’’ بلّے ۔۔۔ اوئے تیرا Confidence ۔۔۔ ؟؟‘‘
27 مئی 2018

گل خان حج کر کے آیا اور سیدھا محلے کی پرچون کی دوکان پر گیا اور اکڑ کر بولا ۔۔۔ ’’میرا دھار کھاتہ نکالو‘‘۔۔۔؟
دوکاندار اس Confidence پر بڑا خوش ہوا کہ آج اُس کا تین سال کا ادھار شاید ملنے والا ہے ۔۔۔؟
جیسے ہی اُس نے ’’ادھار کھاتہ‘‘ کھولا ۔۔۔گل خان ۔۔۔ ’’یہ میرے نام کے ساتھ ’’حاجی‘‘ لکھ دو‘‘ ۔۔۔!
میں نے استاد کمر کمانی میں بھی ایسا ہی Confidence دیکھا ہے جون کی تین تاریخ کو پانچ ہزار روپے ادھار لیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ 10، جون کو پائی پائی چکا دوں گا ۔۔۔میں منتظر تھا کہ چلو یہ کمر کمانی پانچ ہزار روپے ادا کرے تو ’’کچھ‘‘ یعنی چالیس ہزار مزید ڈال کر بجلی کا بل جمع ہو جائے گا ۔۔۔مگر میں اُس وقت حیرت سے گھبرا گیا جب استاد کمر کمانی نے گیارہ جون کو کمال ڈھٹائی سے دس ہزار کا مزید مطالبہ کر دیا اور پورے Confidence کے ساتھ پچھلے پانچ ہزار کا ذکر تک نہیں کیا ۔۔۔آج ایک فیس بک فرئنڈ نے عمران خان کے ایک کروڑ نوکریوں کے تازہ اعلان کے بعد ’’لمبی چھوڑی‘‘ ۔۔۔ اور عمران خان کو خوش کر دیا یہ اعلان کر کے ۔۔۔ کہ ’’عمران خان کے ایک کروڑ نوکریاں دینے کے اعلان پر جہاں دنیا بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وہیں بنگلہ دیش نے دوبارہ پاکستان میں شامل ہونے کا اعلان کر ڈالا‘‘ ۔۔۔؟!؟
ہمارے دوست بھی ہمارے ہی جیسے ہیں اور ہمیں اُن پر ’’بھی‘‘ فخر ہے ۔۔۔ یہاں یہ ’’بھی‘‘ کو خاص اس لیے Show کیا ہے کہ ہمیں خود پر بھی فخر ہے ۔۔۔ ہمارے ایک مشترکہ دوست نے اپنا ’’بدوملہی‘‘ والا رقبہ اور گھر سمیت چار بھینسوں کے بیچ ڈالا اور اپنی ازلی خواہش پوری کرنے کے لیے لاہور کے ڈیفنس کی دیوار کے ساتھ بستی میں پانچ مرلے کا گھر خریدا اور اپنے پرائے سب کو نئے گھر میں دعوت دے ڈالی ۔۔۔ ہر محل وقوع کے لوگ اُس محفل میں شریک تھے ۔۔۔ دوست نے سب پر رعب ڈالنے کے لیے بیٹے سے فرمائش کی ۔۔۔’’بیٹا جب دوست آ جائیں تو تم ’’لمبی لمبی چھوڑنا‘‘ تا کہ دوستوں کو پتہ چلے کہ بدوملہی والا رقبہ، گھر اور چار پانچ بھینسیں بیچ کر ہم نے یہ گھر نہیں خریدا ہم واقعی امیر ہو چکے ہیں۔۔۔ باپ نے بیٹے کو کھلی چھٹی دی تو اُسے بھی ضرورت سے زیادہ Confidence مل گیا ۔۔۔ جب مہمان آ چکے تو بیٹے نے بآواز بلند کہا ’’ابو جی ذرا چابی دینا میں ٹرین اندر کر لوں‘‘ ۔۔۔؟
امجد خان ہمارا دوست ہے اور ہمارے ہی جیسا ہے ۔۔۔ میٹرک کی سند پر میٹرک پاس کرنے کا سال 1982ء درج ہے جبکہ ہم دونوں نے میٹرک کرنے کی کوشش 1978ء میں ایک ساتھ ہی شروع کی تھی ۔۔۔!
ایک دن ہنستا ہنستا بڑے Confidence کے ساتھ آیا ۔۔۔ ’’یار استاد میں نے سوچا ہے کہیں سے کچھ پیسے آ جائیں تو علاقے میں ذرا ’’ٹور ۔۔۔ شور‘‘ کے لیے ۔۔۔ امجد خان میموریل ٹورنامنٹ منعقد کروا لیا جائے‘‘ ۔۔۔؟!میری ہنسی نکل گئی ۔۔۔ یار زندہ ہے مگر ابھی سے میموریل ٹورنامنٹ کروانے کا خواہاں بھی ہے ۔۔۔؟!
