یو م تکبیر۔۔۔جرأت و بہادری کے اظہار کا دن
27 مئی 2018 2018-05-27

آج ملک بھر میں بیسواں یوم تکبیر منایا جارہا ہے۔28مئی کا وہ عظیم دن جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے یوم تکبیر کے نام سے موسوم ہے۔ تکبیر کا مطلب اللہ اکبر‘ یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔ تکبیر کا یہ لفظ اللہ تعالیٰ سے رشتہ و تعلق جوڑنے اور اغیار سے رابطہ و ناطہ توڑنے کا نام ہے۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنے بیس برس گزر چکے ہیں۔ وطن عزیز کا ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا اللہ رب العزت کا بہت بڑا انعام اور پاکستان کی بقا، سلامتی اور استحکام کا ضامن ہے۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے جس نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا اور اس کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح وطن عزیز پاکستان کو نقصان سے دوچار کیا جائے۔ یہ وہ ملک ہے جو ہمارے دین، اس کی سالمیت و استحکام اور اقدار و روایات کا دشمن ہے۔ اکھنڈ بھارت کے نظریہ کو پروان چڑھانا اور اس پر عمل کرنا بھارتی حکمرانوں کا جنون رہا ہے۔ وہ تقسیم ہند کے بعد سے آج تک اسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔بی جے پی ہو یا کانگریس انڈیا میں برسراقتدار آنے والی تمام حکومتوں کے پاکستان سے متعلق وہی عزائم رہے ہیں جو 1947ء یا 1971ء کے موقع پر تھے۔ وہ وقت اور حالات کے مطابق پینترے ضرور بدلتے ہیں البتہ ان کی اسلام و پاکستان دشمنی میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی۔ بھارت نے پہلا ایٹمی دھماکہ 18مئی 1974ء کو پاکستانی سرحد سے صرف 93میل کے فاصلے پر راجستھان میں کیا ۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کو دولخت ہوئے تقریباً ڈھائی سال ہو چکے تھے اور اندرا گاندھی اس فتح میں سرشار دوقومی نظریہ کو ہمیشہ کے لئے خلیج بنگال میں ڈبو دینے کے نعرے لگا رہی تھی۔ جب مکتی باہنی کے قیام اور پھرفوجی جارحیت کے ذریعہ پاکستان کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا تو ان حالات میں یہ سوال بہت اہم تھاکہ بھارت کو ایٹمی دھماکہ کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ انڈیاشروع سے ہی توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم کا حامل ملک رہا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہی دہشت گردی، توسیع پسندی اور جارحیت پر رکھی گئی۔بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور انڈیا کی جدید خارجہ پالیسی کے معمار ڈاکٹر ایس آر پٹیل نے اپنی لکھی گئی تصانیف میں اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کے
خدوخال اور جارحانہ عزائم بیان کرتے ہوئے واضح طور پر لکھا کہ بھارت عالمی معاملات میں دوسرے درجے کا کردار ادا کرنے کیلئے معرض وجود میں نہیں آیا بلکہ یہ خطے میں ایک عظیم حیثیت اختیار کرے گا۔اسی طرح یہ بھی لکھا گیا کہ انگریز کے چلے جانے کے بعد خطے میں ایک عظیم سیاسی خلا واقع ہو چکا ہے اور یہ خلا بھارت کو پر کرنا ہو گا۔بھارت نے قیام پاکستان کے موقع پر جس طرح دھونس اور دھاندلی کے ذریعہ حیدر آباددکن، جونا گڑھ، مناوادر اور ریاست جموں کشمیر پر قبضہ کیا ‘ مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کی گئی اور وطن عزیز پر تین جنگیں مسلط کی گئیں اس سے ہندو بنئے کے توسیع پسندانہ عزائم کھل کر دنیا کے سامنے واضح ہو جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو 18مئی 1974ء اور 11مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکے، ایٹمی میزائل سازی، مہنگے و تباہ کن اسلحہ کے انبار و ذخائر سب اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ بھارت کی جانب سے اسلحہ کے یہ انبار اور ذخائروطن عزیز پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ملکوں کی خیر سگالی و خوشحالی کیلئے نہیں بلکہ انہیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے جمع کئے گئے جبکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف ملکی سلامتی و استحکام کے دفاع کیلئے ہے اور اس کا حصول پاکستان کیلئے انتہائی ضروری تھا۔
