ہمارا کردار اور گورنمنٹ کالج
27 مئی 2018 2018-05-27

پاکستان ایک آزاد معاشرہ ہے۔ یہاں قدیم اور جدید دونوں روایات پائی جاتی ہیں۔ لوگ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور تاریخی پس منظر رکھنے کے باوجود معمولات زندگی میں مصروف ہیں۔ وسائل کی کمی کے باوجود زندگی کا پہیہ چل رہا ہے۔ مسائل کسی معاشرے میں نہیں ہوتے؟ طاقت کا بے دریخ استعمال اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے ہمارے معاشرہ میں عدم برداشت کا کلچرل متعارف کروا دیا ہے۔ بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت جیسے وصف کتابوں کہانیوں تک ہی محدود ہو گئے ہیں۔ اساتذہ کی تعظیم معدوم ہو چکی ہے۔ ہر شخص ایک دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ نام ، پیسہ اور مقام مرتبہ کی دوڑ۔۔۔ عفو و در گزر اور بھائی چارے کی فضا گرد آلود ہو رہی ہے۔
خیر عدم برداشت کے ناسور سے کون سا معاشرہ محفوظ ہے ؟ ہمارا شمار تو ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ اس لعنت سے تو ترقی یافتہ ممالک بھی نہیں بچ سکے۔ لیکن وہاں ایک معتدل نظام ہے جس پر عمل کرتے ہوئے ان جیسے مسائل پر قابو پایا جا رہا ہے۔
قابل مذمت بات تو یہ ہے کہ جس مذہب کے نام پر وطن عزیز کی بنیاد رکھی گئی، وہ دین ہمیں رواداری ، برداشت، اور درگزر کا درس دیتا ہے۔ دلائل سے اپنا مؤقف بیان کرنے اور دوسروں کو ان کی بات مکمل بیان کرنے کا موقع دینا دین اسلام کا حسن ہے۔ لیکن نہ تو یہ ظرف کہیں عوام میں نظر آتا ہے اور نہ ہی سیاسی و سماجی رہنماؤں کے کہیں قریب سے بھی گزرتا ہے۔ عوام کو مسائل میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ وہ اگر زیادتی بھی کر جائیں تو گراں نہیں گزرتا بلکہ کئی بار تو زیادتی کرنا زیادتی معلوم ہی نہیں ہوتا۔قوم کو تقسیم در تقسیم کر دیا گیا ہے۔ مذہب، قومیت، انسانیت، طاقت، غربت اور سیاست کے نام پر تقسیم کہ ہر شخص دوسرے سے بے زار اور لڑنے کو پھرتا ہے۔ مہذب معاشرے میں کم از کم ان مسائل کی تشخیص کی جا چکی ہے۔ اب ہل کی جانب سفر کر رہے ہیں جبکہ ہم ابھی تک انہیں گتھیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔
قوم کو سنوارنے کا کام جن رہنماؤں نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ وہ بھی تو کسی سے کم نہیں ہیں۔ آئے دن اوئے توئے، گالم گلوچ ، مکوں ، گھونسوں، مارنے گھسیٹنے ، جوتا دکھانے اور تھپڑوں کی نمائش سے قوم اور کیا سیکھے گی؟ روز رات کو مختلف ٹی وی پروگرامز میں جو بد اخلاقی اور عدم برداشت کا درس دیا جا تا ہے۔ کون اس سے ناواقف ہے؟ حالات حاضرہ کے پروگرامز میں سیاسی و سماجی رہنماؤں کا آپس میں اختلاف کرتے ہوئے حدود سے تجاوز کر جانا معمول بن چکا ہے۔ عوامی حمایت حاصل کرنے کے چکر میں عوام کے سامنے بے عزت ہوتے ہیں۔ ان خود ساختہ رہنماؤں کو تو خود رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔ یہ قوم کی کیا خاک رہنمائی کریں گے۔
اخلاقی حدود تو کیا ہم تو قانونی قیود بھی خاطر میں نہیں لاتے بلکہ قانون توڑنا تو ہمارے نزدیک قابل رشک عمل ہے۔ ہم قانون کی خلاف ورزی کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں اور اگر قانون پر عمل کروانے والا کوئی سپاہی آئے تو غصہ اور اگر کوئی افسر آئے تو اپنی شان سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ معاملات حل کرنے کی کامیاب یا ناکام کوشش کرتے ہیں۔
