یوم تکبیر اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان
27 مئی 2018 2018-05-27

آج 28مئی2018ء ہے۔ پوری قوم یوم تکبیر منا رہا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان بانی ایٹمی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے۔ اس موقع پر قوم افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں کو بھی سلیوٹ کر رہی ہے، جو 44برسوں سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کر رہے ہیں۔ آج قوم کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خواب کو تعبیر کا روپ دینے والے ذوالفقار علی بھٹو کی بھی یاد آرہی ہے۔ اس بہادر شخص نے کہا تھا کہ ’’ ہم گھاس کھالیں گے لیکن ایٹم بم بنا کر دم لیں گے‘‘۔ مئی 1998ء کے آخری عشرے میں باجپائی حکومت نے پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کیے۔ ادھر یہ ایٹمی دھماکے ہوئے اور ادھر پوری قوم سڑکوں پر نکل آئی کہ پاکستانی حکومت بھی ان دھماکوں کا فوری جواب دے۔ وزیر اعظم نواز شریف اس پر سوچ بچار کر رہے تھے کہ پاکستان کے ایک سینیئر صحافی مجید نظامی نے دوٹوک الفاظ میں انہیں سمجھایا کہ اگر پاکستان نے ایٹمی دھماکے نہ کیے تو قوم کا رد عمل ان کے لیے مشکلات پیدا کردے گا۔ان کے اصل الفاظ انتہائی جارحانہ تھے۔ اسی دوران لاڑکانہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران اپوزیشن لیڈر بے نظیر نے فضا ء میں چوڑیاں اچھال دیں کہ اگر وزیر اعظم نے ایٹمی دھماکے نہیں کرنے تو وہ یہ چوڑیاں پہن لیں۔ انہی لمحات میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی وزیر اعظم کو یقین دلایا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی اور ان کی
پوری ٹیم جوابی ایٹمی دھماکوں کے لیے تیار ہے۔ یوں عوامی، سیاسی، صحافتی اور افواج پاکستان کے دباؤ پر نواز شریف نے جوابی کارروائی کی اجازت دی۔ چاغی میں6 ایٹمی دھماکے ہوئے ۔ پاکستان دنیا کی7ویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی ریاست بن گیا۔ اس عظیم کارنامے پر قوم نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو محسن پاکستان کا عظیم الشان خطاب دیا۔
اللہ کریم کا شکر کن الفاظ میں ادا کیا جائے کہ پاکستان نے بھارت کے طول و عرض اور بحرالکاہل میں اس کے تمام ٹھکانوں کو ایٹمی ہتھیاروں سے نشانہ بنانے کی استعداد کے حامل بیلسٹک میزائل ’’ شاہین تھری‘‘ کو پہلی بار 23مارچ 2016 ء کو یوم پاکستان کے موقع پر مسلح افواج کی پریڈ میں نمائش کے لیے پیش کیا۔ غیرملکی سفارتکار، فوجی قوت کے مظاہرے کو بغور دیکھتے رہے۔ بیلسٹک میزائل شاہین تھری کی موجوگی کو خصوصی طور پر محسوس کیا گیا اور بعض سفارتکاروں کے نزدیک اس میزائل کی نمائش کرکے پاکستان نے کھلا پیغام دیا کہ اب دشمن کا کوئی علاقہ اس کے ان میزائلوں سے محفوظ نہیں جو ایٹمی ہتھیار لے جا سکتے ہیں۔ میزائل دستوں میں غزنوی، ابدالی، بطور خاص نصر میزائل اور کروز میزائل بابر نمایاں تھے۔ پریڈ کے دوران ائر فورس کے اواکس ’’ساب 2000‘‘ نے بھی فلائی پاسٹ میں حصہ لیا جو کامرہ ایئر بیس پر دہشت گردوں کے حملہ میں تباہ ہو گیا تھا لیکن پاکستانی ماہرین نے غیر ملکی امداد کے بغیر طیارے کو مکمل طور پر مرمت کرکے اس کے فضائی آپریشنز شروع کردیئے ہیں۔ پریڈ ایونیو پر پاکستان کی فوجی طاقت و ہیبت کا شاندار مظاہرہ کیا گیا جو یہ واضح کرنے کیلئے کافی تھا کہ پاکستان ، بھارت سمیت کسی بھی ملک کیلئے تر نوالہ نہیں۔ خیال رہے کہ پریڈ میں ایٹمی ہتھیاروں کی نمائش نہیں کی جاتی لیکن ان ہتھیاروں کو ہدف پر داغنے والے تمام میزائل اور طیارے پریڈ کا حصہ تھے۔ قوم نے اس عزم کے ساتھ یوم پاکستان منایا کہ ملک سے دہشت گردی اور شدت پسندی کی لعنت کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
موجودہ پاکستان کے اہم محل و قوع ،اس کی جوہری صلاحیت اور اثاثوں کا تحفظ افواج پاکستان کے بہادر اور
