزیر اعظم نہیں مل رہا ،دنیا میں کون سا ملک ہے جہاں نگراں وزیر اعظم کے لیے اتنے پاپڑ بیلے جاتے ہیں نگراں حکومت کا پنگا صرف ہمارے ملک میں رائج ہے نگراں وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ انتخابات کرا دے تو 35 پنکچرز کے طعنے سنتا رہے منہ بھر کے الزام لگا دیں ثبوت کی ضرورت نہیں توہین عدالت کا نوٹس بھیجا، یاروں نے کہا ’’نوٹس ملیا ککھ نہ ہلیا‘‘ کیا فرق پڑا سارے نوٹس ہضم، استثنیٰ مقدر، نواز شریف 77 پیشیاں بھگت کر بھی ملزم چار، چار گھنٹے عدالت میں کھڑے ہو کر جواب دیے سزا کے لیے مناسب وقت کا انتظار، غالبا انتخابات کے بعد سزائیں ہوں گی تاکہ دور دور تک معافی کی گنجائش نہ رہے،مدینہ منورہ سے واپسی پر ایئر پورٹ لاؤنج میں ایک ترک نوجوان نے پوچھا ،نواز شریف کی کرپشن ثابت ہوگئی؟ پھر خود ہی بولا ’’کرپشن کہاں ثابت ہوئی، نا اہل ہوگئے‘‘ پتا نہیں کیا ہو رہا ہے؟ گیم چینجر جیت رہے ہیں ہمیشہ جیتتے رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے ملک ہار جاتا ہے اب بھی حالات اچھے نہیں، سارے پرندے اڑ گئے، ن لیگ کا پنجرہ خالی، خلائی مخلوق یہی چاہتی تھی’’ موسم گل کے آتے آتے کتنے نشیمن ویران ہوئے‘‘ نواز شریف پر افتاد کیا پڑی کہ ن لیگ پر غیر یقینی کے بادل منڈلانے لگے 35 سال کے بار بھی آنکھیں دکھا رہے ہیں بقول غالب۔

لو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بے ننگ و نام ہے

یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں

پنجرہ خالی ہوگیا ٹکٹ کسے دیں گے، صادق اور امین کہاں سے لائیں گے، 2013ء میں جنہوں نے اپنے صادق اور امین بھیجے تھے واپس بلا لیے، لوگوں نے عین وقت پر قبلہ بدل لیا، سارے صادق اور امین واپس چلے گئے ،کچھ پی ٹی آئی کو پیارے ہوئے بچے کھچے ’’شہزادوں‘‘ نے آصف زرداری کی گود میں پناہ لے لی، کیا ن لیگ بانجھ ہو گئی ہے؟ دس ماہ تک ریفرنسوں کی سماعت کے بعد بھی کرپشن ثابت نہیں ہو رہی تو اصولا مسلم لیگ کو مضبوط ہونا چاہیے تھا مریم نواز بھی پارٹی کی مضبوطی کا راگ الاپ رہی ہیں کہ نواز شریف کے بیانیے گلی گلی مقبول ہو رہے ہیں، ایسی بات ہے تو پرندے کیوں اڑ گئے پنجرہ کیوں خالی ہوگیا؟ کوئی منطق فلسفہ نہیں سیدھی سی بات ہے، فلک دشمن زمین تنگ، نواز شریف کا چیلنج کرتے گلا بیٹھ گیا کہ ایک روپے کی کرپشن ثابت کردو عمران خان 300 ارب کی کرپشن کا راگ الاپ رہے ہیں، 300 ارب اور ایک روپے میں زمین آسمان کا فرق ہے ثابت کردو، جان چھوٹے، لیکن اسی الزام پر تو الیکشن لڑنا ہے، جھوٹ اعتماد سے بولا جائے تو سچ لگتا ہے، آئندہ کیا ہونے والا ہے بقول ایک سینئر تجزیہ کار ’’اگلے چند مہینے مزید تباہی کے دہانے پر مزید بھیانک نتائج 2018ء کے الیکشن جب بھی ہوئے 1970ء کے الیکشن کا عکس ہوں گے ایک تجربہ بار بار نتائج مختلف ڈھونڈنا حماقت کی معراج، دونوں گھوڑے وننگ پوائنٹ کی طرف سر پٹ دوڑ رہے ہیں دونوں اپنے آپ کو ‘‘منظور نظر‘‘ سمجھے بیٹھے ہیں لیکن نہیں سمجھتے کہ بندوق میری ہے تو حکومت کیسے تمہاری ہوگی‘‘ اس تجزیہ کے بعد حالات سمجھنے میں دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت دونوں گھوڑوں میں سے جس کی بھی بنے سرنڈر کر کے ہی باقی رہے گی راتب بھی اپنی مرضی سے نہ کھا سکیں گے۔ سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں 100 روز میں وعدے پورے کرنے کا عہد 11 نکات 2013ء میں 6 نکات تھے 5 کا اضافہ 6 نکات 5 سال میں پورے نہیں ہوئے 350 ڈیم،

اسپتال، تعلیمی ادارے، فلاحی صوبہ بنانے کے خواب سب ادھورے، خورشید شاہ نے غصہ سے کہا عمران کے وعدے 100 روز میں پورے ہوگئے تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ وعدے پورے ہوں گے نہ خورشید شاہ سیاست چھوڑیں گے گھوڑے بگٹٹ دوڑ رہے ہیں دوڑتے رہیں گے اللہ اس ملک کو محفوظ رکھے۔


ای پیپر