28 مئی، ہم نے بھارت کا حساب بیباک کردیا
27 مئی 2018

اٹھائیس مئی کے دن کو پاکستانی تاریخ میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یوم تکبیر بھارتی ایٹمی تجربات کے جواب میں چاغی کے مقام پر نعرۂ تکبیر کی گونج میں ہونیوالے پانچ ایٹمی دھماکوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔اس دن پاکستان نے دنیا کی ساتویں جبکہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
گیارہ مئی انیس سو اٹھانوے کو پوکھران میں تین بم دھماکے کر کے بھارت نے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ بھارتی قیادت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کو خطرناک دھمکیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ ایک طرف بھارت دھمکیوں اور اسرائیل کی مدد سے پاکستان کی ایٹمی تجربہ گاہوں پر حملے کی تیاری کر رہا تھاتو دو سری جانب مغربی ممالک پابندیوں کا ڈراوا دیکر پاکستان کو ایٹمی تجربے سے باز رکھنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے بھی پانچ بار فون کر کے وزیر اعظم نواز شریف کو ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کا مشورہ دیا جبکہ اس کے بدلے کروڑوں ڈالر امداد کی پیشکش بھی کی گئی۔ تاہم عالمی دباؤ کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف نے جرأت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اٹھائیس مئی کے دن پانچ ایٹمی دھماکے کرنے کا حکم دے دیا اور چاغی کے پہاڑوں پر نعرۂ تکبیر کی گونج میں ایٹمی تجربات کر دئیے گئے۔پاکستان کے ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر نے انیس سو چوہتر میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھ کر ایٹمی پروگرام کے لیے کام کرنے پر آمادگی کا اظہار اور اسی سال کہوٹہ لیبارٹریز میں یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کر دیا گیا۔ پاکستانی سائنسدانوں نے انتہائی مشکل حالات کے باوجود ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا اور ملک کو جدید ترین ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک میں شامل کر دیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت ایک سو سے زائد ایٹمی وار ہیڈز رکھتا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شدید عالمی دباؤ کے باوجود تیزی سے جاری ہے اور پاکستان ہر سال اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں دس نئے ایٹم بموں کا اضافہ کر لیتا ہے۔ بھارت امریکہ ایٹمی معاہدے کے بعد پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کیا گیا ہے۔ملک میں چین کے تعاون سے ایٹمی بجلی گھر بھی بنائے جا رہے ہیں جبکہ خوشاب کے قریب پلو ٹینیم تیار کرنے والے دو نئے ایٹمی ری ایکٹرز بھی مکمل ہو چکے ہیں۔ خوشاب میں ہی ایک اور ایٹمی پلانٹ کی تعمیر بھی جاری ہے جن سے ایٹمی ہتھیار بنانے کی ملکی صلاحیت میں مزید اضافہ ہونا یقینی ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع دن سے ہی عالمی سازشوں اور شدید تنقید کا شکار ہے۔ پاکستانی کی ایٹمی طاقت کئی عالمی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصے بعد باقاعدہ مخالفانہ مہم چلائی جاتی ہے۔ حکومت اور پوری قوم کا فرض ہے کہ ملکی سلامتی کی علامت اس ایٹمی پروگرام کی حفاظت اور ترقی کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار رہیں اور یہی یوم تکبیر کا پیغام ہے۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے جن عناصر نے حب الوطنی اور اسلام پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے تاریخی کردار ادا کیا‘ ان میں روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی سرفہرست ہیں اور یہ بات تاریخی شواہد کی بنیاد پر واشگاف الفاظ میں کہی جاسکتی ہے کہ اگر جناب مجید نظامی اس معاملے میں حکومت وقت سے قومی سربلندی کی خاطر ٹکرا جانے والی پالیسی پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہونے کی تلقین نہ کرتے تو عین ممکن تھا کہ بعض بڑے بڑے حاشیہ نشین اور چاپلوس صحافیوں کی ایک کھیپ مخصوص مفادات کے تحت پاکستان کی ذمہ دار قیادت کو ایٹمی دھماکے کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی مگر یہ مجید نظامی صاحب ہی تھے کہ جنہوں نے اس حوالے سے نوائے وقت کی جاری کردہ استحکام پاکستان تحریک کو نقطۂ عروج تک پہنچا دیا۔
21 مئی 1998ء کو وزیراعظم میاں نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں مدیران اخبارات و جرائد سے ملاقات کی۔ بعض دانشور مدیران جرائد نے دبے لفظوں میں ایٹمی دھماکے کرنے کی مخالفت کی۔ ایسے ماحول میں واحد آواز نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی کی تھی جنہوں نے بڑی جرأت کے ساتھ وزیراعظم کے سامنے قومی امنگوں کی ترجمانی کی۔ انہوں نے صاف صاف لفظوں میں وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب! آپ ایٹمی دھماکہ کرو ادیں ورنہ عوام آپ کا دھماکہ کر دیں گے۔ جناب مجید نظامی نے یہ بھی کہا کہ آپ ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں آپ کو دوہری وارننگ کا سامنا ہے۔ اگر دھماکہ کرتے ہیں تو ممکن ہے امریکہ آپ کا دھماکہ کر دے مگر قومی اور ملکی سالمیت اس امر کی متقاضی ہے کہ آپ ایٹمی دھماکہ کریں۔ گویا جناب مجید نظامی نے نوائے وقت کی طرف سے سر دربار حاکم وقت کو بلاخوف و خطر کھری کھری سنا کر قومی فرض ادا کیا تھا۔ اس کے بعد جناب مجید نظامی نے 22 مئی 1998ء میں اپنے اداریہ میں لکھا کہ ’’پاکستان کی گومگو پالیسی کی وجہ سے بھارت اور مغربی دنیا کو اس وقت تک ہماری صلاحیت کے بارے میں یقین نہیں آسکتا جب تک تجربہ کر کے ہم بتا نہیں دیتے کہ ہماری ایٹمی صلاحیت بھارت سے کس قدر زیادہ اور ترقی یافتہ ہے‘‘۔ دھماکے کرنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے ریڈیو اور ٹیلیویژن پر اپنی تاریخی تقریر کی اور انہوں نے بجا طور پر یہ بات کہی کہ ہم نے بھارت کا حساب بیباک کر دیا۔ بزدل دشمن ایٹمی شب خون نہیں مار سکتا۔ دفاعی پابندیاں لگیں تو پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔ اقتصادی پابندیاں لگیں تو بھی سرخرو ہوں گے۔ ایٹمی دھماکے کے فوراً بعد وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جناب مجید نظامی کو ٹیلی فون پر مبارکباد دی اور انہیں نشان پاکستان دینے کا اعلان کیا۔ الحمدللہ ! آج 28 مئی کو یومِ تکبیر منایا جارہا ہے۔ یہ یومِ تفاخر ہے اور ہماری قومی تاریخ کا انمٹ باب ہے۔


ای پیپر