دلیر جوان کر رہے ہیں ۔ پاکستان کی جوہری اہلیت پرامن مقاصد کے لئے ہے۔ قیام پاکستان کے پہلے 23 برسوں میں بھارت پاکستان پر 4 مرتبہ حملہ آور ہوا لیکن 1974ء میں جب حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لائق رشک ایثار، تعاون اور اہلیت سے کام لینے کا عزم کر کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی داغ بیل ڈالی تو تب سے اب تک42 برس گزر چکے ہیں اور ’’بھر پور مواقع‘‘ کے باوجود بھارت کو کبھی پاکستانی زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں ہوئی۔28 مئی 1998 ء کو بھارت نے پوکھران کے مقام پر 13 مئی 1998ء کو کئے جانے والے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اُن کے ساتھی سائنسدانوں نے چاغی کے مقام پر 6 ایٹمی دھماکوں کا تجربہ کیا۔ اس تجربہ کا بنیادی مقصد دشمنانِ پاکستان پر یہ واضح کرنا تھا کہ پاکستان خطے کا ایک نا قابل تسخیر ملک ہے اور اسے اب آنے والی صدیوں میں کبھی بھارت کی نومبر 1971ء ایسی برہنہ جارحیت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ اگر پاکستان ایٹمی دھماکے نہ کرتا توبھارت حملے کیلئے تیارتھا، فوج ہے، ایٹمی پروگرام کی محافظ فوج کا عزم صمیم ہے کہ پاکستان کسی بھی ایٹمی اورمیزائل پروگرام کو کبھی منجمد نہیں کرے گا، امریکہ و مغرب پر واضح رہے کہ ایٹمی پروگرام کوئی بندوق نہیں جو غلط ہاتھوں میں چلی جائے۔ یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی جدید ترین ہے، برصغیر کاایک ایک انچ پاکستان کے میزائلوں کی پہنچ میں ہے۔دریں چہ شک کہ بھارت اوراسرائیل مضبوط ، مستحکم اور نا قابلِ تسخیر پاکستان کے دشمن ہیں۔ بھارت ہماراروز اول سے دشمن ہے۔ ہمیں کبھی کسی موقع پر اس کے مذموم اور خطرناک عزائم سے چشم پوشی نہیں کرنا چاہیے ۔بلکہ ہمیں ہر لحظہ اس سے محتاط اور چوکنا رہنا چاہیے۔عوامی حلقوں کی خواہش ہے کہ علاقہ میں کشیدگی کم ہونے کے باوجود حکومت پاکستان اپنی دفاعی ضروریات اور حربی تیاریوں میں کمی نہ کرے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ایسا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ہر قیمت پر برقرار رکھاجائے کیونکہ یہ ہماری قومی سلامتی کا ضامن اور اہم ترین مفاد ہے، اس پر کسی بھی قیمت پر عوام سمجھوتے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کی دفاعی ضروریات محض روایتی ہتھیاروں سے پوری نہیں کی جاسکتیں ۔اس دور میں جبکہ بھارت نے جنوب مشرقی ایشیا میں اسلحی بالادستی کے وکٹری سٹینڈ پر کھڑے ہونے کیلئے خطرناک اور مہلک ترین اسلحے کی اندھا دھند دوڑ شروع کر رکھی ہے ، پاکستان کیلئے بھی ناگزیر ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں اور سٹریٹجک تنصیبات کے دفاع اور تحفظ کیلئے اپنی ایٹمی صلاحیت میں اضافہ کرتا رہے ۔ کون نہیں جانتا کہ بھارت روایتی اسلحے اور فوج کے لحاظ سے پاکستان سے پانچ گنا زیادہ بڑی طاقت ہے۔ لیکن امریکہ نے اسے اپنا گلوبل پارٹنر اور سول نیوکلیئر اتحادی بنا رکھا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی ایٹمی معاہدوں سی ٹی بی ٹی، این پی ٹی اور ایف ایم سی ٹی میں سے ہر ایک معاہدے پر دستخط کر کے امریکہ ان کی توثیق کیوں نہیں کرتااور چھوٹے ممالک پر دباؤ کیوں ڈالا جاتا ہے۔ اگر پاکستان اپنے غیر روایتی ہتھیار بنانے کی اہلیت بامر مجبوری بڑھا رہا ہے تو بھارت بھی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے تحت پاکستان پر پیشگی حملے کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ پاکستان کے میزائل پروگرام پر اصل تکلیف اسرائیل کو ہے اور وہ پاکستان کی میزائل سازی کی تکنیک اور ایٹمی صلاحیت کے خلاف لابنگ کے لئے رات دن ایک کئے ہوئے ہے۔ پاکستان کو خطے میں صرف بھارت ہی سے خطرات نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی غیرعلانیہ جوہری ریاست جس کے پاس 200 کے قریب ایٹمی وار ہیڈز ہیں ، سے بھی خطرہ ہے۔وطن عزیز کا جوہری توانائی پروگرام صرف اور صرف ارض پاک ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے جملہ شہریوں کی نگاہوں میں انتہائی وقعت اور اہمیت رکھتا ہے۔ آئیے آج یوم تکبیر کے موقع پر ذوالفقار علی بھٹو ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم ، افواج پاکستان ،جناب مجید نظامی،قاضی حسین احمد مرحوم ، محترمہ بے نظیر بھٹو اور اس دور کے وزیر اعظم نواز شریف کو بھی اس عظیم کارنامے پر سلام پیش کریں۔


ای پیپر