قارئین کرام !گزشتوں برسوں کی طرح اس سال بھی یوم تکبیر بہت جوش و خروش سے منایاجارہا ہے تاکہ اسلام و پاکستان کی دشمن قوتوں کو احساس دلایا جائے کہ وہ کسی طور ہمیں ترنوالہ نہ سمجھیں ۔ پاکستانی قوم کے بچے بچے میں آج بھی وہی جذبے موجود ہیں جو 28مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کرتے وقت تھے۔ جب سے پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ایٹمی صلاحیت سے نوازا ہے بھارت اب اب کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے اس ملک کیخلاف فوجی جارحیت کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اسے یہ بات اچھی طرح معلوم ہے۔انڈیا کی پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعدبھی جب اس کی پاکستان کیخلاف مذموم سازشیں جاری رہیں تو صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹم بم بنانے کے عزم کا اظہا رکیا اور کہا کہ ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ یوں اٹامک انرجی کمیشن نے اس کام کا بیڑہ اٹھایا اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی قیادت میں سائنسدانوں کی دن رات محنت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے نواز دیا۔ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں جنرل ضیاء الحق اور غلام اسحاق خاں مرحوم کا کردار بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 28مئی 1998ء کو بھی پاکستان نے اگر ایٹمی دھماکے کئے تو حقیقت یہ ہے کہ اس پر بھی پاکستان کو مجبور کیا گیا۔ جب ہندو انتہاپسند تنظیم بی جے پی کے دور حکومت والے بھارت نے دوبارہ ایٹمی دھماکے کئے تو ازلی دشمن بھارت باؤ لاہو کر پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دینے لگا۔ یہ وہ حالات تھے کہ اس وقت بھارت کو ایٹمی دھماکے کر کے جواب دینا بہت ضروری تھا۔ بھارتی دھمکیوں کے بعد صرف پاکستان ہی نہیں کشمیر سمیت پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں میں سخت بے چینی پائی جاتی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ پاکستان بھی ایٹمی دھماکے کرکے اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے واضح کرے۔اس وقت بھی بین الاقوامی دنیا بھارت کے ساتھ کھڑی تھی۔ انڈیا کی دھمکیوں پر خاموشی اختیار کی جارہی تھی مگر پاکستان کو طرح طرح کے لالچ دیکر اور ڈرا دھمکا کر ایٹمی دھماکوں سے روکنے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔ ملک میں اس وقت میاں نواز شریف کی حکومت تھی۔ حالات سے باخبر لوگوں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ میاں صاحب اس وقت بھی تذبذب کا شکار تھے کہ انڈیا کے جواب میں دھماکے کئے جائیں یا نہیں تو ان حالات میں سالار صحافت ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم نے انہیں واضح طور پر کہا کہ اگر آپ نے ایٹمی دھماکے نہ کئے تو پاکستانی قوم
آپ کا دھماکہ کر دے گی۔بہر حال ایک مرتبہ پھر وطن عزیز پاکستان مشکلات اور مصائب سے دوچار ہے۔ اگر 1998ء میں بھارت میں بی جے پی اور پاکستان میں میاں نواز شریف کی پارٹی کی حکومت تھی تو آج بھی وہی صورتحال ہے۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ اس وقت بھی بھارت کنٹرول لائن پر آئے دن جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے۔ نہتے شہریوں کو فائرنگ کر کے شہید کیا جارہا ہے۔ بلوچستان ، سندھ اور دیگر علاقوں میں بھارتی ایجنسیاں اپنے کلبھوشنوں کو جمع کر کے تخریب کاری و دہشت گردی کر رہی ہیں اور سی پیک منصوبہ کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کی جارہی ہیں ۔ہندو انتہا پسندحکومت آج بھی اکھنڈ بھارت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔پاکستانی حکمرانوں کی بھارت سے دوستانہ پالیسیوں کے جواب میں اس کے رویہ و سلوک میں نرمی کی بجائے سختی اور دشمنی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی قتل و غارت گری بھی عروج پر ہے۔ دنیا کو دھوکہ دینے کیلئے جنگ بندی کا ڈرامہ رچایا گیا لیکن نہتے کشمیریوں کا خون بہانے کا سلسلہ پہلے سے بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ ان حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کے حوالہ سے اپنی ترجیحات اور پالیسی از سر نومرتب کرے۔ ہم بھارت سے مذاکرات و معاہدات کے مخالف نہیں ہیں لیکن اس کا ماضی ہمیں ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔ انڈیا نے پاکستان سے دوستی او رمذاکرات کی باتوں کو ہمیشہ کشمیر پر فوجی قبضہ کرنے کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران دوست اور دشمن میں فرق کریں اور پاکستان کیخلاف ایجنڈے رکھنے والی قوتوں کو پہچانیں اور ان کے مذموم عزائم و ارادوں کو سمجھیں۔ ہمیں مظلوم کشمیریوں کی بھی دل کھول کر مددوحمایت کرنی چاہیے۔ کشمیر کو بانی پاکستان محمد علی جناح نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اس کے بغیر یہ ملک مکمل نہیں ہے۔ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے، تو اس وقت کشمیری قوم نے بھی خوشیاں منائی تھیں۔اہل کشمیر آج بھی پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے اور شہادتیں پیش کر رہے ہیں۔ 28مئی کی مناسبت سے ہم پوری کشمیری قوم اور حریت پسند قائدین کو بھی سلام پیش کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ پاکستانی قوم مکمل طور پر ان کی جدوجہد آزادی کے ساتھ ہے۔


ای پیپر