ہمارے اداروں اور رہنماؤں کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔ وگرنہ عوام کو وہی رویہ اختیار کرے گی جو ان لوگوں سے سیکھے گی اور کئی بار یہ خود اپنی ہی دی ہوئی تعلیمات کی نظر ہوں جائیں گے بلکہ ہو بھی چکے ہیں۔ جامعہ نعیمیہ میں نواز شریف کو جوتا پڑا، عمران خان پر جوتا اچھالا گیا، دوران تقریر خواجہ آصف کے منہ پر سیاہی پھینک دی گئی، پرویز رشید کو جوتا دکھایا گیا، اسحاق ڈار کو لندن کی گلیوں میں بے عزت کیا گیا، حسن نواز اور حسین نواز کو لندن کے بازاروں میں ذلیل کیا گیا۔ یہاں تک کہ موجودہ وزیر داخلہ احسن اقبال کو گولی مار کر زخمی بھی کیا جا چکا ہے۔ یہ وہی عوامی رد عمل ہے جو آپ رہنما، عوام کو سکھا رہے ہیں۔
عوامی عدالت کو نعرے لگانے والوں کو عوام کی عدالت میں جانے سے پہلے سوچنا ہو گا کہ آپ نے عوام کو کیا دیا ہے؟ کیا آپ نے عوامی مسائل حل کر دیے ہیں؟ اگر نہیں تو عوام کے اس جارحانہ رویے کے لیے بھی تیار رہیں۔ یہ رویہ قابل ہمدردی ہے کہ کوئی شخص کسی کو ذلیل کرے لیکن یہ رویہ بھی قابل مذمت ہے کہ چند خاندان نسلوں کے نسلیں سنوار لیں اور عوام کا کوئی پرسان حال نہ ہو۔ عوام غربت کی لکیر سے کہیں نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں اور سیاسی بدمست ہاتھی کرپشن کے مال پر عیاشی کریں۔ آپ کو خود بدلنا ہو گا کہ آپ کے ساتھ یہ نا روا سلوک نہ برتا جائے ورنہ یہ غریب لوگ تو اسی طرح اپنی آواز اُٹھاتے رہیں گے۔
***
گورنمنٹ کالج لاہور 154 سالہ تاریخ رکھتا ہے۔ اس ادارے نے کئی نامور شخصیات پیدا کیں جن میں سب سے بڑا نام شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کا ہے۔ گورنمنٹ کالج سے فارغ التحصیل طلباء و طالبات نے اولڈ راوئنز ایسوسی ایشن کے نام سے ایک تنظیم قائم کر رکھی ہے۔ اس تنظیم کے تحت ہر سال ایک شاندار عشائیہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری اولڈ راوئنز ایسوسی ایشن لاہور کے جنرل سیکرٹری شہباز احمد شیخ نبھاتے ہیں۔
اس سال بھی سالانہ عشائیہ کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت ماہر قانون اور اولڈ راوئنز ایسوسی ایشن لاہور کے صدر ایس ایم ظفر نے کی جبکہ ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مہمان خصوصی اور گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ مہمان اعزاز کے طور پر موجود تھے۔ مہمانان گرامی میں ذوالفقار چیمہ ، ڈاکٹر خلیل الرحمان ، خالد عباس ڈار، ڈاکٹر اجمل خان نیازی، عثمان پیر زادہ اور کمال اشرف سمیت کئی علمی و ادبی سیاسی و سماجی اور کاروباری شخصیات شامل تھی۔
تقریب میں معروف راوئنز ، ذوالفقار چیمہ کو ان کی ملکی خدمات پر ڈاکٹر نذیر اکسی لینسی ’’ ایوارڈ ‘‘ جناب ممتاز شیخ کو سہ ماہی ’’لوح‘‘ کے مدیر کے حیثیت سے ’’ پطرس‘‘ بخاری اکسیلینسی ایوارڈ، عرفان اقبال شیخ کو لیڈنگ بزنس مین ایوارڈ قائم فیروز کو بہترین بینکر جبکہ سید شاہد علی کو لیڈنگ صنعتکار کے اعزازات سے نوازا گیا۔
اختتام پر شازیہ منظور نے سدا بہار گانوں سے سماں باندھ دیا۔ محترم شہباز احمد شیخ کی کاوشوں کو جتنا سراہا جائے کم ہو گا کہ وہ گورنمنٹ کالج کے گزرے ہوئے زمانے کی یادوں کو دہرانے کے لیے سب کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کا بہانہ دیتے ہیں۔


ای پیپر