اس وقت دوستوں کو ‘‘الرٹ‘‘ رہنا چاہئے کیونکہ الیکشن کی آمد آمد ہے ۔۔۔ ویسے تو علم الاعداد کے پاکستان میں سب سے بڑے ماہر ےٰسین وٹو صاحب ابھی بھی ’’پر اعتماد‘‘ ہیں کہ ہمارے سیاسی افق پر ابھی بہت سے بڑے بڑے ’’دم دار ستارے‘‘ نمودار ہونے جا رہے ہیں اس لیے الیکشن شاید ضروری نہ ہی سمجھا جائے ۔۔۔ مگر پھر بھی سیاستدانوں نے بہر حال تیاریاں تو شروع کر ڈالی ہیں ۔۔۔ رات میں ایک ’’خونخوار‘‘ اینکر کے بارے میں لوگوں کا فیس بک پر واویلا دیکھ سن رہا تھا کہ جس نے مذہب کو ’’مذاق‘‘ بنانے کا کوئی موقع کبھی بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا تو ایک شعر قلم سے نکل گیا ۔۔۔ ذرا آپ بھی میرا یہ شعر ملاحظہ کریں ۔۔۔ یہ نہیں کہہ سکتا ۔۔۔ ’’انجوائے کریں‘‘ ۔۔۔
قوم سوئی ہے، ضروری ہے جگا دی جائے
آگ پھر وقت سے پہلے ہی بجھا دی جائے
کل ایک دوست کا فون آیا ۔۔۔ انجان سا نمبر تھا ۔۔۔ میں نے حسب معمول نیا نمبر سمجھ کر کسی ’’اچھے‘‘ کی امید میں جلالی انداز میں ہیلو کہا تو پورے Confidence سے بولے ۔۔۔
’’حضور ۔۔۔ ہم آپ کے اپنے ہی ہیں ا پنے سے انداز میں بات کر لیں تو اچھا ہے‘‘۔۔۔؟
’’جی جی ۔۔۔ ارشاد فرمائیں ڈئیر اپنا صاحب‘‘ ۔۔۔؟
آج کوئی خاص بات تو نہیں کرنی بس ایک گلہ تھا عرصہ ایک سال سے دل چاہ رہا تھا کہ جناب کے گوش گزار کروں ۔۔۔ بس Confidence کا فقدان تھا آج روزہ ’’لگ‘‘ رہا تھا۔۔۔ سوچا اس حال میں شاید مدعا بیان کر پاؤں ۔۔۔؟
’’جی جی ۔۔۔ حکم کریں ۔۔۔ کوئی غزل کوئی نظم جو بھی آپ پسند کریں مجھے ہمہ تن گوش پائیں گے‘‘ ۔۔۔؟!
نہیں ۔۔۔ حافظ صاحب ۔۔۔ غزل نظم کہاں اس گرمی میں ۔۔۔ کہنا تھا کہ آپ مجھے اپنی طرف سے فیس بک پر ’’ڈئیر بمعنی پیارے‘‘ لکھنا چاہ رہے ہیں لیکن ’’سوری ٹو Say‘‘ ۔۔۔ آپ شاید جان بوجھ کر مجھے ہر بار Deer بمعنی ’’ہرن‘‘ لکھتے چلے جا رہے ہیں کہیں ۔۔۔ آپ کا یہ ’’مذاق‘‘ میرے نام کا حصہ ہی نہ بن جائے ۔۔۔
میری ہنسی نکل گئی ۔۔۔
’’ویسے حافظ مظفر محسن ۔۔۔ ہنسنے کی بات نہیں‘‘ ۔۔۔ اُنھوں نے غم میں بتایا اور فون بند کر گئے ۔۔۔
الیکشن کی آمد آمد بہر حال ہے دوستوں نے دو ماہ سے جو حالات چل رہے ہیں ملک میں اُن سے اندازہ بھی اپنے تئیں لگا لیا ہے کہ اگلے دو ماہ مزید کیا کیا ۔۔۔ کیا کیا کچھ ہونے جا رہا ہے ۔۔۔ لیکن پھر بھی سیاستدان پورے Confidence کے ساتھ میدان میں اتر چکے ہیں ۔۔۔ پنڈی کے راجہ بازار میں لال حویلی میں بھی ’’سفیدیاں‘‘ ہو رہی ہیں پنڈی کے بڑے بازار میں عید کے بعد ’’سرعام‘‘ بڑے لیڈر پھر سے عوام میں بیٹھ کر بڑے پیالے میں سری پائے کا ناشتہ کرتے دکھائی دیں گے ۔۔۔ مگر اس بار مجھے لگتا ہے عوام نے بھی کافی Confidence ۔۔۔ پیدا کر لیا ہے ۔۔۔ ’’لابی‘‘ بھی پوری طرح پرُاعتماد تو ہے مگر مجھے یقین ہے کہ عوام کا Confidence اس بار کام دکھا دئے گا ۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے ۔۔۔ پورے Confidence کے ساتھ بتاےئے گا ۔۔۔! جس طرح عمران خان نے ایک ارب درخت لگانے کا عندیہ دیا تھا پورے Confidence کے ساتھ اور اب ایک کروڑ نوکریاں دینے کا دعویٰ کر ڈالا ہے اُسی Confidence کے ساتھ ۔۔۔؟!
آخری خبریں آنے تک ۔۔۔ ملالہ یوسفزئی نے کم عمر میں ہی نہایت Confidence کے ساتھ ’’ہولی‘‘ کا تہوار پورے ’’مذہبی جوش و جذبہ‘‘ کے ساتھ منایا ۔۔۔ ’’رنگ برنگی‘‘ تصاویر فیس بک پر لگی ہیں عوام ملالہ کے اس Confidence پر ’’خوش‘‘ ہے ۔۔۔ ہم نے بھی خود کو ہمیشہ ’’لبرل‘‘ ثابت کیا ہے ۔۔۔ یہاں بھی ہم نے اس پر جوش ’’ہولی منائے جانے پر‘‘ پورے اعتماد کے ساتھ پورے Confidence کے ساتھ Like کر ڈالا ۔۔۔ ہم بھی تو اب اس ۔۔۔ ’’نظام‘‘ کا حصہ ہیں ۔۔۔؂
جب توڑ لیا رشتہ تیری زلف وفا سے
سو بار یہ بل کھاتی پھرے اپنی بلا سے


ای پیپر